عاصم باجوہ کا استعفیٰ منظور نہ ہونے پر مریم نواز کا تبصرہ: ’استعفیٰ منظور کر لیتے تو خود بھی مستعفی ہونا پڑ جاتا‘

،تصویر کا ذریعہPM House
پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے پاکستانی وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ کا استعفیٰ قبول نہ کیے جانے پر کہا ہے کہ اگر (عمران خان) استعفیٰ منظور کر لیتے تو انھیں خود بھی مستعفی ہونا پڑ جاتا۔
یاد رہے کہ وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ نے گذشتہ رات اپنے اس عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ وہ سی پیک اتھارٹی کے چیئرمین کا عہدہ اپنے پاس رکھیں گے۔
تاہم آج جب انھوں نے اپنا استعفیٰ باضابطہ طور پر وزیر اعظم عمران خان کے سامنے پیش کیا تو وزیرِ اعظم نے کہا کہ وہ عاصم باجوہ کی وضاحت سے مطمئن ہیں اس لیے انھیں کام جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
اس پر مسلم لیگ (ن) کی رہنما مریم نواز شریف نے لکھا کہ: 'احتساب کا بیانیہ اپنی موت آپ مر گیا۔ استعفیٰ منظور کر لیتے تو خود بھی مستعفی ہونا پڑ جاتا۔ این آر او کیوں اور کیسے دیا جاتا ہے، کس کو دیا جاتا ہے، ایک دوسرے کو دیا جاتا ہے، قوم کو سمجھانے کا شکریہ۔ جواب تو پھر بھی دینا پڑے گا! اب لو گے احتساب کا نام؟'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عاصم باجوہ نے استعفیٰ کیوں دیا تھا؟
وزیرِاعظم پاکستان کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ نے جمعرات کی شام ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اپنا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا تھا تاہم انھوں نے کہا تھا کہ وہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) اتھارٹی کے سربراہ کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔
عاصم باجوہ نے یہ اقدام اپنے اوپر لگائے جانے والے اُن الزامات کے پس منظر اٹھایا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انھوں نے اپنی اہلیہ کے کاروبار کی تفصیلات بطور مشیرِ اطلاعات اپنے جاری کیے گئے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیں۔
حال ہی میں صحافی احمد نورانی کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ عاصم باجوہ اور ان کے خاندان کے مالی وسائل میں اضافہ عاصم باجوہ کے اہم عہدوں پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ ہوا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
تاہم عاصم باجوہ نے ان تمام الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔ جمعرات کی شام انھوں نے تفصیلی پریس ریلیز میں اپنے پر لگائے گئے الزامات کا تفصیلی جواب دیا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
تاہم اس حوالے سے سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث جاری رہی جس میں کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ عاصم باجوہ کی جانب سے صرف استعفیٰ دیا جانا ناکافی ہے حکام کو ان کی مزید تفتیش کرنی چاہیے۔
دوسری جانب عاصم باجوہ کے حامیوں کی بھی کمی نہیں ہے جو کہ ان کے جواب کو کافی مان رہے ہیں۔
صارف عادل انجم نے سوال اٹھایا ہے کہ جنرل عاصم کی وضاحت کے مطابق ان کے بیٹوں کی کمپنیاں منافع کیوں نہیں دکھا رہیں اور کہیں وہ شیل کمپنیاں تو نہیں ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
صارف سندھو نواز کا کہنا تھا تھا کہ کیا ایک ایسا شخص جس کی ساکھ کے بارے میں سوال اٹھے ہیں، سی پیک اتھارٹی کا سربراہ رہ سکتا ہے؟
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
صارف رانا رمیض رضا کے خیال میں یہ استعفیٰ ایک طاقتور شخص کے خلاف عوامی دباؤ کی ایک مثال اور کامیابی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
عالیہ زہرا کہتی ہیں کہ اگر عاصم باجوہ کرپشن کے الزامات کے حوالے سے مکمل صفائی نہ دے سکے تو اس خیال کو فوقیت ملے گی کہ ملک میں احتساب کی کوششیں جانبدار ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 6
مگر دوسری جانب جنرل عاصم باجوہ کے حامیوں نے بھی سوشل میڈیا پر آواز اٹھائی ہے۔
ایک صارف نعمان سرور نے اس معاملے کو سی پیک کے ساتھ جوڑا اور دعویٰ کیا کہ جب بھی سی پیک میں تیزی آتی ہے تو پاکستانی میڈیا سی پیک حکام پر حملے شروع کر دیتا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 7
جہانزیب ورک کے لیے عاصم باجوہ کی جانب سے دی گئی وضاحت مکمل اور کافی رہی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 8
عاصم سلیم باجوہ کون ہیں؟
نامہ نگار فرحت جاوید کے مطابق جنرل عاصم سلیم باجوہ پاکستانی فوج میں ایک نہایت زیرک افسر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ بریگیڈیئر کے طور پر ٹرپل ون بریگیڈ، منگلا کور میں چیف آف سٹاف، بطور میجر جنرل جی او سی ڈیرہ اسماعیل خان اور پھر جنوبی وزیرستان میں تعینات رہے۔
وہ مئی 2012 میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے عہدے پر تعینات ہوئے اور دسمبر 2016 تک اسی عہدے پر رہے۔
آئی ایس پی آر میں وہ پہلے تھری سٹار افسر تھے جنھوں نے اس عہدے پر تقریباً سوا سال خدمات سرانجام دیں۔
کچھ مدت کے لیے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے انھیں آئی جی آرمز تعینات کیا جس کے بعد وہ بطور کور کمانڈر سدرن کمان تعینات ہوئے۔
سنہ 2014 میں پشاور کے آرمی پبلک سکول حملے کے بعد میڈیا مینیجمنٹ کو خود فوج میں بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے انھیں سی پیک اتھارٹی کا سربراہ مقرر کیا اور اب انھیں معاون خصوصی برائے اطلاعات کا درجہ دیا گیا ہے۔













