حزب اختلاف کی عمران خان کے معاونین خصوصی پر تنقید: ’کیا دوہری شہریت کے لوگ نیا پاکستان بنا رہے ہیں؟‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@PakPMO
پاکستان میں وفاقی حکومت کی کابینہ میں شامل وزیر اعظم کے معاونین خصوصی کے اثاثوں کی تفصیل اور شہریت سے متعلق معلومات شائع ہونے کے بعد حزب مخالف اور ناقدین کی جانب سے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
قومی اسمبلی میں پیر کے اجلاس کے دوران بھی اس موضوع پر بحث متوقع ہے۔
اس دوران وزیر اعظم عمران خان کی ایک پرانے بیان کی ویڈیو سوشل میڈیا پر ایک بار پھر گردش کر رہی ہے۔ کلپ میں انھیں پُرجوش انداز میں کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے: ’ایسے لوگ جو دوہری شہریت اور بیرون ملک اثاثے رکھتے ہیں، وہ پاکسان کے مفادات کا صحیح تحفظ نہیں کر سکتے۔‘
البتہ یہ بیان اس وقت کا ہے جب عمران خان اور ان کی جماعت حزب اختلاف میں ہوا کرتی تھی۔ شاید لوگ وزیر اعظم عمران خان کو ان کے پُرانے بیان یاد کروانا چاہتے ہیں۔ موجودہ وزیر اعظم ان لوگوں میں سے ہیں جو ماضی میں اسے ’مفادات کا ٹکراؤ‘ قرار دے چکے ہیں۔
یہ وزیر اعظم کے معاونین کے اثاثوں کی تفصیلات شائع ہونے کے بعد جنم لینے والی بحث کا حصہ ہے۔ اگرچہ اثاثوں کی تفصیلات شائع ہونے کے بعد سے وزیراعظم یا ان کی کابینہ کی جانب سے سرکاری طور پر اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم سیاسی مخالفین اور نقاد اس میں موجود انکشافات کو لے کر تحریک انصاف کو آڑے ہاتھوں لے رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر آنے والے ردعمل کے بارے میں تو ہم نے آپ کو ہم کل ہی آگاہ کر دیا تھا، اب نظر ڈالتے ہیں اس حوالے سے سامنے آنے والے سیاسی ردعمل کی جانب۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حزب اِختلاف کے اعتراضات
سابق وزیرِ خارجہ اور مسلم لیگ نواز کے سینئر رہنما خواجہ محمد آصف نے غیر ملکی افراد کی کابینہ میں موجودگی پر سوال اٹھاتے ہوئے پوچھا کہ ’اگر غیر ملکی شہری پارلیمان کا رکن نہیں بن سکتا تو وہ کابینہ کا رکن کیونکر ہوسکتا ہے؟‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
اس سے قبل ن لیگی ترجمان مریم اورنگزیب نے مطالبہ کیا تھا کہ ’وزیرِ اعظم غیر ملکی شہریت کے حامل معاونین سے استعفیٰ لیں اور تحریک انصاف کی حکومت سے سوال کیا کہ دوہری شہریت والے 22 کروڑ عوام کی قسمت کے فیصلے کیوں کر رہے ہیں؟‘
سابق وزیر احسن اقبال نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ ’پی ٹی آئی کو 10 شہریتوں کے لوگ بھی معاف ہیں۔ قانون تو دوسروں کے لیے ہے۔‘
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’یہ مہمان اداکاراؤں کی حکومت ہے جو ملک کو ڈبو کے جہاز پکڑے گی اور گرین کارڈ اور برطانوی پاسپورٹ نکال کر بھاگ جائے گی۔ کابینہ کے اجلاسوں میں بیٹھتے ہیں اور رازداری کا حلف بھی نہیں لے رکھا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
اتوار کو اپنے ایک ویڈیو بیان میں پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ ’دوہری شہریت والوں کو کابینہ کا حصہ کیوں اور کس قانون کے تحت بنایا گیا ہے۔‘
’کیا وزیراعظم نے معلوم ہوتے ہوئے دوہری شہریت کے حامل لوگوں کو آئینی فورم کا حصہ بنایا؟‘
ان کا کہنا تھا کہ ’19 غیر منتخب کابینہ ارکان میں 4 معاونین خصوصی دوہری شہریت کے حامل ہیں۔ دوہری شہریت کا حامل شخص رکن پارلیمان نہیں بن سکتا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کے مطابق عمران خان ماضی میں دوہری شہریت کے حامل کابینہ ارکان کی سخت مخالفت کرتے تھے، وزیراعظم نے اپنی ہر بات سے ’یو ٹرن‘ لیا ہے۔ ان کے مطابق ثابت ہو چکا اس حکومت کے پاس کوئی پالیسی اور نظریہ نہیں۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ ’اگر وزیراعظم کو معلوم نہیں تھا تو یہ مزید تشویش کی بات ہے، کیا دوہری شہریت کے لوگ نیا پاکستان بنا رہے ہیں؟ وزیراعظم کو نئے پاکستان کی تعمیر کے لیے بیرون ملک سے کاریگر درآمد کرنے پڑے، کیا ملک اور تحریک انصاف میں قابل لوگوں کی کمی تھی۔‘
سابق رکن پارلیمان بشریٰ گوہر کا کہنا تھا کہ ’بیرون ملک کے شہریوں کو حکومت چلانے کے لیے لایا گیا ہے اور پاکستان کو گروی رکھوا دیا گیا ہے۔ پارلیمان غیر موثر، انصاف کے نام پر دھوکہ اور سیاستدان ہار مان چکے ہیں۔‘
تحریک انصاف کی خیبر پختونخوا میں سابق اتحادی جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق کی جانب سے بھی یہ بیان سامنے آیا ہے کہ یہ بھی علم نہیں ہے کہ غیر منتخب مشیر کس بیرونی ادارے کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ ’پندرہ مشیروں میں سات غیر ملکی شہریت رکھتے ہیں اور امریکی شہری اس حکومت کے لیے سیاسی مشیر ہے۔‘
جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے موقف اختیار کیا کہ ماضی میں ایک منتخب وزیراعظم اقامہ کی بنیاد پر فارغ کر دیا گیا اور کابینہ اجلاس اور اہم قومی امور کے لیے نمائندگی کرنے والے دوہری شہریت، گرین کارڈ، اقامہ رکھنے والوں کو بھی برطرف کیا جائے۔
پیپلز پارٹی کی نفیسہ شاہ نے ردعمل میں کہا کہ ’ارب پتی کابینہ ارکان کا غریب عوام کے ساتھ کوئی سرو کار نہیں بلکہ مافیاز کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے۔‘
تحریک انصاف کا جواب
وفاقی وزیر زرتاج گل نے اس بات پر اپنی حکومت کی تعریف کی کہ تمام معاونین کے اثاثوں کی تفصیل شائع کی گئی ہے۔
ٹوئٹر پر کہا ہے کہ ’تحریک انصاف کی حکومت احتساب کے اعلیٰ معیار پر یقین رکھتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان پوری ٹیم کے لیے معیار کو بلند رکھتے ہیں۔‘
دوسری جانب جماعت سے منسلک بعض اکاؤنٹ کی ٹویٹس میں کہا گیا کہ ’قانون کے مطابق معاونین کے لیے اپنے اثاثوں کی تفصیل دینا لازم نہیں تھا۔ انھوں نے اخلاقی طور پر اپنے اثانوں کو ظاہر کیا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
تاہم وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ یہ بات منطقی لگتی ہے کہ کابینہ میں شمولیت کی شرائط بھی وہی ہوں جو رکن پارلیمان بننے کی ہیں۔ تاہم انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’آئین پاکستان، وزیراعظم کو غیر منتخب لوگوں کو کابینہ میں شامل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔‘
وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’ن لیگ اپنے گریبان میں جھانکے، نواز شریف وزیراعظم بننے کے بعد بھی اقامہ ہولڈر تھے۔‘
’خواجہ محمد آصف متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور احسن اقبال سعودی عرب کے اقامہ ہولڈر ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
زلفی بخاری نے کہا کہ ’سیاسی دروغ گوئی سے کام لینے والوں سے کہوں گا کہ کوئی شرم ہوتی ہے،کوئی حیا ہوتی ہے، پہلے اپنے اقاموں کا تو جواب دے دیں۔‘
اثاثوں، شہریت کی تفصیلات میں کیا ہے؟
حکومت پاکستان نے وزیر اعظم عمران خان کے معاونین خصوصی اور مشیران کے اثاثوں اور شہریت کی تفصیلات جاری کر دی ہیں جس کے مطابق 15 معاونین خصوصی میں سے سات یا تو دوہری شہریت کے حامل ہیں یا وہ کسی دوسرے ملک کے مستقل رہائشی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل امریکی گرین کارڈ ہولڈر نکلے جب کہ معاون خصوصی برائے نیشنل سیکیورٹی ڈویژن معید یوسف امریکا کے رہائشی ہیں۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی پٹرولیم ندیم بابر امریکی شہریت کے حامل ہیں اور معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید ذولفقار عباس بخاری بھی دوہری شہریت رکھتے ہیں اور ان کے پاس برطانوی شہریت ہے۔
وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس کے پاس کینیڈا کی پیدائشی شہریت ہے اور وہ سنگاپور کی مستقل رہائشی ہیں۔
معاون خصوصی برائے امور توانائی شہزاد سید قاسم بھی امریکا کے شہری ہیں جب کہ اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے پارلیمانی امور ندیم افضل گوندل بھی کینیڈا میں مستقل رہائش کا اسٹیٹس رکھتے ہیں۔
تاہم مشیران و معاونین خصوصی کے لیے دوہری شہریت کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ان افراد کے بطور کابینہ رکن ملک کے اہم فیصلوں اور دستاویزات تک رسائی ہوتی ہے جو یہ مفادات کے ٹکراؤ کا سبب بن سکتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہPID
تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کے متعدد معاونین خصوصی اور مشیران ارب پتے ہیں اور ان کے ملک اور بیرون ملک اثاثوں کی ایک طویل فہرست ہے۔
معاون خصوصی برائے پٹرولیم ندیم بابر کے اثاثہ جات کی مالیت دو ارب 75 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ ان کی پاکستان کے علاوہ بیرون ملک جائیدادیں ہیں اور وہ بیرون ملک دو درجن سے زائد کمپنیز میں شیئر ہولڈر بھی ہیں۔
وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر عشرت حسین بھی ایک ارب 70 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ عشرت حسین امریکا میں 3 جائیدادوں کے بھی مالک ہیں۔
وزیر اعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد ایک ارب 35 کروڑ سے زائد اثاثوں کے مالک ہیں اور ان کی اہلیہ 40 کروڑ روپے سے زائد اثاثوں کی مالک ہیں۔
جبکہ معاون خصوصی برائے سمندر پار پاکستانی سید ذوالفقار عباس بخاری ضلع اٹک میں 1300 کنال سے زائد اراضی کے مالک ہیں جبکہ ان کے پاس اسلام آباد میں 30 سے زائد ایک ایک کنال پلاٹس کی ملکیت بھی ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں 48 لاکھ پاؤنڈز سے زائد کا ایک فلیٹ ہے جبکہ اس میں سوا چار لاکھ پاؤنڈ مالیت کا سامان ظاہر کیا گیا ہے۔ وہ پاکستان سے باہر چھ کمپنیوں میں شیئر ہولڈر ہیں۔
اسی طرح مشیر خزانہ حفیظ شیخ بھی 30 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثوں کے مالک ہیں۔ مشیر خزانہ کے پاس 2 کروڑ کی زرعی اراضی ہے، دبئی میں ان کی اہلیہ کے نام پر 13 کروڑ کا گھر ظاہر کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عاصم سلیم باجوہ نے اپنی آٹھ رہائشی، کمرشل اور زرعی جائیدادوں کی مجموعی قیمت 15 کروڑ روپے سے زائد ظاہر کی ہے۔
جائیدادوں کے علاوہ ان کے خاندانی کاروبار میں 31 لاکھ مالیت کے شیئرز ہیں جو کہ ان کی اہلیہ کے نام ہیں۔ ان کے تین بینک اکاؤنٹس میں دو لاکھ بانوے ہزار کے لگ بھگ پاکستانی روپے جبکہ چار ہزار سے زائد امریکی ڈالر ہیں۔
وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور ڈاکٹر شہباز گِل امریکہ کے گرین کارڈ ہولڈر ہیں۔ ان کے اثاثوں کی کُل مالیت 11 کروڑ 85 لاکھ سے زائد جبکہ اُن پر واجبات کی رقم دو کروڑ 42 لاکھ سے زائد ہے۔
معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے 10 کروڑ روپے سے زائد کے اثاثے ظاہر کیے جب کہ معاون خصوصی ندیم افضل چن ایک کروڑ 21 لاکھ کے مالک ہیں۔
معاونِ خصوصی برائے اسٹیبلیشمنٹ محمد شہزاد ارباب کے اثاثہ جات کی کُل مالیت 12 کروڑ 73 لاکھ ہے۔
معاون خصوصی برائے پاور ڈویژن شہزاد سید قاسم کی پاکستان میں موجود جائیدادوں کی مالیت 97 لاکھ جبکہ امریکہ اور متحدہ عرب امارات میں چھ جائیدادوں کی مالیت لاکھوں ڈالرز میں ہے۔
وہ بہت سی کمپنیوں میں شیئر ہولڈر بھی ہیں جبکہ امریکہ اور متحدہ عرب امارات میں ان کے نصف درجن سے زائد اکاؤنٹ بھی ہیں۔
اسی طرح ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے اپنے پاس چھ لاکھ 47 ہزار 853 روپے کی رقم اپنے اکاؤنٹ میں ظاہر کی ہے جبکہ ان کے شوہر غالب نشتر کے نام پر موجود اکاؤنٹس میں ایک کروڑ 41 لاکھ 62 ہزار روپے سے زیادہ کی رقم ہے۔
ان کے پاس کسی دوسرے ملک کی شہریت یا مستقل رہائش نہیں ہے۔











