کراچی میں لوڈ شیڈنگ: سوشل میڈیا صارفین کی ’کے الیکٹرک‘ سے شکایات

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کراچی میں لوڈشیڈنگ کا مسئلہ نیا نہیں لیکن مستقبل قریب میں بھی یہ مسئلہ فی الحال حل ہوتا نظر نہیں آ رہا۔
ٹوئٹر پر بہت سے صارفین کراچی میں بجلی فراہم کرنے والی کمپنی 'کے الیکٹرک' کو کوستے رہتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ ایک طرف کورونا وائرس کی وبا نے حالات مشکل بنا دیے ہیں اور اوپر سے شدید گرمی میں ہونے والی لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔
صحافی عبدالغفار نے کے الیکٹرک کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیہ ٹویٹ کیا جس میں لکھا تھا کہ 'معزز صارفین تیل کی کمی کے باعث آپ کو رات نو سے دس بجے کے دوران بجلی میں تعطل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ تکلیف کے لیے معذرت خواہ۔' اس پیغام کے ساتھ عبدالغفار نے لکھا کہ 'ہم گذشتہ رات پہلے ہی دس گھنٹے سے بجلی نہ ہونے کی وجہ سے تکلیف میں ہیں۔ کے ای معاف کر دو بھائی۔'
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سمیرہ ججہ نامی صارف نے لکھا کہ 'کراچی والوں کی اس عالمی وبا کے دوران زندگیاں اجیرن کرنے کا شکریہ، کے الیکٹرک۔ بجلی بند ہونے کی وجہ سے لوگ بیمار ہو رہے ہیں۔'

،تصویر کا ذریعہ@GhaffarDawnNews
صحافی فیضان لکھانی نے ٹویٹ کی کہ ’کراچی کے لوگ کیوں تکلیف میں رہتے ہیں؟ جو بھی وجوہات ہیں کے الیکٹرک کا کام ہے کہ وہ ہمیں بجلی فراہم کرے جس کا تسلسل نہ ٹوٹے، اگر کسی وجہ سے کے ای ناکام ہوتی ہے تو اُسے صارفین کو ہرجانہ ادا کرنا چاہیے۔‘
عثمان شیخ کا کہنا تھا کہ 'آدھا کراچی بند ہے۔ (بجلی کا) لوڈ تو پہلے ہی آدھا ہے پھر یہ لوڈشیڈنگ کس لیے؟ لوگوں کو بیوقوف بنانا بند کرو۔ ایندھن کی کوئی کمی نہیں ہے، کے ای جھوٹ بول رہا ہے۔ لوڈشیڈنگ کے بعد لمبا چوڑا بِل مل جائے گا۔'
کے ای کی جانب سے معذرت کا پیغام بظاہر کراچی میں بہت سے صارفین کو بھی ملا جنھوں نے ان الفاظ کو اپنی ٹویٹس میں دہرایا۔ اسی لیے 'ڈیئر کسٹمر' ٹوئٹر پر بھی ٹرینڈ کرتا رہا۔
محمد ابراہیم نے ٹویٹ کی 'کے الیکٹرک براہ مہربانی سپلائی کھولیں۔ میری آن لائن تعلیم کا سلسلہ اور میرا پراجیکٹ متاثر ہو رہا ہے۔' انھوں نے سندھ کے گورنر عمران اسماعیل کو ٹیگ کر کے لکھا 'سر برائے مہربانی اس معاملے کو دیکھیں۔ کراچی رو رہا ہے۔'
کے الیکٹرک کی وضاحت
اس صورتحال میں بظاہر کے الیکٹرک کی سوشل میڈیا ٹیم بھی متحرک نظر آئی اور اکثر شکوہ کرنے والوں کو ٹوئٹر پر جواب دیا گیا۔
کے الیکٹرک نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے یہ وضاحت بھی کی کہ لوڈ شیڈنگ کی وجوہات کیا ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
کے الیکٹرک کا کہنا تھا کہ کراچی میں شدید گرمی اور فضا میں نمی کی وجہ سے بجلی کی طلب بلند ترین سطح یعنی3450 میگاواٹ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ فرنس تیل اتنی مقدار میں مارکیٹ میں دستیاب نہیں جتنی ضرورت ہے نتیجتاً روزانہ 800 ایم ٹی کی کمی ہو رہی ہے۔
دیگر مختلف عوامل بیان کرنے کے بعد کے الیکٹرک نے کہا کہ 'ہماری سپلائی 3150 میگا واٹ سے کم ہو کر 2800 میگا واٹ تک پہنچ گئی ہے۔'
صحافی عنبر رحیم شمسی نے اس بیان کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ 'ہر سال گرمی اور ہوا میں نمی کا تناسب زیادہ ہوتا ہے۔ ہر سال بجلی کی طلب بڑھتی ہے۔ کیا اس کی توقع نہیں کی جانی چاہیے تھی؟ وزارت کو کب پہلی بار مطلع کیا گیا اور فرنس تیل درآمد کرنے کا فیصلہ جلدی کیوں نہیں کیا گیا؟'

،تصویر کا ذریعہ@AmberRShamsi
عامر اخلاق نے کے الیکٹرک کے پیغام کو دہراتے ہوئے حکومت سے سوال کیا۔ 'ڈیئر حکومت کے الیکٹرک کو ایندھن کی کمی کیوں ہو رہی ہے؟'
شایان کھتری بھی کے الیکٹرک کی وضاحت سے خوش نہیں ہوئے انھوں نے لکھا کہ 'ایک اور نیا ڈرامہ پہلے روزانہ کوئی تکنیکی خرابی ہوتی تھی اب ایندھن کا بہانہ۔'
صحافی فصیح منگی نے کے الیکٹرک کے بیان کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے دعوی کیا کہ ’کے الیکٹرک الفاظ سے کھیل کر الزامات کا رخ کسی اور طرف موڑ رہی ہے۔ گیس سپلائی میں کمی نہیں آئی۔ سوئی سدرن نے حال ہی میں سپلائی بڑھا کر 100 ملین ایم ایم سی ایف ڈی کی ریکارڈ سطح تک پہنچائی اور پھر بھی 50 ایم ایم سی ایف ڈی عام حالات سے زیادہ دے رہی ہے‘۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
اپنی ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے کہا بجلی جانے کی وجہ سے گذشتہ کچھ دنوں سے کراچی میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔
کے الیکٹرک نے اس صورتحال کے تناظر میں ایک اور پیغام بھی جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ’پرتشدد گروہ نے گرڈ سٹیشن اور دفاتر کو نقصان پہنچایا ہے۔ ہم پورا ہفتہ دن کے چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں اور ایندھن کی کمی کے باوجود ہماری کوشش ہے کہ جتنی بجلی سپلائی کرسکتے ہیں کریں۔ اس مشکل وقت میں براہ مہربانی برداشت کا مظاہرہ کریں۔‘
اس تھریڈ کے نیچے کے الیکٹرک نے اس مبینہ حملے کی ویڈیو بھی جاری کی۔










