مطیع اللہ جان اغوا کیس کی تفتیش میں محکموں کے جواب کا انتظار ہے: پولیس رپورٹ

منگل کو اسلام آباد سے اغوا ہونے والے صحافی مطیع اللہ جان
،تصویر کا کیپشنمنگل کی صبح مطیع اللہ کو اسلام آباد کے علاقے سیکٹر جی سکس میں ان کی اہلیہ کے سکول کے باہر سے چند مسلح افراد نے اغوا کیا تھا
    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اسلام آباد پولیس نے صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا کے مقدمے میں سپریم کورٹ کو بتایا ہے کہ سپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کے تحت تفتیش جاری ہے اور اغواکاروں کو تلاش کیا جا رہا ہے اور مختلف محکموں سے طلب کی گئی تفصیلات کا انتظار ہے۔ پولیس کی طرف سے عدالت میں جمع کروائی جانے والی رپورٹ کے مطابق اغوا کاروں کی شناخت سے متعلق اسلام آباد سیف سٹی پروجیکٹ سے سی سی ٹی وی فوٹیج کی بھی درخواست کی گئی ہے۔

تاہم جس سکول کے باہر سے وہ اغوا ہوئے، رپورٹ کے مطابق، اس سے حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی کی فوٹیج نادرا کو بھجوائی گئی ہے تاکہ اس میں نظر آنے والے اغوا کاروں کی شناخت ہو سکے مگر اس پر نادرا نے ابھی تک کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

اسلام آباد پولیس کی طرف سے یہ رپورٹ سپریم کورٹ کے حکم پر جمع کروائی گئی ہے۔ جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں اس مقدمے کی سماعت اب کل یعنی جمعرات کو سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ کرے گا۔

نادرا حکام نے بی بی سی کو بتایا کہ جب تک کوئی چہرہ واضح طور پر نظر نہ آئے تو شناخت کرنا ممکن نہیں ہوتا کیونکہ نادرا اسی صورت میں اپنے ڈیٹا بیس سے کسی کی شناخت کرتا ہے جب کوئی چہرہ کسی شناختی کارڈ کی تصویر سے میچ کر جائے۔ تاہم واضح رہے کہ ابھی تک سرکاری طور پر نیب نے پولیس کو کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ میں اسلام آباد پولیس نے کہا ہے کہ مطیع اللہ جان کو اغوا کر کے کس مقام پر لے جایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ سے پانچ موبائل نمبروں کا 45 دن تک کا ڈیٹا یعنی ’سی ڈی آر‘ مانگی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق متعلقہ محکمے سے موبائل کالز کا ڈیٹا ریکارڈ کا بھی انتظار ہے۔

سکول سے حاصل ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج نادرا کے علاوہ ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو بھی بھیجی گئی تھی کہ وہ اپنے طور پر اس ویڈیو سے اغوا کاروں کا پتا چلائیں۔

پولیس کو صحافی مطیع اللہ جان کی بازیابی والی جگہ سے کالے کپڑوں کا بیگ اور کالے ٹیپ کے ٹکڑے ملے ہیں، جنھیں معائنے کے لیے متعلقہ محکمے کو بھیج دیا گیا ہے۔

مطیع اللہ جان کا اسلام آباد کے سرکاری ہسپتال پولی کلینک سے طبی معائنہ کرایا گیا ہے جس میں ان کے جسم پر تشدد کے نشانات کی تصدیق ہوئی ہے۔ پولیس نے اس میڈیکل رپورٹ کو بھی اپنے تفصیلی جواب کا حصہ بنا لیا ہے۔

مطیع اللہ جان کے ایک دوست صحافی اعزاز سید نے اپنے ٹویٹ میں مطیع اللہ جان کے جسم پر تشدد کے ان گہرے نشانات کی تصاویر بھی شیئر کی ہیں جو ان کے طبی معائنے کے وقت لی گئی تھیں۔

اسلام آباد پولیس کو دیا گیا مطیع اللہ جان کا تفصیلی بیان: ’منہ بند رکھنے کا پیغام دیا گیا‘

مطیع اللہ جان کی گاڑی
،تصویر کا کیپشنمطیع اللہ جان کی گاڑی ان کی اہلیہ کے سکول کے باہر کھڑی ملی تھی

رپورٹ میں شامل اپنے بیان میں مطیع اللہ جان کا کہنا ہے اغوا کار ان کے ہر سوال پر پشتو میں جواب دیتے ہوئے کہتے ’ٹائم نشتا‘ یعنی ابھی وقت نہیں ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بازیابی کے بعد وہ جس سکیورٹی چیک پوسٹ پر پہنچے وہاں فوجی افسران نے انھیں پانی اور کھانے کا پوچھا اور ویگو پر گھر واپسی کی آفر بھی کی۔ جس پر صحافی نے کہا ’آپ کا شکریہ میرے بھائی مجھے یہاں سے لینے آ رہے ہیں۔‘

مطیع اللہ جان کے مطابق میرے بھائی سے ضروری پوچھ گچھ کے بعد فوجی افسران نے مجھے ان کے حوالے کر دیا جو مجھے واپس گھر لے کر آئے۔

مطیع اللہ جان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ان کے مقدمے کا براہ راست تعلق سپریم کورٹ میں جاری توہین عدالت کے مقدمے سے ہے کیونکہ انھیں اس مقدمے کی پیشی سے ایک دن قبل اغوا کر کے منہ بند رکھنے کا پیغام دیا گیا ہے۔

صحافی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے ایک جج جسٹس اعجاز الحسن کے مشورے پر چیف جسٹس نے ان کے اغوا کو مبینہ قرار دیا۔

،ویڈیو کیپشنسی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تین گاڑیوں میں سوار افراد مطیع اللہ کو زبردستی ایک گاڑی میں بٹھا رہے ہیں۔

صحافی مطیع اللہ جان نے اس واقعے سے متعلق اسلام آباد پولیس کو اپنا بیان ریکارڈ کرایا جو اس رپورٹ کا حصہ ہے۔

یہ بیان ریکارڈ کرانے کے بعد مطیع اللہ جان نے یوٹیوب پر اپنا ویڈیو بیان بھی جاری کیا تھا جس میں انھوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انھیں منگل کو تقریباً گیارہ بجے اسلام آباد کے ایک سرکاری سکول کے باہر سے کچھ باوردی افراد نے زبردستی ان کی گاڑی سے گھسیٹ کر ویگو یا ڈبل کیبن گاڑی میں پھینکا۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان افراد نے ان کی ’گردن دبوچ کر منہ نیچے کی طرف کر دیا اور زدوکوب کرنا شروع کر دیا‘۔

مطیع اللہ جان کے دعوے کے مطابق ’اغوا کار پولیس کی وردیاں پہنے چار سے پانچ گاڑیوں میں آئے، جن میں سے کچھ افراد مسلح تھے۔‘

ان کے مطابق انھوں نے اہلیہ کی توجہ حاصل کرنے کے لیے اپنا موبائل سکول کے اندر پھینک دیا۔

مطیع اللہ جان نے دعویٰ کیا ہے کہ جب انھیں گاڑی میں زدوکوب کیا جا رہا تھا تو ساتھ پولیس کی وردی میں ملبوس مسلح افراد یہ بھی کہتے تھے کہ ’تم ایسی باتیں کیوں کرتے ہو، تم صحافی ہو، تم ایسی باتیں کیوں کرتے ہو۔‘

خوف سے کلمہ پڑھنا شروع کر دیا

مطیع اللہ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنماضی میں بھی مطیع اللہ جان کو ہراساں کرنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں

مطیع اللہ جان کے مطابق انھیں آخر میں ایک جگہ جھاڑیوں میں پھینک دیا گیا اور ان کے سر پر زور سے کوئی چیز ماری گئی۔

مطیع اللہ جان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے تاثر دیا کہ جیسے وہ بیہوش ہو گئے تھے۔ اس وقت اغوا کاروں نے منہ پر پانی پھینکا تو ’میں نے آنکھیں کھولیں‘۔

مطیع اللہ کا کہنا ہے کہ انھیں خوف محسوس ہوا کہ اب انھیں قتل کر دیا جائے گا، ’میں نے کلمہ پڑھنا شروع کر دیا تھا۔‘

مطیع اللہ جان کے مطابق اس کے بعد اغواکاروں نے پشتو میں ان سے نام پوچھا تو انھوں نے جواب دیا کہ وہ صحافی مطیع اللہ جان ہیں۔

ان کے دعوے کے مطابق پھر ایک دوسرے اغوا کار نے پوچھا ’کیا آپ زرق خان نہیں ہیں‘، پھر اغوا کاروں نے کہا کہ یہ غلط بندہ ہے۔ مطیع اللہ جان کے مطابق اس وقت انھیں امید پیدا ہوئی کہ اب ان کی جان بخشی ہو جائے گی۔ مطیع اللہ کے مطابق انھوں نے قسم کھا کر کہا کہ وہ صحافی مطیع اللہ جان ہیں۔

صحافی مطیع اللہ نے الزام عائد کیا ہے کہ انھیں اغوا کرنے والے وہی لوگ ہیں جو جمہوریت، آئین اور نظام کے مخالف ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو شروع دن سے آئین کے خلاف سازشیں کرتے آ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ صحافی مطیع اللہ جان نے تصدیق کی ہے کہ ان کا ویڈیو بیان نامکمل ہے جبکہ مکمل بیان پولیس اور مجسٹریٹ کے پاس ریکارڈ پر موجود ہے، جسے سپریم کورٹ کے سامنے بھی پیش کیا جائے گا۔

مطیع اللہ جان کون ہیں؟

Facebook/Matiullah Jan

،تصویر کا ذریعہFacebook/Matiullah Jan

،تصویر کا کیپشنمطیع اللہ جان کے لاپتہ ہونے کا واقعہ ان کی ٹویٹس پر توہینِ عدالت کے مقدمے میں ان کی سپریم کورٹ میں پیشی سے ایک دن قبل پیش آیا تھا

مطیع اللہ جان نے قائد اعظم یونیورسٹی سے ڈیفنس اینڈ سٹریٹیجک سٹڈیز میں ماسٹرز کیا تھا اور وہ گذشتہ تین دہائیوں سے صحافت کر رہے ہیں۔

وہ پاکستان کے مختلف ٹی وی چینلز سے منسلک رہ چکے ہیں تاہم آج کل وہ یو ٹیوب پر اپنا چینل چلا رہے تھے۔

ان کے والد فوج میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے پر فائز تھے اور خود انھوں نے بھی فوج میں کمیشن حاصل کیا تھا تاہم کچھ عرصے بعد انھوں نے یہ ملازمت چھوڑ دی تھی۔

ماضی میں بھی مطیع اللہ جان کو ہراساں کرنے کے واقعات پیش آتے رہے ہیں۔

ستمبر2017 میں بھی مطیع اللہ جان کی گاڑی پر حملہ کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ اسلام آباد میں بارہ کہو کے مقام پر پیش آیا تھا جب موٹر سائیکل پر سوار افراد نے مطیع اللہ کی گاڑی کی ونڈ سکرین پر اینٹ دے ماری تھی جس سے ونڈ سکرین پر دراڑیں پڑی تھیں۔

حملے کے وقت مطیع اللہ جان کے بچے بھی ان کے ساتھ گاڑی میں موجود تھے۔

اس کے علاوہ جون 2018 میں اس وقت کے فوجی ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے جب سوشل میڈیا کے بعض اکاؤنٹس پر ریاست مخالف پراپیگنڈے پر مبنی ٹویٹس کا الزام لگایا تھا اور ایسے اکاؤنٹس کا ایک چارٹ دکھایا تھا تو اس میں بھی مطیع اللہ جان کا اکاؤنٹ نمایاں کر کے دکھایا گیا تھا۔