مطیع اللہ جان: صحافی کا گھر واپسی کے بعد پہلا پیغام اور سوشل میڈیا پر چھڑی جبری گمشدگی پر بحث

مطیع اللہ

،تصویر کا ذریعہEPA

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس سے اغوا کیے جانے والے صحافی مطیع اللہ جان کی بازیابی کی بعد سوشل میڈیا پر متعدد سوالات اور موضوعات پر بحث ہو رہی ہے۔

مطیع گزشتہ روز اغوا ہونے کے بعد تقریباً 12 گھنٹے بعد بازیاب ہو کر اپنے گھر پہنچنے۔ پھر منگل کی صبح انھوں نے سوشل میڈیا پر ٹویٹ کرتے ہوئے اپنی خیریت اور بازیابی کے متعلق خود بتایا۔

اپنی ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہ ’میں خیریت سے واپس آگیا ہوں، خدا مجھ پر اور میرا اہلخانہ پر مہربان رہا۔ میں اپنے دوستوں، ملکی و غیر ملکی صحافتی تنظمیوں، سیاسی جماعتوں، سوشل میڈیا اور سماجی کارکنوں، وکلا تنظمیوں اور عدلیہ کا شکر گزار ہوں جن کے فوری ردعمل سے میری واپسی ممکن ہوئی۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

صحافی مطیع اللہ کی جانب سے ٹویٹ آنا تھی کہ چند صارفین نے انھیں بخریت واپسی پر مبارکباد بھی دیں اور انھیں اپنے موقف پر ڈٹے رہنے اور حوصلے کو بلند رکھنے کا بھی کہا۔

اس سے قبل سوشل میڈیا میں ان کی بازیابی کی اطلاع منگل کی رات صحافی اعزاز سید کی جانب سے دی گئی جب انھوں نے ٹوئٹر پر ایک تصویر پوسٹ کی جس میں وہ مطیع اللہ جان کی بازیابی کے بعد ان کے ہمراہ کھڑے ہیں اور ان کی واپسی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انھیں خوش آمدید کہہ رہے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

صحافی مطیع اللہ کی بازیابی کے بعد سوشل میڈیا صارفین نے جہاں ایک جانب ان کی بخیریت بازیابی پر انھیں مبارکباد دی وہیں ملک میں صحافتی آزادی، سنسرشپ اور افراد کی جبری گمشدگیوں کے بارے میں بحث ہوتی رہی اور یہ بات کی جاتی رہی کہ ایسے معاملات میں مل کر آواز اٹھانے کا نتیجہ مغوی کے حق میں بہتر ہوتا ہے۔ صحافی حسن زیدی نے مطیع کی واپسی پر خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے لکھا کہ ’دیکھ لیں، آواز اٹھانے کا نتیجہ کیا ہو سکتا ہے۔‘

ان کے ہی ٹویٹ پر ڈاکٹر تقی کا کہنا تھا کہ یقیناً ایسا ہی ہے لیکن بروقت آواز اٹھانا نہایت اہم ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی رہنما اور وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے بھی مطیع اللہ کی بازیابی پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ’مطیع اللہ کو آزاد دیکھ کر خوشی ہوئی۔ اس طرح کے اقدامات ہمارے آئین اور ان عالمی انسانی حقوق کنونشنز کی خلاف ورزی ہیں جن پر پاکستان نے دستخط کیے ہوئے ہیں۔ شہری مسلسل خوف کی فضا میں نہیں رہ سکتے اور کسی بھی جمہوری معاشرے میں قانون تک رسائی ہر شہری کا حق ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

جبکہ ان کی ٹویٹ کے جواب میں سماجی کارکن عروج اورنگزیب نے وفاقی وزیر سے سوال کیا کہ ’کس نے انھیں اغوا کیا تھا اور کیوں اغوا کیا گیا تھا؟ ہم بطور شہری یہ جاننا چاہتے ہیں۔‘

جبکہ بعض صارفین نے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق پر اس واقعے کے بارے میں حکومتی رویے پر تنقید بھی کی۔

مطیع اللہ کی بازیابی پر صحافی عامر متین نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’یہ جان کر خوشی ہوئی کہ مطیع اللہ بخیریت بازیاب ہو کر واپس آ گئے ہیں، لیکن اس معاملے میں حقیقت کو سامنے آنا چاہیے، انھیں کس نے اغوا کیا تھا اور کیوں؟ ایسا نہیں کہ چند لوگ خود کو اختیارات اور طاقت والا سمجھتے ہوئے جو چاہیں وہ کرتے پھریں، میں مطیع اللہ کے بیان کا منتظر ہوں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 4

جبکہ ایک اور ٹویٹ میں عامر متین کا کہنا تھا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ مطیع اللہ اس بارے میں بے خوف ہو کر بات کریں گے۔

پاکستان میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر منگل کو سارا دن سینیئر صحافی کے اغوا پر ہی بات کی جاتی رہی۔ جہاں ایک جانب ان کے اغوا اور اس کے محرکات، ان کی واپسی اور حکومتی ردعمل پر بات ہوئی وہی چند صارفین نے ملک میں جبری گمشدگیوں کے متعلق بھی توجہ دلاتے ہوئے لکھا کہ ’مطیع اللہ کی واپسی کے متعلق جان کر خوشی ہوئی لیکن ان ہزاروں پاکستانیوں کا کیا جنھیں بلوچستان، سندھ اور سابقہ فاٹا سے اغوا کر لیا جاتا ہے۔۔۔؟

X پوسٹ نظرانداز کریں, 5
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 5

ایک اور صارف نے صرف اتنا لکھا کہ ’سندھ میں اب بھی کئی مطیع اللہ جان لاپتہ ہیں‘۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 6
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 6

تاہم جہاں زیادہ تر لوگ مطیع کی بازیابی پر خوشی کا اظہار کر رہے تھے وہیں ایک طبقہ ان کے اغوا اور اس کے بعد ہونے والی بازیابی کو ڈرامہ قرار دے کر ان کے اور ان کے حامیوں کے خلاف ٹویٹس بھی کرتا رہا اور اس حوالے سے ٹرینڈ بھی چلائے گئے۔

ٹویٹر

،تصویر کا ذریعہTwitter

مطیع اللہ کو واپس لائیں

منگل کے روز مطیع اللہ کی بازیابی سے قبل ٹوئٹر پر یہ ہیش ٹیگ ٹرینڈ #BringBackMatiullah کرتا رہا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 7
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 7

عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما افراسیاب خٹک نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں صحافی کے اغوا کی مذمت کی اور لکھا کہ ' اسلام آباد میں پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور میڈیا کی ناک تلے صحافی کا لاپتہ ہونا سنگین نوعیت کی توہین ہے۔ اگر پالیمنٹیرنز، جج اور صحافی کچھ اور نہیں کر سکتے تو شاہراہ دستور پر احتجاج تو کر سکتے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 8
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 8

صحافی اور اینکر پرسن عاصمہ شیرازی نے اپنے پیغام میں لکھا تین گاڑیاں، ایک ویگو اور ایک ایمبولینس جبکہ یونیفام میں ملبوس لوگ مطیع اللہ کو اٹھا رہے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 9
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 9

ماریہ رشید نامی صارف نے سی سی ٹی وی فوٹیج کو ری ٹیویٹ کرتے ہوئے اغوا کاروں کے نام اپنے پیغام میں لکھا کہ جب آپ کسی کو اغوا کرتے ہیں تو آپ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ وہ سچ کے لیے کھڑا ہے۔

جب آپ کسی کو اغوا کرتے ہیں تو آپ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ قانون سے بالاتر ہیں۔

آپ اسے دوسروں کو خوفزدہ کرنے کے لیے کرتے ہیں لیکن یہ بھی آشکار کرتے ہیں کہ آپ خود کتنے خوفزدہ ہیں۔

پیپلز پارٹی کے رہنما مصطفیٰ نواز کھوکھر نے اپنے اکاؤنٹ سے منگل کو سینٹ کی فنکشنل کمیٹی نبرائے انسانی حقوق کے 22 جولائی یعنی کل صبح گیارہ بجے بلوائے گئے اجلاس کا نوٹس شیئر کیا۔ جس کے مطابق آئی جی اسلام آباد کو مطیع اللہ جان کے اغوا کے حوالے سے بریفنگ دینے کے لیے بلوایا گیا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 10
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 10

پی ٹی ایم کے رہنما منظور پشتین نے سینیئر صحافی کے اغوا پر ملکی اداروں کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 11
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 11

مسلم لیگ کے رہنما اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہے کہ اگر مطیع اللہ کو کچھ ہوا تو اس کی ذمہ داری عمران خان پر ہو گی۔

اپنے ٹوئٹر پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ ’سینیئر صحفی مطیع اللہ جان کی گمشدگی انتہائی قابل مذمت اور باعث تشویش ہے۔ حکومت کی جانب سے میڈیا اور تنقیدی آوازوں کو دبانے کی مہم شرمناک ہے۔ اگر مطیع اللہ کو کچھ ہوا تو وزیراعظم اس کے ذمہ دار ہوں گے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 12
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 12

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرپرسن بلاول بھٹو نے اپنے پیغام میں سینیئر صحافی کے اغوا پر تشویش کا اظہار کیا اور حکومت سے ان کی بازیابی کا مطالبہ کیا ان کا کہنا تھا کہ یہ فقط میڈیا کی آزادی پر حملہ نہیں ہے ہم سب پر ہے آج وہ مطیع اللہ ہیں کل آپ یا میں ہو سکتا ہوں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 13
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 13

لیکن ایک ٹرینڈ اس سارے واقعے کو ڈرامہ قرار دے رہا ہے۔ اور صارفین کہتے ہیں کہ کورونا کی وجہ سے کوئی سکول نہیں کھلا ہوا اور چونکہ ان کی پیشی تھی کل اس لیے یہ کیا گیا۔

یہ بھی دیکھیے

،ویڈیو کیپشنسی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تین گاڑیوں میں سوار افراد مطیع اللہ کو زبردستی ایک گاڑی میں بٹھا رہے ہیں۔