پیمرا کے چیئرمین ابصار عالم کی تعیناتی کالعدم قرار

Absar Alam, Chairman PEMRA
،تصویر کا کیپشندرخواست گزار کے مطابق ابصار عالم کو چیئرمین پیمرا تعینات کرنے کے لیے دو مرتبہ اخبار اشتہار ‎جاری کیے گئے تھے

پاکستان کے صوبہ پنجاب میں لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کے چیئرمین ابصار عالم کی تعیناتی کالعدم قرار دے دی ہے۔

پیر کو لاہور ہائی کورٹ نے ابصار عالم کی تقرری غیرقانونی قرار دیتے ہوئے 30 روز میں نیا چیئرمین تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔

‎جسٹس شاہد کریم نے منیر احمد کی درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرار دے دیا۔

‏دوسری جانب پیمرا کی جانب سے جاری کردہ ایک مختصر بیان میں بتایا گیا ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد ابصار عالم نے چیئرمین پیمرا کا عہدہ چھوڑ دیا ہے۔

خیال رہے کہ ‎جسٹس شاہد کریم نے 29 نومبر کو دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

درخواست گزار کے مطابق ابصار عالم کو چیئرمین پیمرا تعینات کرنے کے لیے دو مرتبہ اخبار اشتہار ‎جاری کیے گئے تھے، ‎پہلے اشتہار کے مطابق ابصار عالم چیئرمین پیمرا کے عہدے کے لیے تعلیمی معیار پر پورا نہیں اترتے تھے جبکہ ‎ابصار عالم کو تعینات کرنے کے لیے دوبارہ کم تعلیم قابلیت کا اشتہار جاری کیا گیا۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی تھی کہ چیئرمین پیمرا کی تعیناتی کالعدم قرار دی جائے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

چیرمین پیمرا کی تعیناتی سے متعلق کیس ڈیرھ سال سے زائد عرصہ تک زیر سماعت رہا۔

‎وفاقی حکومت کے وکیل نے درخواست گزار کے الزامات کو مسترد کردیا تھا اور اس دوران پیمرا کے وکیل علی گیلانی نے ابصار عالم کی تعیناتی کا ریکارڈ پیش کرنے کے لیے مہلت طلب کی تھی۔

عدالت نے پیمرا کے وکیل کو ریکارڈ پیش کرنے کے حوالے سے مہلت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔

ڈیڑھ سال کیس چلنے کے باوجود چیئرمین پیمرا کی تقرری کا ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔