فوج کے خلاف بغاوت پر اکسانے اور مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام، صحافی بلال فاروقی رہا

،تصویر کا ذریعہTwitter/@bilalfqi
پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیر اعلی کے مشیر مرتضی وہاب کے مطابق صحافی اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر متحرک بلال فاروقی کو رہا کر دیا گیا ہے۔
سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر ان کا کہنا تھا کہ بلال فاروقی کی پولیس ان کے گھر پر چھوڑنے جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق انہیں کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں صحافی اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر متحرک بلال فاروقی کے خلاف پاکستان آرمی کے خلاف بغاوت پر اکسانے اور مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور انھیں ان کے گھر سے حراست میں لے لیا گیا تھا۔
بلال فاروقی انگریزی روزنامے ایکسپریس ٹریبیون کے ساتھ وابستہ ہیں۔
ایڈیشنل آئی جی غلام نبی میمن نے بی بی سی کو بتایا کہ کچھ روز قبل مقدمہ درج کیا گیا تھا اور آج (جمعے کو) بلال فاروقی کو گرفتار کیا گیا تھا۔
بلال فاروقی کے خلاف درج مقدمے کی تفصیلات
بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ڈیفنس تھانے میں جاوید خان ولد احمد خان نامی شخص کی مدعیت میں دائر مقدمے میں مدعی نے الزام عائد کیا ہے کہ وہ لانڈھی میں ایک فیکٹری میں مشین آپریٹر ہیں، 9 ستمبر کو بارہ بجے وہ ڈیفینس ہاؤسنگ اتھارٹی میں فیز ٹو ایکسٹییشن میں ماسٹر جوس میں کسی کام سے گئے تھے اور بارہ بجے کے قریب انھوں ںے اپنا فیس بک اور ٹوئٹر چیک کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کے مطابق انھوں نے بلال فاروقی کے نام سے فیس بک اور ٹوئٹر پر کچھ مواد دیکھا جس پر ’انتہائی اشتعال انگیز‘ پوسٹس تھیں، جن میں ’پاکستان آرمی کے خلاف اور مذہبی منافرت پر مبنی مواد پایا گیا‘۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بلال نے پاکستان ’آرمی سے بغاوت کرنے کا مواد شائع کیا‘ جبکہ وہ پہلے سے ہی ’تواتر سے اشتعال انگیز مواد اور تصاویر شائع کرتے رہے ہیں‘۔
ایف آئی آر کے مطابق بلال نے اپنی پوسٹس کے ذریعے ’پاکستان کی افواج کو بدنام کیا اور یہ پوسٹس وطن دشمن اپنے ناجائز مقاصد کے لیے استعمال کرسکتے ہیں، لہٰذا میں رپورٹ کرنے آیا ہوں قانونی کارروائی کی جائے۔‘
یہ مقدمہ 500 اور 505 پی پی سی کے تحت پاکستان فوج کے خلاف عوام کو بھڑکانے کے الزام میں درج کیا گیا ہے
الزام ثابت ہونے پر اس جرم کی کم از کم سزا دو سال اور جرمانہ ہے۔ ایف آئی آر میں پروینشن آف الیکٹرانک کرائم (پیکا) کی دفعہ 11 اور 2 بھی شامل کی گئی ہیں جس کے تحت فرقہ ورانہ ہم آہنگی کے خلاف نفرت انگیز مواد کی تشہیر ہے جس کی سزا سات سال یا جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہیں۔
بلال فاروقی کی اہلیہ تاشفین فاروقی کا موقف
بلال فاروقی کی اہلیہ تاشفین فاروقی نے بی بی سی کے اعظم خان کو بتایا کہ شام پونے سات بجے کے قریب چار افراد جن میں سے ’دو سادہ کپڑوں میں ملبوس تھے جبکہ دو نے پولیس کا یونیفارم پہن رکھا تھا ان کے گھر آئے اور کہا کہ وہ کوئی سروے کر رہے ہیں۔‘
تاشفین فاروقی کے مطابق اس وقت بلال سوئے ہوئے تھے مگر ان افراد کے اصرار کرنے پر وہ باہر گئے مگر پھر واپس نہیں آئے۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہFacebook/Bilal Farooqi
بلال فاروقی کی اہلیہ تاشفین فاروقی کے مطابق تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد وہ افراد دوبارہ گھر آئے اور بلال کا موبائل مانگا جو گھر پر ہی رہ گیا تھا۔ تاشفین فاروقی کے مطابق انھوں نے موبائل دینے سے انکار کیا اور ان سے پوچھا کہ کیوں وہ اس طرح ان کے خاوند کو لے گئے ہیں۔
ان کے مطابق ’اس کے بعد ان افراد نے دروازے کو دھکا دیا اور زبردستی موبائل چھین کر لے گئے۔‘
تاشفین فاروقی کے مطابق انھوں نے اس موقع پر ان افراد سے لڑائی بھی کی کہ وہ ایسے کیسے زبردستی کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ان افراد نے بلال سے ان کی مختصر بات بھی کرائی۔
تاشفین کے مطابق ’بلال نے مجھے بتایا کہ انھیں ڈیفنس تھانے میں رکھا ہوا ہے بس آپ یہ بات سب کو بتا دینا۔‘
ان کے مطابق ’میں نے ان افراد کو کہا کہ آپ مجھے بھی بلال کے ساتھ لے جائیں تو انھوں نے کہا کہ یہ کرائے کا کوئی معاملہ ہے، جب کارروائی پوری ہوگی تو چھوڑ دیں گے اور یہ آپ عورتوں کا معاملہ نہیں ہے، جس کے بعد میں نے کہا مجھے انسان سمجھیں عورت کا طعنہ نہ دیں۔‘
تاشفین کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے بلال ایک ہفتہ دفتر اور ایک ہفتہ گھر سے کام کرتا تھا۔ یہ ہفتہ ان کا گھر سے کام کرنے کا تھا۔









