کورونا وائرس کی وبا کے دنوں میں کیا عید قربان کے لیے جانور کی خریداری کرنے مویشی منڈی جانا محفوظ ہے؟

،تصویر کا ذریعہCattle Market Administration
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کورونا ایس او پیز کا تعین ہونے سے قبل ہی مویشی منڈی کا آغاز کر دیا گیا ہے، ہر برس یہ مویشی منڈی ملیر کینٹ بورڈ کے زیر انتظام قائم کی جاتی ہے۔
کراچی کو اندرون ملک سے جوڑنے والی مرکزی شاہراہ سپر ہائی وے پر سہراب گوٹھ کے قریب اس مویشی منڈی کا انعقاد کیا جاتا ہے، جہاں ساہیوال کے مشہور بیلوں سے لے کر نوشہرو فیروز کے خوبصورت بکروں، غیر ملکی نسل کے جانوروں کے ساتھ صحرائی اور ساحلی علاقوں سے سیاہ اونٹ اور برفانی علاقے سے یارک بھی لائے جاتے ہیں۔
عید قربان کا ایک مہینہ یہ منڈی ایک تفریح گاہ اور فوڈ سٹریٹ بھی بن جاتی ہے، شوبز سے تعلق رکھنے والی اداکاروں سمیت مختلف شعبہ زندگی کی نامور شخصیات یہاں آتی ہیں، عام دنوں میں جہاں دھول مٹی اڑتی ہے وہاں ان دنوں میں میلے کا سماں ہوتا ہے۔
لیکن کیا اس بار کورونا کی وبا کے دوران مویشی منڈی میں خریداری کرنے جانا محفوظ ہو گا اور کیا یہاں حکومت کے مروجہ احتیاطی ضابطہ کار یعنی ایس او پیز پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
کیا مویشی منڈی جانا محفوظ ہے؟
سندھ میں کورونا وائرس کی روک تھام میں محکمہ صحت کے معاون انڈس ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر باری کا کہنا ہے کہ جہاں لوگوں کا اجتماع ہو گا وہاں وائرس پھیلنے کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’مویشی منڈی میں گندگی ہوتی ہے لوگوں کا بے تحاشہ رش رہتا ہے، ٹریفک جام ہوتا ہے اور ملک بھر سے بیوپاری اور جانور آتے ہیں، اس صورتحال میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خطرات اور خدشات مزید بڑھ جاتے ہیں۔‘
اگر ایس او پیز پر عمل کیا جائے تو کیا یہ محفوظ ہو گا کے سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ان کا مشاہدہ اور تجربہ یہ ہی بتاتا ہے کہ لوگ ان ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کرتے، صوبے میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ ان ایس او پیز کی خلاف ورزی کی واضح مثال ہے۔

،تصویر کا ذریعہCattle Market Administration
عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کے مطابق کورونا وائرس جانور سے انسان میں منتقل ہوا ہے لیکن جانوروں میں اس کے پھیلنے کے ابھی شواہد نہیں ملے تاہم لوگوں کو پالتو جانوروں سے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی چاہیے کیونکہ وہ ان سے پیار کرتے ہوئے ہاتھ پھیرتے ہیں۔
ڈاکٹر عبدالباری کا کہنا تھا کہ قربانی کے جانوروں کو لوگ ہاتھ لگاتے ہیں اگر کوئی کورونا متاثرہ شہری کسی جانور کو ہاتھ لگاتا ہے تو وائرس جانور کے کھال پر رہ سکتا ہے جو بھی دوبارہ اس جانور پر ہاتھ لگائے گا تو وہ متاثر ہو سکتا ہے۔
مویشی منڈی میں احتیاطی ضابطہ کار پر کتنا عمل؟
مویشی منڈی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت نے جو ایس او پیز جاری کیے ہیں ان پر عمل درآمد کیا جارہا ہے۔ جس کے مطابق بغیر ماسک اور دستانوں کے کسی بھی شخص کو منڈی میں داخلے کی اجازت نہیں ہو گی۔
اگر کسی سٹال پر بیوپاری نے ماسک نہیں پہن رکھا تو اس کا سٹال منسوخ کر دیا جائے گا، اس کے علاوہ 10 برس سے کم عمر بچوں اور 50 برس سے زائد عمر افراد کو منڈی میں آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
مویشی منڈی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ منڈی ایک ہزار ایکڑ پر مشتمل ہے جس کو 48 بلاکس میں تقسیم کیا گیا ہے، ان میں سے 22 بلاکس وی آئی پی بلاکس ہیں جبکہ دیگر عام کیٹگری کے بلاکس ہیں۔
ترجمان کے مطابق اس مویشی منڈی میں ہر سال اربوں روپے کا کاروبار ہوتا ہے، ہزاروں روپے مالیت کے بکروں سمیت لاکھوں روپے مالیت کے بیل اور اونٹ فروخت ہوتے ہیں۔ رواں برس اس منڈی میں پانچ لاکھ جانور رکھنے کی گنجائش رکھی گئی ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ اس منڈی کے وی آئی پی بلاک میں فی سٹال ایک لاکھ سے پونے دو لاکھ روپے میں دیا جاتا ہے جبکہ عام کیٹگری میں 50 ہزار روپے کرایہ رکھا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ کورونا وائرس کے پیش نظر منڈی میں موجود جانوروں کی صفائی ستھرائی اور دیکھ بھال کے لیے بیوپاریوں سے فی بڑا جانور 1500 جبکہ فی بکرا ایک ہزار روپے کے حساب سے منڈی فیس وصول کی جائے گی۔
’اس فیس میں ان جانوروں کو سینیٹائیز اور ان کی فیومیگیشن بھی کی جائے گی۔‘

،تصویر کا ذریعہCattle Market Administration
ان کا کہنا تھا کہ یومیہ فی جانور کے لیے 15 لٹر پانی مفت ہے جبکہ باقی ڈیڑھ روپے فی لٹر کے حساب سے چارج کیا جائے گا۔
ترجمان نے بتایا کہ منڈی میں داخلے کے لیے چار گیٹ رکھے گئے ہیں اور پارکنگ کے لیے فیس مقرر ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ پارکنگ فیس وہ ہی ہے جو شہر میں عام دنوں میں وصول کی جاتی ہے۔
حکومت سندھ سے منڈی لگانے کے لیے اجازت لینے کے بارے میں ترجمان نے واضح کیا کہ یہ علاقہ ملیر کینٹ میں آتا ہے لہذا یہاں صوبائی حکومت کی اجازت کا جواز نہیں بنتا۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت سمیت صوبائی حکومتیں مویشی منڈی لگانے کی اجازت کے بارے میں ابھی فیصلہ نہیں کرسکی ہیں، گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کا ایک اجلاس کی صدارت کے دوران کہنا تھا کہ قربانی کے انتظامات کے ساتھ ساتھ حفاظتی تدابیر پر عمل ہونا چاہیے، اس حوالے سے واضح حکمت عملی ترتیب دی جا رہی ہے۔
انھوں نے کہا تھا کہ’حکومت ہر ممکن سہولت یقینی بنائے گی اور مویشیوں کے بیوپاریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانےکے ساتھ عوام کے تحفظ کو بنیادی ترجیح دی جائے گی۔ قربانی کے لیے حکمت عملی کو تمام سٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ترتیب دیا جائے گا۔‘
دوسری جانب کمشنر کراچی افتخار شلوانی کا کہنا ہے کہ اس وقت شہر میں لاک ڈاون جاری ہے ابھی مویشی منڈیوں کی اجازت دینے کا فیصلہ نہیں ہوا جب یہ فیصلہ کیا جائے گا تو وہ ایس او پیز کے ساتھ مشروط ہو گا۔
سپر ہائی وے پر موجود منڈی کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ایک بڑی منڈی تو لگائی جائے گی تاہم پہلے سے لگائی جانے والی منڈی کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ منڈی انتظامیہ نے اس کے لیے وفاقی حکومت سے اجازت لی ہو گی۔
واضح رہے کہ عیدالفطر سے قبل بازار، مارکیٹیں اور شاپنگ مالز کھولنے کی اجازت دے دی گئی تھی، عید کے دس روز کے بعد پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
جبکہ ماہرین صحت اور حکومتی حکام ملک میں کورونا کی وبا کے عروج کے حوالے سے جولائی اور اگست کے ماہ کو اہم قرار دے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اس دوران وبا کی شدت میں اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔









