کراچی بارش: کراچی میں این ڈی ایم اے کیا کرے گا؟

- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کراچی میں حالیہ ماہ شدید بارشوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ملک میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کو کارروائی کا حکم دیتے ہوئے فوج سے بھی اس سلسلے میں مدد طلب کی ہے۔
سندھ میں حالیہ بارشوں کے بعد تحریک انصاف کے رہنماؤں اور کراچی کے میئر اور ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر نے وفاقی حکومت سے مدد کی اپیل کی تھی۔
وزیراعظم کے احکامات کے بعد این ڈی ایم اے کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل محمد افضال کراچی پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ حکومت اور منتخب اراکین سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے چیئرمین نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل محمد افضال نے ملاقات کی جس موقعے پر صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر شاہ بھی موجود تھے اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق ملاقات میں کراچی میں حالیہ بارشوں کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔
این ڈی ایم اے کراچی میں کیا کرے گا؟
یاد رہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمینٹ اتھارٹی کا صوبائی سطح پر اپنا کوئی ڈھانچہ نہیں ہے۔ این ڈی ایم اے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ذریعے کام کرتی ہے، اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر کے ذریعے اپنی کارروایاں کرتی ہے۔
گورنر سندھ عمران اسماعیل کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے ایک سمری پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت پاکستان آرمی، این ڈی ایم اے اور فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کراچی میں بارش اور کچرے کے حوالے سے پیدا ہونے والے مسائل کے لیے ایک جامع حکمت عملی تیار کر کے قلیل المدتی اور طویل المدتی اقدامات تجویز کریں گے اور ان پر انہی اداروں کے ذریعے عمل درآمد کیا جائے گا جس کے لیے حکومت سندھ سے بھی تعاون کی امید ہے۔
ان کے مطابق ’تین مرحلوں میں کام کیا جائے گا، پہلے مرحلے میں نالوں سے نکالے گئے فضلے کو لینڈ فِل سائٹس تک پہنچایا جائے گا، دوسرے مرحلے میں جو نالے بند ہیں انہیں کھولا جائے گا جبکہ تیسرے مرحلے میں شہر میں جراثیم کش سپرے کیا جائے گا۔ اس ضمن میں فنڈنگ کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے کے چیئرمین، میئر کراچی اور دیگر اراکین اسمبلی سے ایک اجلاس کیا ہے جبکہ ایک اور اجلاس جمعے کو ہوگا جس میں کراچی کے مسائل کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ وزیراعظم نے منتخب اراکین اسمبلی کو ہدایت کی ہے کہ وہ بھی گراﺅنڈ پر موجود رہ کر اس کام کی نگرانی کریں تاکہ شہریوں کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جاسکے۔
نالوں پر تجاوزات اور وہاں کے مکینوں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر گورنر سندھ نے کہا کہ یہ انسانی ہمدردی کا مسئلہ ہے، انہیں متبادل جگہ فراہم کرنی ہوگی جس کے لیے وہ حکومت سندھ سے کہیں گے۔
کراچی میں اکثریتی نشستیں حاصل کرنے والی دونوں جماعتیں تحریک انصاف اور ایم کیو ایم اس وقت وفاقی حکومت میں اتحادی ہیں۔
این ڈی ایم اے کے چیئرمین کو کراچی بھیجنے کا فیصلہ
اس سے پہلے ایم کیو ایم کے وفاقی وزیر امین الحق نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وفاقی کابینہ کے فیصلے کی روشنی میں این ڈی ایم اے کے چیئرمین کراچی آرہے ہیں۔ ان کے مطابق چیئرمین این ڈی ایم اے کو اس مقصد سے بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا کہ وہ بارش کی پانی کی نکاسی کے مستقل حل کے لیے تجاویز پیش کریں۔
ان کے مطابق مقصد تہ تھا کہ چیئرمین این ڈی ایم اے گورنر، میئر کراچی، ڈی ایم سیز کے چیئرمینز، منتخب اراکین اسمبلی سے مشاورت کریں اور ان کی روشنی میں واپس آکر اپنی رپورٹ پیش کریں جس کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے

این ڈی ایم اے کے دائرہ کار پر سوال
وزیراعظم عمران خان نے بدھ کی شب اپنی ٹویٹ میں کہا تھا کہ ’میں نے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے چیئرمین کو فوری طور پر کراچی جانے اور بارش کے بعد صفائی کا کام شروع کرنے کی ہدایات دی ہیں۔
اس کے ایک گھنٹے بعد انھوں نے ایک اضافی ٹویٹ کی جس میں انھوں نے مزید لکھا: ’افواج پاکستان کو بھی شہر کی صفائی کے کام میں ہاتھ بٹانے کا کہا ہے۔‘
لیکن پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا ہے کہ این ڈی ایم اے آئے اور صورتحال دیکھے لیکن ’شہر سے دو روز قبل ہی برساتی پانی نکال دیا گیا تھا اب صرف کچھ علاقوں میں کیچڑ اور گندگی موجود ہے جس کو بھی صاف کیا جارہا ہے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو معلوم ہونا چاہیے کہ این ڈی ایم اے کا کردار اور دائرہ کار کیا ہے۔
’فوج اس وقت طلب کی جاتی ہے جب معاملات سول انتظامیہ کے ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں کیونکہ فوج کی انجینیئرنگ کور کے پاس جدید مشینری اور آلات ہیں اس لیے انھیں طلب کیا جاتا ہے۔ ’لیکن یہاں سول انتظامیہ پانی کی نکاسی میں کامیاب رہی ہے۔‘
صوبائی وزیر بلدیات ناصر شاہ کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے کی جانب سے تاحال کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔
’اگر وہ رابطہ کریں گے تو انھیں بریفنگ دی جائے گی۔ وہ کام کریں ہم انھیں ویلکم کریں گے۔‘
تحریک انصاف کے صوبائی رہنما این ڈی ایم اے سے متعلق اعلان کو اچھی خبر قرار دے رہے ہیں۔ علی حیدر زیدی کا کہنا تھا کہ ’عمران خان کے دل میں کراچی کے لیے خاص جگہ ہے۔ کراچی فوج کا خیر مقدم کرے گا اور ان کی حمایت کرے گا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
کراچی میں اس وقت بارش کا پانی تو نہیں لیکن کچرے کے ڈھیر ضرور موجود ہیں۔
سندھ حکومت کی یقین دہانی کے باوجود کراچی کے بعض علاقوں میں صفائی کی شدید ضرورت ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان کی جانب سے کوششیں کی جا رہی ہیں تاکہ جلد بحالی ممکن ہوسکے۔
صوبائی وزیر سعید غنی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے منصوبے گرین لائن کی وجہ سے نکاسی آب کا نظام متاثر ہوا ہے اور کئی لائنز آپس سے غیر منقطع ہوگئی ہیں اس لیے کے ڈی اے چورنگی سے لے کر پانی سڑکوں اور گلیوں میں آگیا۔
انھوں نے سوال کیا کہ صرف ضلع وسطی میں یہ صورتحال کیوں ہوئی اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔
’اورنگی میں جو نالہ اوور فلو ہوا اس کے اوپر گھر بنے ہوئے ہیں ان میں تو پانی جائے گا، لیاقت آباد کے کشمیری محلے میں نالے کے ساتھ ساتھ جو آبادی ہے اس کے ریٹرننگ وال میں سورخ کردیے گئے ہیں، جس سے پانی کی نکاسی متاثر ہو رہی ہے۔
’اسی طرح سولجر بازار پولیس لائن کے قریب جو پانی کی سات آٹھ لائنز ہیں ان میں سے صرف ایک چل رہی باقی بلاک تھیں۔‘

تحریک انصاف کراچی کے صدر خرم شیر زمان نے ٹوئٹر پر سڑکوں پر کھڑے پانی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’دیکھیے یہ ہے کراچی میں گذشتہ 12 سال سے پیپلز پارٹی کی کارکردگی۔‘
’تحریک انصاف کے ارکان کہاں تھے؟‘
سعید غنی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے وزیر سمیت کوئی بھی رکن بارشوں کے دوران سڑکوں پر نظر نہیں آیا جبکہ وزیر اعظم کی جانب سے گذشتہ دو سال کے دوران کراچی کے لیے بنائی گئی چار سے زائد کمیٹیوں نے اب تک اس شہر کے لیے کیا کیا ہے وہ بھی نظر نہیں آرہا۔
’لاکھوں ٹن نالوں سے کچرہ صاف کرنے کے دعویدار وزیر نے صفائی کے دوران صرف 20 ہزار ٹن کچرا لینڈ فل سائیڈ پر پہنچایا باقی لاکھوں ٹن اس نے اس شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں پھیلا دیا۔‘
یاد رہے کہ وفاقی وزیر علی زیدی نے گذشتہ سال اعلان کیا تھا کہ وہ کراچی سے کچرا اٹھائیں گے اس کے لیے انھوں نے ایک فنڈ بنانے کا بھی اعلان کیا تھا، جبکہ نالوں کی صفائی فوج کے ذیلی ادارے ایف ڈبلیو او سے کرانے کا اعلان کیا گیا۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایف ڈبلیو او کے ترجمان کا کہنا تھا کہ اگر رقم ادا کی جائے گی تو صفائی ضرور ہو گی۔
’نالوں کو بلاک کیا گیا تھا‘
صوبائی وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ سولجر بازار میں جہاں نالے کے اوور فلو ہونے کے باعث مشکلات درپیش تھیں وہاں نالے کی صفائی کے دوران بڑے بڑے پتھر جو ان نالوں کے پائپ کے منھ پر موجود تھے ان کو ہٹایا گیا۔

ان کا کہنا ہے کہ ’ماضی میں بھی اس طرح کے واقعات پیش آچکے ہیں جن میں کچھ سازشی ٹولے اپنی سیاست کو چمکانے اور پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کی غرض سے اس طرح کی حرکتیں کرتے رہیں ہیں، ان کے خلاف نہ صرف اب ایف آئی آر کا اندراج کروائیں گے بلکہ اس کے لیے اطراف کی سی سی ٹی وی فوٹیج سے بھی مدد لی جارہی ہے۔‘
واضح رہے کہ گذشتہ سال بھی صدر کے علاقے سے بعض لائنز سے بوریاں اور سیمنٹ کے بلاکس برآمد ہوئے تھے۔
بارشوں کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فنڈز
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نالوں اور دیگر متعلقہ اخراجات کی صفائی کے لیے 46 کروڑ تین لاکھ روپے جاری کیے ہیں۔

وزیراعلیٰ ہاؤس سے جاری اعلامیے کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 17 جولائی 2020 کو سالڈ ویسٹ ایمرجنسی اینڈ ایفیشنسی پروگرام (ایس ڈبلیو ای ای پی) کے تحت کراچی بھر میں اور مون سون کے خطرات کو کم کرنے کے لیے ہنگامی کارروائیوں کے تحت خصوصی گرانٹس اور ایڈ میں 20 کروڑ روپے کی رقم جاری کی گئی تھی۔
اس کے علاوہ کوڑا اور ملبہ اٹھانے کے لیے کمشنر کراچی کو تین کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔
تحریک انصاف کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ حکمرانوں نے کراچی کی عوام کو کھلے گٹروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ ’شہر اس لیے ڈوبا کیوںکہ نالوں کہ صفائی نہیں کی گئی تھی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ این ڈی ایم اے کراچی میں کام کرے گا۔ ’المیہ یہ ہے کہ سندھ میں معمول کا کام بھی ڈزاسٹر بنا دیا گیا ہے لیکن پرونشل ڈزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نظر نہیں آتی۔‘










