صوبہ سندھ میں شدید مون سون بارشیں: ’کپاس کی فصل کی مجموعی پیداوار میں چالیس فیصد تک کمی کا اندیشہ‘

کپاس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن’سندھ میں کپاس کی فصل کی مجموعی پیداوار میں چالیس فیصد تک نقصان کا اندیشہ ہے‘ (فائل فوٹو)
    • مصنف, تنویر ملک
    • عہدہ, صحافی، کراچی

پاکستان میں صوبہ سندھ کے ضلع ٹنڈو اللہ یار کے رہائشی محمد نواز کی چالیس ایکٹر رقبے پر کھڑی کپاس کی فصل گذشتہ دنوں صوبے میں ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے لگ بھگ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔

محمد نواز گذشتہ کئی عرصے سے زراعت کے پیشے سے وابستہ ہے اور ایک درمیانی درجے کے کاشتکار ہیں۔

زیریں سندھ میں ہونے والی شدید بارشوں کی وجہ سے کپاس کی فصل کی تباہی کی کہانی صرف ٹنڈو اللہ یار کے رہائشی محمد نواز تک محدود نہیں ہے بلکہ صوبے کے اضلاع میر پور خاص، عمر کوٹ، سانگھڑ، کھپرو اور کچھ دوسرے علاقوں میں بھی بارشوں نے کپاس کی فصل کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

پاکستان کے زرعی شعبے میں گندم کے بعد کپاس دوسری بڑی فصل ہے جو ملک کے جی ڈی پی میں نمایاں حصہ ڈالنے کے علاوہ پاکستان کے صنعتی شعبے میں سب سے زیادہ بر آمد ہونے والی ٹیکسٹائل کی مصنوعات کا سب سے اہم اور بنیادی جزو ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ میں وسیع پیمانے پر بارشوں کی وجہ سے کپاس کی فصل کو پہنچنے والے نقصان کے بعد ٹیکسٹائل کے شعبے سے وابستہ افراد پاکستان کی اس شعبے کی مصنوعات کی برآمدات کے متاثر ہونے کے خدشات کا بھی اظہار کر رہے ہیں۔

کپاس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنکپاس کی فصل کو سب سے زیادہ نقصان عمر کوٹ، میرپور خاص، سانگھڑ، بدین، مٹھی، نواب شاہ اور دوسرے اضلاع میں پہنچا (فائل فوٹو)

سندھ میں کپاس کی فصل کو کتنا اور کہاں نقصان پہنچا؟

حالیہ بارشیں سب سے زیادہ سندھ کے زیریں اضلاع میں ہوئیں ہیں جن سے انسانی جانوں کے ساتھ ساتھ املاک اور فصلوں کو بھی نقصان پہنچا۔

سندھ آباد گار بورڈ کے وائس چیئرمین محمود نواز شاہ نے بتایا کہ حالیہ بارشوں کی وجہ سے کپاس کی فصل کو سب سے زیادہ نقصان عمر کوٹ، میرپور خاص، سانگھڑ، بدین، مٹھی، نواب شاہ اور دوسرے اضلاع میں پہنچا۔

ان کا کہنا ہے کہ کپاس کی فصل کو پہنچنے والے شدید نقصان سے سندھ میں کپاس کی فصل کی مجموعی پیداوار میں چالیس فیصد تک نقصان کا اندیشہ ہے۔ نواز شاہ نے بتایا کہ بالائی سندھ میں کم بارشیں ہونے کی وجہ سے وہاں کی فصل کو نقصان نہیں ہوا۔

انھوں نے کہا کہ سندھ میں مجموعی طور پر رواں برس 36 لاکھ کپاس کی گانٹھیں پیدا ہونے کا ہدف تھا تاہم بارش کی وجہ سے فصل کو پہنچے والے نقصان کا تخمینہ تقریباً اٹھارہ سے بیس لاکھ گانٹھوں کا ہے۔

،ویڈیو کیپشنکپاس کی برآمدات میں کمی: سندھ کے کاشتکار مرچیں کیوں اُگا رہے ہیں؟

انھوں نے مزید کہا کہ بارش کے علاوہ ہوا میں موجود نمی کے زیادہ تناسب نے بھی فصل کو نقصان سے دوچار کیا۔ ہوا میں نمی کی وجہ سے گلابی سنڈی کپاس کی فصل کے ڈنٹھل پر حملہ آور ہوتی ہے اور کپاس کے پھول اس سے بہت متاثر ہوتے ہیں۔

کراچی کاٹن بروکز فورم کے چیئرمین نسیم عثمان کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ سندھ کا ضلع سانگھڑ پاکستان کےکسی بھی دوسرے ضلع کے مقابلے میں کپاس کی سب سے زیادہ فصل پیدا کرتا ہے تاہم اس ضلع میں طوفانی بارشوں فصل کو خراب کیا۔

انھوں نے کہا کہ ان وجوہات کی بنا پر زیریں سندھ کے علاقوں سے کپاس کی فصل کی ترسیل رک چکی ہے اور مقامی کاٹن مارکیٹ میں کاٹن کے نرخوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

کپاس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کپاس کی فصل کو مزید کیا خدشات لاحق ہیں؟

سندھ کے زیریں اضلاع میں کپاس کی فصل کو پہنچے والے نقصان کے بعد پنجاب کے جنوبی اضلاع میں تیز بارشوں کے سلسلے نے ان علاقوں میں بھی اس فصل پہنچایا ہے۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم کے احسان الحق نے بتایا کہ جنوبی پنجاب میں رحیم یار خان، بہاولنگر اور بہاولپور کے اضلاع کپاس زیادہ پیدا ہوتی ہے اور سندھ کے بعد ان علاقوں میں بھی بارشوں کے سلسلے شروع ہو چکے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ کپاس کی فصل بہت نازک فصل ہوتی ہے اور برسات میں اسے نقصان پہنچے کا بہت زیادہ خطرہ رہتا ہے۔

کپاس کی فصل کی پیداوار کا ہدف

رواں برس پاکستان میں کپاس کی فصل کے ہدف کے بارے میں بات کرتے ہوئے احسان الحق نے بتایا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے اس سال ابھی تک حکومتی اجلاس منعقد نہیں ہو سکا کہ جس میں اس فصل کی پیداوارکا ہدف مقرر کیا جا سکے۔

تاہم انھوں نے بتایا کہ اس سال کچھ وجوہات کی وجہ سے گنے کی کاشت کے رقبے میں کمی واقع ہوئی اور کپاس کی فصل کی کاشت میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔ ان کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر ایک کروڑ سے تھوڑا اوپر کپاس کی گانٹھوں کی پیداوار کا ہدف سامنے آیا ہے، جس میں ستر فیصد حصہ پنجاب کا ہے جبکہ تیس فیصد حصہ سندھ سے آتا ہے۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بلوچستان کا بھی اس میں تھوڑا سا حصہ ہے جو سندھ اور پنجاب میں جننگ فیکٹریوں میں آنے کی وجہ سے ان کے حصے میں ہی شمار ہو جاتا ہے۔

نسیم عثمان نے کپاس کی پیداوار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ہدف تو ایک کروڑ سے زیادہ کا ہے تاہم نجی شعبے کے مطابق یہ پیداوار 80 سے 90 کاٹن بیلز کے درمیان ہی رہے گا۔

مقامی ٹیکسٹائل صنعت کی ضرورت

پاکستان میں کپاس ٹیکسٹائل کی صنعت کا سب سے کلیدی جزو ہے تاہم مقامی طور پر پیدا ہونے والی کپاس کی پیداوار پاکستان کے ٹیکسٹائل کے شعبے کی ضرورت کو پورا نہیں کرتی جس کی وجہ سے اسے باہر سے درآمد کرنا پڑتا ہے۔

سابق مشیر وزیر اعظم پاکستان برائے ٹیکسٹائل اور فیڈریشن آف پاکستان چمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق نائب صدر مرزا اختیار بیگ کے مطابق پاکستان میں ٹیکسٹائل کے شعبے کی ضرورت ایک کروڑ تیس لاکھ سے زیادہ کپاس کی گانٹھیں ہیں جب کہ پاکستان میں پیدا ہونے والی کپاس کی پیداوار ایک کروڑ گانٹھیں ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان ہر سال کاٹن درآمد کرتا ہے تاکہ مقامی صنعت کی ضرورت کو پورا کیا جاسکے اور اس سال بھی پاکستان کو سندھ میں کپاس کی فصل خراب ہونے جانے کی وجہ سے زیادہ کپاس درآمد کرنی پڑے گی۔

نسیم عثمان نے بھی چالیس لاکھ گانٹھوں کو درآمد کرنے کا تخیمنہ لگایا ہے تاہم انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے جب صنعت کا پہیہ رک گیا کہ تو گذشتہ سال درآمد کی جانے والی کپاس میں سے کچھ سٹاک بچا ہوا تھا جو اس سال کام آ جائے گا اور سندھ میں فصل کے خراب ہونے کی تلافی کسی حد ہو سکتی ہے۔

کپاس

مقامی کپاس میں کمی کا ٹیکسٹائل شعبے کو کیا نقصان ہے؟

کاٹن جنرز فورم کے چیئرمین احسان الحق کا کہنا ہے بین الاقوامی مارکیٹ میں کاٹن کی قیمتوں میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے جو درآمد کرنے کی صورت میں مہنگی پڑے گی اور دوسرا اس کے پاکستان میں پہنچنے کے لیے طویل عرصہ درکار ہوگا۔

انھوں نے کہا کہ ملک میں مہنگا ڈالر درآمدی کاٹن کو مزید مہنگا کر کے ہماری ٹیکسٹائل کی مصنوعات کو مسابقت کی دوڑ میں پیچھے کر دے گا۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستان کپاس امریکہ، برازیل اور کچھ دوسرے ممالک سے منگواتا ہے جسے پاکستان پہنچنے میں کافی وقت درکار ہوتا ہے۔ پاکستان انڈیا سے بھی کپاس درآمد کرتا تھا لیکن دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے اس کی درآمد دو سال پہلے رک گئی تھی۔

مرزااختیار بیگ نے بتایا کہ انڈیا سے درآمد ہونے والی کپاس واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان میں بہت جلدی پہنچ جاتی تھی جو امریکہ، برازیل اور کچھ دوسرے علاقوں میں کئی ہفتوں کے بعد پہنچتی ہے جس کی درآمدی لاگت بھی بہت زیادہ ہے۔

کپاس

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کپاس کی پیداوار میں کمی سے ٹیکسٹائل کی برآمدات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ

احسان الحق کا کہنا ہے کہ اس وقت پاکستان کے پاس ٹیکسٹائل کے کافی آرڈز موجود ہیں جو کپاس کی بروقت سپلائی سے ممکن بنائے جا سکتے ہیں۔ ان آرڈرز کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس وقت آرڈرز میں اضافے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاور لومز کے پاس دو دو مہینوں کے آرڈرز آ چکے ہیں۔

سندھ میں کپاس کی فصل کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے ٹیکسٹائل صنعت کے برآمدی آرڈرز کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے کیونکہ درآمدی کپاس کو پاکستان پہنچنے میں کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔

مرزا اختیار نے بتایا کہ پاکستان کی مجموعی برآمدات تقریبا 23 ارب ڈالر ہیں جن میں ٹیکسٹائل شعبے کی بر آمدات کا حصہ تیرہ ارب ڈالر ہے، اسی طرح مینوفیکچرنگ کے شعبے میں لیبر فورس کا چالیس فیصد حصہ اس شعبے سے وابستہ ہے۔

انھوں نے کہا کپاس کی فصل میں پندرہ سے 20 فیصد نقصان کا اثر ٹیکسٹائل کے شعبے پر بھی پڑے گا اور اس کی برآمدات متاثر ہونے کا امکان موجود ہے۔

یاد رہے موجودہ مالی سال کے پہلے مہینے میں پاکستان کی برآمدات میں پانچ فیصد سے زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا جس میں ٹیکسٹائل شعبے کی مصنوعات کا نمایاں حصہ رہا تھا۔