وفاقی کابینہ کے معاونین خصوصی و مشیران کے اثاثہ جات کی تفصیل اور سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل

کابینہ

،تصویر کا ذریعہRadioPakistan/Pid_gov

حکومت پاکستان نے وزیر اعظم عمران خان کے معاونین خصوصی اور مشیران کے اثاثوں اور شہریت کی تفصیلات جاری کر دی ہیں جس کے مطابق 15 معاونین خصوصی میں سے سات یا تو دوہری شہریت کے حامل ہیں یا وہ کسی دوسرے ملک کے مستقل رہائشی ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وفاقی وزیر برائے اطلاعات سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ معاونین خصوصی کے اثاثوں اور شہریت کی تفصیلات وزیر اعظم عمران خان کی ہدایت پر جاری کی گئی ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل امریکی گرین کارڈ ہولڈر نکلے جب کہ معاون خصوصی برائے نیشنل سیکیورٹی ڈویژن معید یوسف امریکا کے رہائشی ہیں۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر امریکی شہریت کے حامل ہیں اور معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید ذولفقار عباس بخاری بھی دوہری شہریت رکھتے ہیں اور ان کے پاس برطانوی شہریت ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کابینہ

،تصویر کا ذریعہ@Pid_gov

وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ آئدروس کے پاس کینیڈا کی پیدائشی شہریت ہے اور وہ سنگاپور کی مستقل رہائشی ہیں۔

معاون خصوصی برائے امور توانائی شہزاد سید قاسم بھی امریکا کے شہری ہیں جب کہ اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے پارلیمانی امور ندیم افضل گوندل بھی کینیڈا میں مستقل رہائش کا اسٹیٹس رکھتے ہیں۔

واضح رہے کہ ماضی میں وزیر اعظم عمران خان دوہری شہریت اور بیرون ملک اثاثوں کے حامل اراکین اسمبلی و کابینہ پر تنقید کرتے رہے ہیں۔

تاہم مشیران و معاونین خصوصی کے لیے دوہری شہریت کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ان افراد کے بطور کابینہ رکن ملک کے اہم فیصلوں اور دستاویزات تک رسائی ہوتی ہے جو یہ مفادات کے ٹکراؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

زلفی بخاری

کس کے پاس کتنے اثاثے؟

حکومت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے متعدد معاونین خصوصی اور مشیران ارب پتے ہیں اور ان کے ملک اور بیرون ملک اثاثوں کی ایک طویل فہرست ہے۔

معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر کے اثاثہ جات کی مالیت دو ارب 75 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ ان کی پاکستان کے علاوہ بیرون ملک جائیدادیں ہیں اور وہ بیرون ملک دو درجن سے زائد کمپنیز میں شیئر ہولڈر بھی ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر عشرت حسین بھی ایک ارب 70 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ عشرت حسین امریکا میں 3 جائیدادوں کے بھی مالک ہیں۔

وزیر اعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد ایک ارب 35 کروڑ سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں اور ان کی اہلیہ 40 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کی مالک ہیں۔

جبکہ معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید ذوالفقار عباس بخاری ضلع اٹک میں 1300 کنال سے زائد اراضی کے مالک ہیں جبکہ ان کے پاس اسلام آباد میں 30 سے زائد ایک ایک کنال پلاٹس کی ملکیت بھی ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں 48 لاکھ پاؤنڈز سے زائد کا ایک فلیٹ ہے جبکہ اس میں سوا چار لاکھ پاؤنڈ مالیت کا سامان ظاہر کیا گیا ہے۔ وہ پاکستان سے باہر چھ کمپنیوں میں شیئر ہولڈر ہیں۔

کابینہ

،تصویر کا ذریعہ@pid_gov

اسی طرح مشیر خزانہ حفیظ شیخ بھی 30 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ مشیر خزانہ کے پاس 2 کروڑ کی زرعی اراضی ہے، دبئی میں ان کی اہلیہ کے نام پر 13 کروڑ کا گھر ظاہر کیا گیا ہے۔

وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ نے اپنی آٹھ رہائشی، کمرشل اور زرعی جائیدادوں کی مجموعی قیمت 15 کروڑ روپے سے زائد ظاہر کی ہے۔

جائیدادوں کے علاوہ ان کے خاندانی کاروبار میں 31 لاکھ مالیت کے شیئرز ہیں جو کہ ان کی اہلیہ کے نام ہیں۔ ان کے تین بینک اکاؤنٹس میں دو لاکھ بانوے ہزار کے لگ بھگ پاکستانی روپے جبکہ چار ہزار سے زائد امریکی ڈالر ہیں۔

وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گِل امریکہ کے گرین کارڈ ہولڈر ہیں۔ ان کے اثاثوں کی کُل مالیت 11 کروڑ 85 لاکھ سے زائد جبکہ اُن پر واجبات کی رقم دو کروڑ 42 لاکھ سے زائد ہے۔

شہزاد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے 10 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے ظاہر کیے جب کہ معاون خصوصی ندیم افضل چن ایک کروڑ 21 لاکھ کے مالک ہیں۔

معاونِ خصوصی برائے اسٹیبلیشمنٹ محمد شہزاد ارباب کے اثاثہ جات کی کُل مالیت 12 کروڑ 73 لاکھ ہے۔

معاون خصوصی برائے پاور ڈویژن شہزاد سید قاسم کی پاکستان میں موجود جائیدادوں کی مالیت 97 لاکھ جبکہ امریکہ اور متحدہ عرب امارات میں چھ جائیدادوں کی مالیت لاکھوں ڈالرز میں ہے۔

وہ بہت سی کمپنیوں میں شیئر ہولڈر بھی ہیں جبکہ امریکہ اور متحدہ عرب امارات میں ان کے نصف درجن سے زائد اکاؤنٹ بھی ہیں۔

اسی طرح ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اپنے پاس چھ لاکھ 47 ہزار 853 روپے کی رقم اپنے اکاؤنٹ میں ظاہر کی ہے جبکہ ان کے شوہر غالب نشتر کے نام پر موجود اکاؤنٹس میں ایک کروڑ 41 لاکھ 62 ہزار روپے سے زیادہ کی رقم ہے۔

ان کے پاس کسی دوسرے ملک کی شہریت یا مستقل رہائش نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر ردِ عمل:

وزیر اعظم عمران خان کی وفاقی کابینہ میں موجود معاونین اور مشیران کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آنے پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِ عمل سامنے آ رہا ہے۔

جہاں کئی صارفین ان افراد کے غیر معمولی اثاثے اور دوہری شہریت سامنے آنے پر حیران ہیں اور حکومت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہیں کئی ایسے بھی ہیں جو اس اقدام پر وزیرِ اعظم عمران خان کی تعریف کر رہے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

پاکستان مسلم لیگ کے رہنما حسن اقبال حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں ’یہ مہمان اداکاراؤں کی حکومت ہے جو ملک کو ڈبو کے جہاز پکڑے گی اور گرین کارڈ اور برطانوی پاسپورٹ نکال کر بھاگ جائے گی۔ کابینہ کے اجلاسوں میں بیٹھتے ہیں اور رازداری کا حلف بھی نہیں لے رکھا۔‘

ڈاکٹر عفنان خان کہتے ہیں ’ہمارے ’قومی سلامتی‘ کے مشیر معید یوسف، دوہری شہریت رکھتے ہیں۔ ایک دوہری شہری رکھنے والا دوسرے ملک کے ساتھ وفاداری رکھتا ہے۔ معید یوسف کے پاس اعلیٰ فوجی کمانڈروں اور جی ایچ کیو تک رسائی کے ساتھ پاکستان کے اہم قومی سلامتی کے راز تک رسائی بھی حاصل ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

اس حوالے سے وزیرِ اعظم عمران خان کے ماضی کے ویڈیو کلپس بھی شئیر کیے جا رہے ہیں جن میں ان کا کہنا تھا کہ ’اس بارے میں پاکستان تحریکِ انصاف کا موقف بڑا صاف ہے کہ اگر آپ کے پاس دوسرے ملک کا پاسپورٹ ہے تو آپ کو اسبلی میں نہی بیٹھنا چاہیے کیونکہ جب آپ دوسرے ملک کا پاسپورٹ لیتے ہیں آپ کو اس ملک کے لیے حلف لینا پڑتا ہے۔‘

اسی ویڈیو کلپ میں عمران خان کو کہتے سنا جا سکتا ہے کہ ’میں تو کہتا ہوں کہ جتنے بڑے سیاستدان ہیں جن کے اربوں روپے اور جائیدادیں باہر پڑی ہیں وہ سب بیچ کے پاکستان آئیں۔۔ جن کا جینا مرنا پاکستان میں ہے وہ یہاں سیاست کرے۔‘

ایک اور صارف نے کچھ ایسا ردعمل ظاہر کیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 4

اسی حوالے سے مشیرِ خزانہ حفیظ شیخ کے اثاثہ جات پر تبصرہ کرتے ہوئے صحافی اور اینکر پرسن اقرار الحسن کہتے ہیں ’جن صاحب کا واحد گھر دبئی میں، درجنوں ڈالرز اور درہم اکاؤنٹس میں لاکھوں ڈالرز پاکستان سے باہر جب کہ پاکستان میں صرف پچیس ہزار روپے ہوں، وہ صاحب پاکستان کی معیشت ٹھیک کریں گے؟؟ ‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 5
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 5

محمد بلال نامی صارف پوچھتے نظر آئے کہ دوہری شہریت یا دوہری وفاداری؟

صحافی عمر چیمہ ان افراد کی لسٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’دوسرے ممالک سے پاکستان میں ملازمت کے لیے آنے والے افراد‘

کئی صارفین اس صورتحال کے مزے لیتے نظر آئے جن میں عرفان بھی شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا ’ایک بات ماننی پڑے گی کہ عمران خان نے امریکہ، برطانیہ کینیڈا کے ارب پتیوں کو اپنا نوکر رکھا ہوا ہے۔‘

لیکن جہاں حکومت کے معاونین اور مشیران کے اثاثوں اور دوہری شہریت پر اتنی تنقید ہو رہی ہے وہیں ایسے صارفین بھی ہیں جن کا ماننا ہے کہ معاونین خصوصی اور مشیران کے اثاثوں کی تفصیل عوام کے سامنے لا کر عمران خان نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 6
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 6

اسی جانب اشارہ کرتے عمران لالیکا نامی صارف کہتے ہیں ’معاونین خصوصی کے اثاثے عوام کے سامنے لانا پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ عمران خان ہر وہ کام کر رہے ہیں جس سے ٹرانسپرنسی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘

سپورٹس مین نامی صارف کہتے ہیں ’عمران خان اس نظام کی بنیادیں درست کر رہے ہیں اس پر بننے والی عمارت ملک میں اصل جمہوریت کا باب رقم کرے گی جہاں قانون کے سامنے سب برابر، احتساب، شفافیت اور جوابدہی اولین ترجیح ہو گی۔ کوئی اب یہ نہیں کہہ سکے گا کہ میرے اثاثے میری آمدن سے مطابقت نہیں کھاتے۔‘