مطیع اللہ جان سے اغواکاروں کا سوال: ’کیا آپ کو معلوم ہے کہ آپ کو کس نے اغوا کیا؟‘

مطیع اللہ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Matiullahjan919

    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

گذشتہ روز سپریم کورٹ میں صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف توہین عدالت کے ایک کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت کے سامنے مطیع اللہ جان کے بھائی شاہد عباسی کا ایک تحریری بیان پڑھ کر سنایا تھا جس کے مطابق منگل کو رات گئے انھیں (شاہد عباسی) ایک فون کال کر کے بتایا گیا کہ وہ اپنے بھائی (مطیع اللہ) کو فتح جنگ کے علاقے قطب آباد سے لے جائیں۔

یاد رہے کہ منگل کی صبح مطیع اللہ کو اسلام آباد کے علاقے سیکٹر جی سکس میں ان کی اہلیہ کے سکول کے باہر سے چند مسلح افراد نے اغوا کیا تھا تاہم 12 گھنٹے بعد وہ اپنے گھر واپس پہنچ گئے تھے۔

بدھ کو سپریم کورٹ میں ہونے والی عدالتی کارروائی کے بعد بی بی سی نے صحافی مطیع اللہ جان اور ان کے قریبی رشتہ داروں سے اس حوالے سے بات کی ہے۔

مطیع اللہ جان کے مطابق ان کو اغوا کرنے کے فورا بعد انھیں ہتھکڑی لگا دی گئی جبکہ ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی تھی۔ اس دوران انھیں کسی دفتر بھی لے جایا گیا تھا جبکہ اغوا کار انھیں بولنے کا موقع نہیں دے رہے تھے اور انھیں اپنا منھ بند رکھنے کا کہتے رہے۔

یہ بھی پڑھیے

مطیع اللہ جان کے مطابق وہ مکمل تفصیلات تو پولیس کو اپنے بیان میں بتائیں گے کہ انھیں اس واقعے کے ذریعے کیا بات سمجھانے کی کوشش کی گئی تاہم وہ اس واقعے کا تعلق سپریم کورٹ میں اپنے خلاف توہین عدالت کے مقدمے سے بھی جوڑتے ہیں۔

جب مطیع اللہ کے بھائی فتح جھنگ پہنچے تو ان سے پوچھ گچھ کے بعد مطیع اللہ جان کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔ مطیع اللہ جان نے اپنی ویڈیو میں بتایا کہ جب اغوا کاروں نے انھیں جھاڑیوں میں پھینک دیا تھا تو اس کے بعد انھوں نے وہاں کسی مسافر کے موبائل سے اپنے بھائی کو خود فون کیا تھا۔

مطیع اللہ نے ویڈیو میں یہ بھی بتایا اس موقع پر ان کے اغواکاروں نے اُن سے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ کیا وہ زرق خان تو نہیں ہیں۔ ان کے خیال میں اغوا کار انھیں یہ تاثر دے رہے تھے کہ انھیں کسی غلط فہمی کی بنیاد پر اغوا کر دیا گیا۔

مطیع اللہ جان

،تصویر کا ذریعہAzaz Syed

مطیع اللہ کے مطابق ان 12 گھنٹوں کے دوران انھیں کھانا وغیرہ تو نہیں دیا گیا تاہم جب کبھی انھوں نے پانی مانگا تو گاڑی روک کر ان کو پانی ضرور پیش کیا جاتا رہا۔

اغوا کاروں کو مطیع اللہ جان کا فون نمبر کہاں سے ملا؟

مطیع اللہ جان کا فون نمبر تو شاید اغوا کاروں کے پاس تھا مگر انھوں نے یہ بات یقینی بنانے کے لیے کہ وہ اس وقت اکیلے ہیں، ان کے ایک بھائی کو کال کی اور یہ کہا کہ ایک ادارے کے ایک اہم عہدیدار توہین عدالت مقدمے کے سلسلے میں مطیع اللہ جان سے بات کرنا چاہتے ہیں لہذا ان کا فون نمبر دے دیں۔

اس کے بعد مطیع اللہ جان کو کراچی کے ایک نمبر سے کال بھی موصول ہوئی اور ابھی یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ مطیع اللہ جان کو کچھ افراد نے قابو کر لیا۔ شاید اس فون نمبر سے ہی ان کی موجودگی کی صحیح جگہ معلوم کی گئی۔

مطیع اللہ جان نے اس پر مزاحمت کی اور اپنا فون سکول کے اندر پھینک دیا۔

مطیع اللہ جان نے موبائل سکول کے اندر کیوں پھینکا؟

مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی اہلیہ جو اس سرکاری سکول میں پڑھاتی ہیں، کو یہ پیغام دینے کے لیے کہ انھیں اغوا کیا جا رہا ہے، اپنا فون سکول کے اندر پھینک دیا تھا۔ سی سی ٹی وی کی فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک باوردی شخص گیٹ سے اس موبائل کو مانگتا ہے اور سکول کی ایک ٹیچر فون اس شخص کو دے دیتی ہیں۔

مطیع اللہ نے سنا کہ وہ شخص خوشی سے اپنے دوسرے ساتھیوں کو کہہ رہا ہوتا ہے کہ موبائل دوبارہ مل گیا اور اس کے بعد وہاں سے قافلہ نامعلوم مقام کی طرف چل پڑتا ہے۔

مطیع اللہ

،تصویر کا ذریعہEPA

اس دوران مطیع اللہ جان کی اہلیہ بے خبر رہتی ہیں۔ وہاں موجود سکول کا عملہ بھی انھیں یہ نہیں بتاتا کہ اصل واقعہ کیا ہوا ہے تاہم انھیں گاڑی کے اندر سے مطیع اللہ جان کا دوسرا موبائل فون مل گیا۔ اس کے بعد انھوں نے اس فون کے ذریعے پولیس اور میڈیا کے نمائندوں کو آگاہ کیا کہ ان کے شوہر کو کوئی لے گیا ہے۔

بیان آج ریکارڈ ہو گا

دوسری جانب پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے صحافی مطیع اللہ جان کو جمعرات کو بیان ریکارڈ کرانے کے لیے طلب کیا ہے۔ یہ بیان پولیس کے سامنے ضابطہ فوجداری (سی آر پی سی) کی دفعہ 161 کے تحت جبکہ مجسٹریٹ کے سامنے دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کرایا جائے گا۔

اسلام آباد کے تھانہ آبپارہ کے ایس ایچ او شوکت عباسی کے مطابق عدالت کے حکم کے بعد پولیس نے صحافی مطیع اللہ جان کا جمعرات کو تفصیلی بیان ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اس بیان کے بعد پولیس اپنی تفتیش کو مزید آگے بڑھائے گی۔

ایس ایچ او شوکت عباسی کے مطابق پولیس یہ جاننے کی کوشش کرے گی کہ جن لوگوں نے ان کو اغوا کیا وہ ان کو کہاں کہاں لے کر گئے اور پھر کس مقام سے ان کو رہا کیا گیا۔

مطیع اللہ جان کی بازیابی کے بعد بدھ کو سپریم کورٹ نے اسلام آباد پولیس کو ان کا بیان ریکارڈ کرنے کی ہدایت کی تھی۔

پولیس نے اب تک اس مقدمے میں کیا تفتیش کی؟

صحافی مطیع اللہ جان کو اغوا کرنے والے کون تھے اس بات کا پتا چلانے کے لیے اسلام آباد پولیس نے سی سی ٹی وی سے حاصل ہونے والی ویڈیو قومی شناختی ادارے، نادرا کو بھجوا دی ہے۔

ایس ایچ او شوکت عباسی نے بی بی سی کو بتایا کہ نادرا سے یہ درخواست کی گئی ہے کہ وہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت کر کے دیں تاکہ عدالت میں پیشرفت رپورٹ جمع کرائی جا سکے۔

ایس ایچ او شوکت عباسی کے مطابق مزید ویڈیو ثبوت حاصل کرنے کے لیے اسلام آباد پولیس کے سی سی ٹی وی آفس سے بھی درخواست کی گئی ہے کہ اس علاقے کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیں تاکہ جو لوگ اس واقعے میں ملوث ہیں ان کی پہچان کی جا سکے۔

پولیس نے یہ ویڈیو فرانزک رپورٹ کے لیے لاہور بھجوا دی ہے تاکہ مزید معلومات اکھٹی کی جا سکیں۔ دو ہفتوں تک اسلام آباد پولیس کے انسپکٹر جنرل اس واقعے کی مکمل رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائیں گے۔