آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستانی طلبہ کی خلا میں دلچسپی: جب کراچی کے بچوں کے سوالات کے جوابات خود خلابازوں کو دینا پڑے
ایک لمحے کے لیے یاد کریں۔ جب آپ چوتھی جماعت میں پڑھ رہے تھے تو آپ کی خیالی دنیا میں روزانہ کی بنیاد پر کیا سوال جنم لیتے تھے۔
جیسے اگر محمد علی جناح نے پاکستان بنایا تو کیا انھوں نے ایسا اپنے ہاتھوں سے اینٹیں جوڑ کر کیا؟ یا ٹی وی پر ہم لوگوں کو دیکھ سکتے ہیں تو انھیں چھو کیوں نہیں سکتے۔ ایسے سوالات عام طور پر ہمارے ذہنوں میں ہی قید رہ جاتے تھے اور ہم اکثر کسی گانے کے غلط بول ہی گنگناتے ہوئے بڑے ہو جاتے تھے۔
لیکن کراچی کے ایک سکول میں چوتھی جماعت کے طلبہ کو نہ صرف خلا سے متعلق سوالات کے جوابات مل گئے ہیں بلکہ یہ جوابات خود خلابازوں اور جرمن خلائی مرکز کو دینا پڑے۔
یہ بھی پڑھیے
تو ہوا کچھ یوں کہ گذشتہ روز کراچی سے تعلق رکھنے والی ایمن فیصل نے چوتھی جماعت کے طلبہ کی تصویر کے ساتھ ان کے خلا سے متعلق چند سوالات کی تصویر لگائی اور ساتھ ہی امریکی خلائی ادارے ناسا کے علاوہ متعدد خلابازوں اور خلائی اداروں کو ٹیگ کر کے ان سے جوابات کی درخواست بھی کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی بچوں کو ’خلا سے‘ جواب مل گئے
کراچی کے کارنرسٹون سکول کے چھ طلبہ نے خلا سے متعلق سوالات ایک خط کی صورت میں لکھے۔ انھوں نے لکھا کہ ’ہم اپنی کتابوں میں آپ کا ذکر سنتے آئے ہیں اور خلا میں آپ کے کارناموں سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔
’ہمیں آپ کے کام کو سراہتے ہیں اور ہمارے اس موضوع پر آپ سے کچھ سوالات ہیں۔‘
دس سالہ علیشا نے سوال کیا کہ ’ایک خلائی گاڑی میں کون سا ایندھن بھرا جاتا ہے؟‘
دس سالہ مناہل پوچھتی ہیں کہ ’ناسا کا حصہ بننے کے لیے مجھے کیا پڑھنا پڑے گا؟‘ نو سالہ ہانیہ نے پوچھا کہ ’کیا یہ سچ ہے کہ سیارے مشتری میں ہیروں کی برسات ہوتی ہے؟‘
نو برس کی ماہ رخ نے سوال کیا کہ ’جب آپ ایک خلا گاڑی میں خلا کی جانب سفر کا آغاز کرتے ہیں تو آپ کو کیسا محسوس ہوتا ہے؟‘
اسی طرح عنابیہ نے پوچھا کہ خلا میں اب تک آپ کی دلچسپ ترین ایجاد کیا ہے، دس سالہ ریان نے پوچھا کہ ’کیا آپ کو ڈر لگتا ہے کہ کہیں آپ کی خلاگاڑی گم نہ ہو جائے۔‘
آخر میں ان بچوں نے یہ بھی لکھا کہ ’ہمیں آپ کے جواب کا شدت سے انتظار رہے گا اور کیا ہم کبھی ناسا کا دورہ کر سکتے ہیں؟‘
بچوں کو یہ خیال کیسے آیا؟
ایسا ان کی استانی کی جانب سے کی گئی ایک کاوش کے باعث ہوا ہے جو ان کی ’پسندیدہ‘ ہیں اور اب ان طلبہ کو یقین ہی نہیں آ رہا کہ یہ کیسے ہو گیا۔
ان بچوں کی تصاویر اور ان کے معصومانہ سوالات کو دیکھ کر اکثر ٹوئٹر صارفین نے نہ صرف اسے ری ٹویٹ کرنا شروع کر دیا بلکہ خلابازی سے منسلک افراد کو بھی ٹیگ کیا۔
اکثر صارفین نے انٹرنیٹ پر اس خوبصورت لمحے سے محظوظ ہوتے ہوئے اپنے خیالات کا اظہار بھی کیا اور یوں ایسے طلبہ جن کی رسائی ٹوئٹر اور انٹرنیٹ کی دنیا تک تھی ہی نہیں، ٹوئٹر صارفین کی خوشی کا سامان بنے۔
تاہم یہ خط پڑھتے وقت ان کا ردِ عمل کے بارے پڑھ کر یقیناً آپ کے چہروں پر بھی مسکراہٹ آ جائے گی۔
ایمن فیصل کی جانب سے اپنے ٹوئٹر ہینڈل کے ذریعے وعدے کے مطابق بچوں کے ردِ عمل کے بارے میں بھی ٹویٹ کیا گیا۔
انھوں نے سب سے پہلے بچوں کو لفافوں میں جوابات رکھ کر دیے۔ ان لفافوں پر ان بچوں کے نام درج تھے۔ انھوں نے لکھا کہ میں ایسے بچوں کے لیے بھی خط لکھے جنھوں نے سوالات نہیں بھیجے تھے۔
ایمن نے بتایا کہ جب میں کلاس میں داخل ہوئی اور بچوں کو یہ بتایا کہ ناسا کی جانب سے جواب آیا ہے تو پوری کلاس میں خاموشی چھا گئی۔
پھر جب انھوں نے خطوط تقسیم کرنا شروع کیے تو بچوں کی جانب سے سرگوشیاں بھی ہونے لگیں، 'کیا ہم سب کو علیحدہ خط بھیجے گئے ہیں؟'
خط پر ایمن نے اپنی لکھائی میں بچوں کے نام درج کیے تھے تو عنابیہ نے کہا کہ 'یہ ناسا کی طرف سے نہیں بلکہ ٹیچر کی اپنی لکھائی ہے۔' تاہم جب انھیں اپنا خط کھولنے کا کہا گیا تو ایک مرتبہ پھر خاموشی چھا گئی۔
انھوں نے لکھا کہ خط دیکھ کر ہانیہ کا منھ کھلا کا کھلا رہ گیا اور وہ کچھ دیر اسے گھورتی رہیں۔ علیشا اپنے خط کو دیکھ کر مسکراتی رہیں، جبکہ ریان کو ابھی تک یقین نہیں آیا۔
وہ کہنے لگے کہ 'مس ایک دن میں کیسے، مس سچ بتائیں، مس سچ میں خلا سے جواب آیا ہے؟ مس یہ سچ میں خلاباز ہیں؟ ایک دن میں جواب دے دیا؟
جوابات دینے والے خلاباز کون ہیں؟
یہ سوالات جب ایمن فیصل کے ٹوئٹر اکاؤنٹ کے ذریعے شیئر کیے گئے تو انھوں نے لکھا ان چوتھی جماعت کے طلبا کے آپ کے لیے کچھ سوالات ہیں۔
کینیڈا سے تعلق رکھنے والے خلاباز کرس ہیڈفیلڈ نے ماہ رخ اور ریان کے سوالات کے جوابات دیے اور ریان کو تو خلا سے کھینچی گئی کراچی کی تصویر بھی دکھائی گئی اور کہا گیا کہ ’آپ اس تصویر میں اپنا سکول ڈھونڈ سکتے ہیں؟‘
کرس ہیڈفیلڈ دراصل وہ خلاباز ہیں جو 1994 میں خلا میں جانے والے پہلے کینیڈین بن گئے تھے۔ وہ عالمی خلائی ادارے کے پہلے کینیڈین کمانڈر بھی رہے اور وہ تین کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔
ان کے علاوہ جرمنی کے خلائی مرکز ڈی ایل آر نے بھی ان بچوں کے تمام سوالوں کے جواب دیے جو انھوں نے ادارے سے منسلک دو سائنسدانوں کی مدد سے حاصل کیے تھے۔
ان کے علاوہ نیٹ فلکس پر سائنس شو ایملیز وانڈر لیب کی میزبان ایملی کیلینڈرالی نے بھی بچوں کے سوالات کے مفصل جوابات دیے۔
انھوں نے ماہ رخ کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں ایک دفعہ ایک رولر کوسٹر میں خلاباز جان میکبرائڈ کے ساتھ بیٹھی تھی اور انھوں نے مجھے بتایا کہ ایک خلا گاڑی میں سفر کا آغاز کرنا بھی تقریباً ایسا ہی ہوتا ہے۔
ان بچوں کے ان سوالات کو سوشل میڈیا وی سائٹ ’ریڈ اٹ‘ پر بھی شیئر کیا گیا اور اس کے جواب میں ناسا میں کام کرنے والے ایک شخص کی جانب سے مفصل جوابات بھی دیے گئے اور کورونا وائرس کی عالمی وبا کے خاتمے کے بعد ناسا آنے کی دعوت بھی دی گئی۔
انٹرنیٹ پر اس خوبصورت لمحے کو دیکھتے ہوئے متعدد صارفین نے ان بچوں اور ان کی استانی کو سراہا اور ان کے لیے محبت بھرے پیغامات بھی بھیجے۔
ایک صارف مناہل مہدی نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ایک ایسی ویب سائٹ پر جہاں عام طور پر لوگ نفرت ہی پھیلاتے ہیں، اجنبی لوگوں کی جانب سے ایمن کے لیے محبت ہی آج کی ضرورت ہے۔
مریم نامی ایک صارف نے لکھا کہ ہم سب بھی چوتھی جماعت کے ان طلبہ کے ذریعے اپنے خلا سے متعلق خواب جی رہے ہیں۔ ایک صارف نے یہ بھی لکھا کہ یہ اب تک انٹرنیٹ پر میرا سب سے بہترین لمحہ ہے۔