مطیع اللہ جان کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کیس کی سماعت: صحافی کے’مبینہ اغوا‘ کا نوٹس، پولیس سے رپورٹ طلب

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Matiullahjan919
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اسلام آباد پولیس کو گذشتہ روز مبینہ طور پر اغوا اور پھر بازیاب ہونے والے سینیئر صحافی مطیع اللہ جان کا بیان ریکارڈ کرنے اور اس معاملے سے متعلق جامع رپورٹ دو ہفتوں میں عدالت عظمی میں جمع کروانے کے احکامات جاری کیے ہیں۔
عدالت عظمی کی جانب سے یہ احکامات صحافی مطیع اللہ جان کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اعلی عدلیہ کے ججز کے خلاف ’توہین آمیز‘ الفاظ استعمال کرنے کے الزام میں شروع ہونے والے ایک کیس کی سماعت کے دوران دیے گئے۔
مذکورہ صحافی کی جانب سے کی جانے والی ٹویٹ پر 15 جولائی کو چیف جسٹس آف پاکستان نے از خود نوٹس لیتے ہوئے مطیع اللہ سمیت متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کیے تھے۔ بدھ (آج) کو اس کیس کی پہلی باقاعدہ سماعت ہوئی۔
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کی ابتدا میں چیف جسٹس نے مطیع اللہ کے مبینہ اغوا کا نوٹس لیتے ہوئے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا مذکورہ صحافی کی بازیابی کے بعد ان کا بیان ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اٹارنی جنرل نے اس کا نفی میں جواب دیا تو چیف جسٹس برہم ہو گئے اور اُنھوں نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ادارے اپنا کام صیح طریقے سے کیوں نہیں کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یاد رہے کہ منگل کی صبح مطیع اللہ جان کو اسلام آباد کے علاقے سیکٹر جی سکس میں ان کی اہلیہ کے سکول کے باہر سے چند مسلح افراد نے اغوا کیا تھا تاہم اغوا کے 12 گھنٹے بعد وہ اپنے گھر واپس پہنچ گئے تھے۔
مطیع اللہ جان نے توہین عدالت سے متعلق عدالت عظمی کی طرف سے جاری کیے گئے نوٹس کا جواب دینے اور وکیل کرنے کے لیے عدالت سے استدعا کی جو منظور کر لی گئی۔ عدالت نے اس از خود نوٹس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
سماعت کے دوران کیا ہوا؟
سپریم کورٹ کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے مطابق چیف جسٹس نے سماعت کے آغاز میں کہا کہ کل بہت شور شرابہ تھا یہ سب کیا تھا؟ اس پر اٹارنی جنرل نے مطیع اللہ کے بھائی شاہد عباسی کی مدعیت میں درج ہونے والی ایف آئی آر کا بتایا اور حکومتی بیان پڑھ کر سنایا جس میں بتایا گیا تھا کہ وہ (مطیع اللہ) فتح جنگ کے علاقے قطب آباد سے بازیاب ہوئے۔
عدالت میں جب صحافی مطیع اللہ نے بولنے کی کوشش کی تو چیف جسٹس نے انھیں روکتے ہوئے کہا کہ ’آپ نہ بولیں، آپ کو ہم توہین عدالت کے معاملے میں سنیں گے۔‘
دوران سماعت سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا کہ کیا کل کے واقعے کا تعلق آج سپریم کورٹ میں ہونے والی کارروائی سے بھی بنتا ہے؟
صحافی مطیع اللہ نے توہین عدالت کے مقدمے میں عدالت کو بتایا کہ کل کے واقعے کی وجہ سے وہ توہین عدالت کیس میں اپنا جواب تیار نہیں کر سکے۔ انھوں نے عدالت سے درخواست کی کہ ان کو فری اینڈ فیئر ٹرائل کا موقع دیا جائے۔
اس پر چیف جسٹس نے انھیں کہا کہ آپ کو بھرپور موقع دیا جائے گا اور یہ سب شفاف ہو گا۔
مطیع اللہ نے کہا کہ وہ وکیل کی خدمات بھی حاصل کریں گے تاہم وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اُن کے اغوا کا اس (توہین عدالت) مقدمے سے براہ راست تعلق ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو بیان دیتے ہوئے محتاط ہونا چاہیے، آپ کے اس بیان کا کیا مطلب ہے۔ اس پر مطیع اللہ نے کہا کہ ’کیوں کہ آپ نے پوچھا تھا کہ کل کے واقعے کا اس کیس سے کوئی تعلق تو نہیں بنتا، میں نے اُس کا جواب دیا ہے۔‘
سماعت کے اختتام پر جب عدالت نے اپنے مختصر تحریری فیصلے میں ’مبینہ اغوا‘ کا لفظ استعمال کیا تو مطیع اللہ نے کہا کہ وہ حقیقت میں اغوا ہوئے اسے ’مبینہ‘ نہ لکھا جائے۔ اس پر جسٹس اعجاز الحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ قانونی زبان ہے، آپ کی بات کو ہم غلط نہیں کہہ رہے۔

اس موقع پر اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ حکومت اس معاملے میں بھرپور کردار ادا کر رہی ہے اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی یقینی بنائی جائے گی۔
سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت کو بتایا کہ یہ ریاست بنانا ریپبلک نہیں ہے یہاں شہریوں کے حقوق ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے آپ کے خدشات کا نوٹس لیا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ شہریوں کے حقوق کوڑے دان میں نہیں پھینکے جا سکتے اور کوئی بھی یہ حقوق سلب نہیں کر سکتا۔
صحافی تنظیموں کے نمائندہ افضل بٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ عدالت اس معاملے کو آخر تک سنے۔
سپریم کورٹ نے مطیع اللہ کو دو ہفتوں میں توہین عدالت کے کیس میں اپنا جواب تیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے انھیں وکیل کی خدمات حاصل کرنے کو کہا ہے۔ اس کیس میں آئندہ سماعت دو ہفتوں بعد ہو گی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیا ہوا؟
اس سے قبل صحافی مطیع اللہ جان کے اغوا سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اس واقعے پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’کل جو کچھ ہوا اس کے لیے پوری ریاست ذمہ دار ہے۔‘
مطیع اللہ جان کے بھائی شاہد عباسی نے گذشتہ روز اپنے بھائی کی بازیابی اور ذمہ داران کے خلاف کارروائی کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس پر جسٹس اطہر من اللہ نے صحافی کو بازیاب کرانے کا حکم دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی تھی کہ اگر مطیع اللہ کو بازیاب نہیں کرایا جا سکا تو حکام بدھ کو ذاتی حیثیت میں عدالت میں پیش ہوں۔
نمائندہ بی بی سی شہزاد ملک کے مطابق بدھ کو اس معاملے میں ہونے والی سماعت کے دوران چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ دن دیہاڑے جس طرح صحافی کو اٹھایا گیا، کیا سب ادارے تباہ ہو چکے ہیں؟

اُنھوں نے اسلام اباد پولیس کے حکام کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ کس میں اتنی ہمت ہے کہ وہ پولیس کی وردی میں آ کر بندہ اٹھا لے؟
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے یہ سوال بھی اُٹھایا کہ جائے وقوعہ پر پولیس کی وردی پہنے، پولیس کی گاڑی جیسے اشارے لگائے کون پھرتا رہا؟ اُنھوں نے کہا کہ متعقلہ حکام کو ان سوالوں کے جواب دینا ہوں گے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جب یہ واقعہ ہوا تو اسلام آباد پولیس کہاں تھی، دارالحکومت میں ایسا کیسے ہو گیا؟ اُنھوں نے کہا کہ اس واقعہ سے متعلق میڈیا میں جو رپورٹ ہوا ہے اس کے مطابق مقامی پولیس کو تو اس واقعے کا علم ہی نہیں تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ عام آدمی کو کیا تاثر جائے گا کہ یہاں پولیس وردی میں لوگ دندناتے پھر رہے ہیں، یہ آزادی صحافت اور آزادی اظہار رائے کا معاملہ ہے، صحافیوں کے خلاف جرائم کا خاتمہ ہو جانا چاہیے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس واقعہ سے متعلق سی سی ٹی وی فوٹیج موجود ہے، یہ پولیس کے ساتھ وفاقی حکومت کے لیے بھی ایک ٹیسٹ کیس ہے۔
اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی آپریشن وقار الدین نے عدالت کو بتایا کہ اس واقعہ سے متعلق اغوا کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور اس مقدمے میں انسداد دہشت گردی کی دفعات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
چیف جسٹس نے اسلام آباد پولیس کے ڈی آئی جی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ درج کرنا قانونی تقاضا ہے اور وہ معمول کی باتیں نہ کریں بلکہ اغوا کاروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں۔
اُنھوں نے کہا کہ پولیس ایسے اقدامات کرے کہ مستقبل میں ایسے واقعات رونما نہ ہوں۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس درخواست کو نمٹایا نہ جائے بلکہ عدالت اس واقعے کے بارے میں متعقلہ حکام سے پیشرفت رپورٹس طلب کریں جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عدالت اس کیس کی نگرانی نہیں کر سکتی۔
جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ ہمیں پولیس اور ریاست پر اعتبار کرنا ہو گا، انھیں ہی قانون کے مطابق کارروائی کرنے دیں۔ مطیع اللہ جان کی بازیابی اور مقدمہ درج ہو جانے پر عدالت نے اس درخواست کو نمٹا دیا۔
سپریم کورٹ نے نوٹس کیوں دیا تھا؟
15 جولائی کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے صحافی مطیع اللہ جان کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اعلی عدلیہ کے ججز کے خلاف ’توہین آمیز‘ الفاظ استعمال کرنے کے الزام میں نوٹس جاری کیا تھا۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے بدھ کو اپنی سربراہی میں سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔ آج سپریم کورٹ میں اس کیس پر بھی سماعت ہوئی۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس سے متعلق سپریم کورٹ کے دس رکنی بینچ کے فیصلے کے بعد صحافی مطیع اللہ جان نے اپنی ایک ٹویٹ میں ایسے الفاظ لکھے تھے جس سے عدالت عظمی نے یہ خیال کیا کہ اس سے توہین عدالت کا پہلو نکلتا ہے۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مطیع اللہ جان کا کہنا تھا کہ ظاہری طور پر یہ اسی ٹویٹ کا معاملہ ہو سکتا ہے جس میں انھوں نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے صدارتی ریفرنس کے کیس کے پس منظر میں اعلی عدلیہ کے سات ججز کے 'کردار‘ کی بابت بات کی تھی۔
انھوں نے کہا کہ ’اعلیٰ عدلیہ کی ججز کی برداشت کو بھی اعلیٰ ہونا چاہیے اور ایک ایسے وقت میں جب ملک میں آزادی اظہار رائے کے حوالے سے پہلے ہی گھٹن کا ماحول ہے تو کہیں نہ کہیں سے بات تو کی جاتی ہے جو شاید چند افراد کو ناپسندیدہ لگے۔‘
انھوں نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ سے ان کی استدعا ہو گی کہ وہ آئندہ سماعت پر اس معاملے میں ان کا مکمل موقف سنیں۔













