پاکستانی طلبہ کی خلا میں دلچسپی: جب کراچی کے بچوں کے سوالات کے جوابات خود خلابازوں کو دینا پڑے

پاکستان، خلاباز

،تصویر کا ذریعہCHRIS HADFIELD/TWITTER

ایک لمحے کے لیے یاد کریں۔ جب آپ چوتھی جماعت میں پڑھ رہے تھے تو آپ کی خیالی دنیا میں روزانہ کی بنیاد پر کیا سوال جنم لیتے تھے۔

جیسے اگر محمد علی جناح نے پاکستان بنایا تو کیا انھوں نے ایسا اپنے ہاتھوں سے اینٹیں جوڑ کر کیا؟ یا ٹی وی پر ہم لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں تو انھیں چھو کیوں نہیں سکتے۔ ایسے سوالات عام طور پر ہمارے ذہنوں میں ہی قید رہ جاتے تھے اور ہم اکثر کسی گانے کے غلط بول ہی گنگناتے ہوئے بڑے ہو جاتے تھے۔

لیکن کراچی کے ایک سکول میں چوتھی جماعت کے طلبہ کو نہ صرف خلا سے متعلق سوالات کے جوابات مل گئے ہیں بلکہ یہ جوابات خود خلابازوں اور جرمن خلائی مرکز کو دینا پڑے۔

یہ بھی پڑھیے

تو ہوا کچھ یوں کہ گذشتہ روز کراچی سے تعلق رکھنے والی ایمن فیصل نے چوتھی جماعت کے طلبہ کی تصویر کے ساتھ ان کے خلا سے متعلق چند سوالات کی تصویر لگائی اور ساتھ ہی امریکی خلائی ادارے ناسا کے علاوہ متعدد خلابازوں اور خلائی اداروں کو ٹیگ کر کے ان سے جوابات کی درخواست بھی کی۔

پاکستانی بچوں کو ’خلا سے‘ جواب مل گئے

کراچی کے کارنرسٹون سکول کے چھ طلبہ نے خلا سے متعلق سوالات ایک خط کی صورت میں لکھے۔ انھوں نے لکھا کہ ’ہم اپنی کتابوں میں آپ کا ذکر سنتے آئے ہیں اور خلا میں آپ کے کارناموں سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔

’ہمیں آپ کے کام کو سراہتے ہیں اور ہمارے اس موضوع پر آپ سے کچھ سوالات ہیں۔‘

دس سالہ علیشا نے سوال کیا کہ ’ایک خلائی گاڑی میں کون سا ایندھن بھرا جاتا ہے؟‘

ایمن

،تصویر کا ذریعہTwitter/@bluemagicboxes

دس سالہ مناہل پوچھتی ہیں کہ ’ناسا کا حصہ بننے کے لیے مجھے کیا پڑھنا پڑے گا؟‘ نو سالہ ہانیہ نے پوچھا کہ ’کیا یہ سچ ہے کہ سیارے مشتری میں ہیروں کی برسات ہوتی ہے؟‘

نو برس کی ماہ رخ نے سوال کیا کہ ’جب آپ ایک خلا گاڑی میں خلا کی جانب سفر کا آغاز کرتے ہیں تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟‘

اسی طرح عنابیہ نے پوچھا کہ خلا میں اب تک آپ کی دلچسپ ترین ایجاد کیا ہے، دس سالہ ریان نے پوچھا کہ ’کیا آپ کو ڈر لگتا ہے کہ کہیں آپ کی خلاگاڑی گم نہ ہو جائے۔‘

آخر میں ان بچوں نے یہ بھی لکھا کہ ’ہمیں آپ کے جواب کا شدت سے انتظار رہے گا اور کیا ہم کبھی ناسا کا دورہ کر سکتے ہیں؟‘

بچوں کو یہ خیال کیسے آیا؟

ایسا ان کی استانی کی جانب سے کی گئی ایک کاوش کے باعث ہوا ہے جو ان کی ’پسندیدہ‘ ہیں اور اب ان طلبہ کو یقین ہی نہیں آ رہا کہ یہ کیسے ہو گیا۔

ان بچوں کی تصاویر اور ان کے معصومانہ سوالات کو دیکھ کر اکثر ٹوئٹر صارفین نے نہ صرف اسے ری ٹویٹ کرنا شروع کر دیا بلکہ خلابازی سے منسلک افراد کو بھی ٹیگ کیا۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@bluemagicboxes

اکثر صارفین نے انٹرنیٹ پر اس خوبصورت لمحے سے محظوظ ہوتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا اور یوں ایسے طلبہ جن کی رسائی ٹوئٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا تک تھی ہی نہیں، ٹوئٹر صارفین کی خوشی کا سامان بنے۔

تاہم یہ خط پڑھتے وقت ان کا ردِ عمل کے بارے پڑھ کر یقیناً آپ کے چہروں پر بھی مسکراہٹ آ جائے گی۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@bluemagicboxes

ایمن فیصل کی جانب سے اپنے ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعے وعدے کے مطابق بچوں کے ردِ عمل کے بارے میں بھی ٹویٹ کیا گیا۔

انھوں نے سب سے پہلے بچوں کو لفافوں میں جوابات رکھ کر دیے۔ ان لفافوں پر ان بچوں کے نام درج تھے۔ انھوں نے لکھا کہ میں ایسے بچوں کے لیے بھی خط لکھے جنھوں نے سوالات نہیں بھیجے تھے۔

ایمن نے بتایا کہ جب میں کلاس میں داخل ہوئی اور بچوں کو یہ بتایا کہ ناسا کی جانب سے جواب آیا ہے تو پوری کلاس میں خاموشی چھا گئی۔

پھر جب انھوں نے خطوط تقسیم کرنا شروع کیے تو بچوں کی جانب سے سرگوشیاں بھی ہونے لگیں، 'کیا ہم سب کو علیحدہ خط بھیجے گئے ہیں؟'

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@bluemagicboxes

خط پر ایمن نے اپنی لکھائی میں بچوں کے نام درج کیے تھے تو عنابیہ نے کہا کہ 'یہ ناسا کی طرف سے نہیں بلکہ ٹیچر کی اپنی لکھائی ہے۔' تاہم جب انھیں اپنا خط کھولنے کا کہا گیا تو ایک مرتبہ پھر خاموشی چھا گئی۔

انھوں نے لکھا کہ خط دیکھ کر ہانیہ کا منھ کھلا کا کھلا رہ گیا اور وہ کچھ دیر اسے گھورتی رہیں۔ علیشا اپنے خط کو دیکھ کر مسکراتی رہیں، جبکہ ریان کو ابھی تک یقین نہیں آیا۔

وہ کہنے لگے کہ 'مس ایک دن میں کیسے، مس سچ بتائیں، مس سچ میں خلا سے جواب آیا ہے؟ مس یہ سچ میں خلاباز ہیں؟ ایک دن میں جواب دے دیا؟

کرس ہیڈفیلڈ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Cmdr_Hadfield

جوابات دینے والے خلاباز کون ہیں؟

یہ سوالات جب ایمن فیصل کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے شیئر کیے گئے تو انھوں نے لکھا ان چوتھی جماعت کے طلبا کے آپ کے لیے کچھ سوالات ہیں۔

کینیڈا سے تعلق رکھنے والے خلاباز کرس ہیڈفیلڈ نے ماہ رخ اور ریان کے سوالات کے جوابات دیے اور ریان کو تو خلا سے کھینچی گئی کراچی کی تصویر بھی دکھائی گئی اور کہا گیا کہ ’آپ اس تصویر میں اپنا سکول ڈھونڈ سکتے ہیں؟‘

کرس ہیڈفیلڈ دراصل وہ خلاباز ہیں جو 1994 میں خلا میں جانے والے پہلے کینیڈین بن گئے تھے۔ وہ عالمی خلائی ادارے کے پہلے کینیڈین کمانڈر بھی رہے اور وہ تین کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔

ان کے علاوہ جرمنی کے خلائی مرکز ڈی ایل آر نے بھی ان بچوں کے تمام سوالوں کے جواب دیے جو انھوں نے ادارے سے منسلک دو سائنسدانوں کی مدد سے حاصل کیے تھے۔

ایملی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@thespacegal

ان کے علاوہ نیٹ فلکس پر سائنس شو ایملیز وانڈر لیب کی میزبان ایملی کیلینڈرالی نے بھی بچوں کے سوالات کے مفصل جوابات دیے۔

انھوں نے ماہ رخ کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ایک دفعہ ایک رولر کوسٹر میں خلاباز جان میکبرائڈ کے ساتھ بیٹھی تھی اور انھوں نے مجھے بتایا کہ ایک خلا گاڑی میں سفر کا آغاز کرنا بھی تقریباً ایسا ہی ہوتا ہے۔

اظہر

،تصویر کا ذریعہTwiiter/tahaazher

ان بچوں کے ان سوالات کو سوشل میڈیا وی سائٹ ’ریڈ اٹ‘ پر بھی شیئر کیا گیا اور اس کے جواب میں ناسا میں کام کرنے والے ایک شخص کی جانب سے مفصل جوابات بھی دیے گئے اور کورونا وائرس کی عالمی وبا کے خاتمے کے بعد ناسا آنے کی دعوت بھی دی گئی۔

انٹرنیٹ پر اس خوبصورت لمحے کو دیکھتے ہوئے متعدد صارفین نے ان بچوں اور ان کی استانی کو سراہا اور ان کے لیے محبت بھرے پیغامات بھی بھیجے۔

مناہل

،تصویر کا ذریعہTwitter/@minahilmehdi

ایک صارف مناہل مہدی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ایک ایسی ویب سائٹ پر جہاں عام طور پر لوگ نفرت ہی پھیلاتے ہیں، اجنبی لوگوں کی جانب سے ایمن کے لیے محبت ہی آج کی ضرورت ہے۔

مریم نامی ایک صارف نے لکھا کہ ہم سب بھی چوتھی جماعت کے ان طلبہ کے ذریعے اپنے خلا سے متعلق خواب جی رہے ہیں۔ ایک صارف نے یہ بھی لکھا کہ یہ اب تک انٹرنیٹ پر میرا سب سے بہترین لمحہ ہے۔