شدید موسم سے جان و مال کو نقصان، فصل تباہ
- مصنف, دانیال آدم خان
- عہدہ, صحافی
گزشتہ تین دنوں میں مغرب سے آنے والے موسمی سلسلے کے باعث پاکستان کے مختلف حصوں میں شدید جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔
قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے مطابق طوفانی بارشوں اور آندھیوں سے بدھ تک ملک بھر میں کم از کم 49 لوگ ہلاک ہوئے ہیں، جبکہ 176 زخمی ہیں اور 117 گھروں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
پیر کے روز کراچی میں تیز ہواؤں سے شہر کے کئی علاقوں میں بجلی کے کھمبے، اشتہاری بورڈ، درخت اور عمارتوں کی چھتیں اور دیواریں گرنے سے پانچ ہلاکتیں ہوئی تھیں اور 36 افراد زخمی تھے، جبکہ مچھیروں کی ایک کشتی ابھی تک لاپتہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہPakistan Meteorological Department
اسی طرح شمالی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے بیشتر حصوں میں بارش، آندھی، بحلی کی گرج اور ژالہ باری سے مختلف حادثات میں ہلاکتیں ہوئیں۔ اس کے ساتھ کشمیر اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈ سے نقصانات ہوئے اور کئی سڑکیں بھی بند رہیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہDistrict Administration Upper Dir
لیکن ایسے موسم سے جانی نقصان کے علاوہ فصلوں پر بھی تباہ کن اثرات پڑے ہیں۔ پنجاب کے صوبائی محکمہ زراعت کے ترجمان کے مطابق ابھی نقصان کا مکمل تخمینہ لگانے میں چند دن لگیں گے تاکہ ان کے اہلکار ہر گاؤں جا کر صورت حال دیکھ سکیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے چکوال کے صحافی نبیل ڈھکو نے کہا کہ ربیع کی فصلوں میں سب سے اہم، چنے اور مسور سمیت، گندم کی فصل ہے۔ ’سردیوں کے موسم میں جب یہ فصلیں پک رہی ہوں تو بارشوں کا بہت فائدہ ہوتا ہے اور اس سال ہم اچھی کٹائی کی امید کر رہے تھے۔ لیکن جب یہ کٹائی کے لیے تیار ہوں تو ان کو صرف دھوپ کی ضرورت ہے۔‘
نبیل کے مطابق چکوال کے کچھ علاقوں میں ژالہ باری سے پوری یونین کونسل کی 80 فیصد فصل ختم ہو چکی ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ان کا کہنا ہے کہ اگر کسانوں کو وقتی طور پر اطلاع مل جاتی تو وہ گندم کو وقت سے پہلے کاٹ کر اپنی پیداوار بچا سکتے تھے، لیکن بعض لوگوں کی فصل کٹنے کے بعد بھی کھیت میں پڑی رہنے کے باعث بارش اور اولوں سے ختم ہو گئی۔
دوسری جانب بی بی سی سے بات کرتے ہوئے محکمہ موسمیات کے سربراہ محمد حنیف کے مطابق ان کے محکمے نے تمام حکومتی اداروں کو بروقت اطلاع پہنچا دی تھی، لیکن پھر بھی نقصان بہت زیادہ ہوا ہے۔
محمد حنیف کے مطابق یہ موسمی سلسلہ یورپ سے بحریۂ روم اور مشرقِ وسطیٰ کے راستے پاکستان تک پہنچا ہے۔ ’گذشتہ ہفتے میں ایران میں ہونے والی بارشیں اور سیلاب بھی اسی سلسلے کا حصہ تھے۔ پاکستان کے مغربی اور جنوبی علاقوں پر اس طوفانی موسم کا بہت اثر پڑا ہے اور خاص طور پر بلوچستان میں جان اور مال کا بہت نقصان ہوا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہNabeel Dhakku
ان کا کہنا ہے کہ سال کے اس وقت کے حساب سے ایسا موسم غیر معمولی ہے، لیکن شمالی کرہ کے بیشتر علاقوں میں شدید سردی پڑنے کا نتیجہ ہے۔ حنیف کہتے ہیں کہ موسم کی شدت 50 سے 60 فیصد کم ہو چکی ہے لیکن یہ سلسلہ ملک کے وسطی اور شمالی علاقوں میں بدھ کی رات تک برقرار رہے گا۔
12 اپریل کو خیبر پختونخوا کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے نے نوٹیفکیشن جاری کیا تھا جس میں انھوں نے انتباہ کیا تھا کہ ہفتے اور بدھ کے درمیان پورا ملک اس موسم کی لپیٹ میں رہے گا، جو کہ پیر تک اپنے عروج پر پہنچے گا۔ پی ڈی ایم اے نے ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژن میں خصوصاً کسانوں اور سیاحوں کو بارش، بجلی، آندھی اور ژالہ باری سے بچنے کی اطلاعات دیں تھی۔
موسمی ویب سائیٹ ’ایکیو ویدر‘ کے مطابق اس موسم میں سب سے بڑا خدشہ گرد آلود آندھیوں کا ہوتا ہے، جس سے حدِ نگاہ انتہائی کم ہو جاتی ہے۔ اس کے ساتھ 100 کلومیٹر فی گھنٹے پر چلنے والی ہوائیں اور ایک گھنٹے کے اندر دو انچ کی بارش لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ڈال دیتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ بدھ کو پاکستان سے خارج ہونے پر اس کا داخلہ انڈیا میں ہو گا اور جمعرات تک ملک کے مشرق تک پہنچ کر یہ ڈھلنا شروع ہو جائے گا۔










