ابصار عالم پر فوج کے خلاف اکسانے کا مقدمہ، آرٹیکل چھ کے تحت مقدمے کی درخواست

پنجاب پولیس نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے سابق چیئرمین ابصار عالم پر پاکستان فوج کے خلاف اکسانے کا مقدمہ درج کیا ہے جبکہ ان کے خلاف آرٹیکل چھ کے تحت سنگین غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست بھی دی گئی ہے تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سنگین غداری کا مقدمہ صرف وفاقی حکومت کی مدعیت میں ہی درج کیا جا سکتا ہے۔
ایڈووکیٹ عمران شفیق نے بی بی سی کو بتایا کہ اس ایف آئی آر میں ایسی کوئی تفصیلات نہیں دی گئی ہیں کہ سابق چیئرمین نے کیسے غداری کا ارتکاب کیا یا بغاوت پر اکسانے کی کوشش کی ہے۔ ان کے مطابق ایف آئی آر میں جو دفعات شامل ہیں ان کی اب تک کوئی تفصیلات نہیں دی گئیں کہ کیسے یہ مبینہ جرائم سرزد ہوئے، یہاں تک کہ آرٹیکل چھ کو بھی ایف آئی آر میں جگہ دے دی گئی جس پر صرف وفاقی حکومت ہی کسی کے خلاف شکایت کنندہ بن سکتی ہے۔
عمران شفیق کے مطابق 'پولیس نے محض الزامات کی بنیاد پر ہی مقدمہ درج کر لیا ہے۔‘
عمران شفیق کے مطابق اس ایف آئی آر میں الیکٹرانک کرائمز (پیکا) کی دفعات بھی شامل کر لی گئی ہیں جبکہ ان دفعات کے تحت ایف آئی اے کو تحقیقات کا اختیار ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر ملزم کی طرف سے شیئر کیے گئے مواد کا جائزہ لے۔
خیال رہے کہ ابصار عالم کے خلاف یہ مقدمہ حکومتی جماعت تحریک انصاف کے حامی انصاف لائرز فورم کے ایک عہدیدار کی درخواست پر دینہ پولیس نے درج کیا ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ ’سابق چیئرمین ابصار عالم نے ٹوئٹر اور دیگر سوشل میڈیا پر افواج پاکستان اور وزیر اعظم پاکستان کے خلاف انہتائی گھٹیا زبان استعمال کی ہے‘۔
انصاف لائرز فورم کے صدر چوہدری نوید احمد ایڈووکیٹ جو کہ جہلم کے رہائشی ہیں کی درخواست پر درج ہونے والی ایف آئی آر میں لکھا گیا ہے کہ یہ سب غداری کے زمرے میں آیا ہے۔
ایف آئی آر میں درج ہے کہ ’افواج پاکستان دنیا کی واحد ایسی فوج ہے جس پر ساری دنیا فخر کرتی ہے‘۔ ایف آئی آر کے مطابق ’میری افواج پاکستان کل بھی زندہ باد اور آج بھی زندہ باد۔‘
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ ابصار عالم نے وزیر اعظم پاکستان کے خلاف بھی ’ہرزہ سرائی کی ہے اور انتہائی نامناسب زبان استعمال کی ہے‘۔
انصاف لائرز فورم سے وابستہ وکیل کی طرف سے ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ ’ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ایماندار اور دیانتدار وزیر اعظم اس قوم کو نصیب ہوا ہے جو دن رات ایک کر کے اس قوم و ملک کی خاطر اقدام کر رہا ہے اور اس ملک کو بحرانوں سے نکالنے کے لیے تگ و دو کر رہا ہے‘۔
تھانہ دینہ کے ایک پولیس اہلکار نے بی بی سی کے شہزاد ملک کو اس مقدمے کے اندراج کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ سابق چیئرمین پیمرا کے خلاف کافی عرصے سے یہ درخواست آئی تھی جسے قانونی رائے کے لیے پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ کو بھیجا گیا تھا اور جب اس درخواست کی بنیاد پر مقدمہ درج کرنے کی رائے پراسیکیوشن نے دی تو پھر ایف آئی آر کا اندراج کیا گیا ہے۔
پولیس کے مطابق مقدے کے اندراج کے بعد اب ملزم ابصار عالم کو تلاش کر کے گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔
ابصار عالم کا موقف
ابصار عالم نے بی بی سی کے اعظم خان کو بتایا کہ وہ اس مقدمے سے متعلق قانونی راستہ ہی اختیار کریں گے۔ ان کے مطابق آگے کے لائحہ عمل سے متعلق وہ اپنے وکیل سے مشاورت کریں گے۔
ابصار عالم کے مطابق وہ آزادی اظہار رائے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور اس کا ہر صورت دفاع کریں گے۔ ان کے مطابق ملک اور آئین نے انھیں جو بنیادی حقوق دیے ہیں وہ ان پر عمل کریں گے۔
ابصار عالم کے مطابق وہ دو سال چیئرمین پیمرا رہے اور اس عرصے میں ان کے خلاف تقریباً 50 ایف آئی آرز درج کی گئیں۔ ان کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے چیئرمین پیمرا کے عہدے پر ان کی تعیناتی کو کلعدم قرار دیا تھا جس فیصلے کے خلاف اپیل ابھی بھی سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔
خیال رہے کہ ابصار عالم چیئرمین پیمرا بننے سے قبل بطور صحافی میڈیا کے مختلف اداروں کے ساتھ منسلک رہے ہیں۔ دو سال چیئرمین پیمرا کے عہدے پر رہنے کے بعد وہ فی الحال کوئی ملازمت نہیں کر رہے ہیں۔ ان کا شمار موجودہ حکومت کے ناقدین میں ہوتا ہے۔










