علامہ طالب جوہری: پاکستان کے معروف عالمِ دین اور ذاکر انتقال کر گئے، نماز جنازہ ادا

،تصویر کا ذریعہPTV
پاکستان کے معروف عالمِ دین اور ذاکر علامہ طالب جوہری کراچی میں انتقال کر گئے ہیں۔ ان کی عمر 80 برس تھی۔
پاکستان کے سرکاری چینل پی ٹی وی کے مطابق ان کے بیٹے کا کہنا ہے کہ مولانا طالب جوہری کچھ روز سے علیل تھے اور کراچی کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج تھے۔
علامہ طالب جوہری کی نماز جنازہ کے موقع پر کورونا وائرس کی صورتحال کے پیش نظر جاری کردہ سماجی فاصلے کی ہدایات کی خلاف ورزی دیکھی گئی۔
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق کراچی کے علاقے انچولی میں ان کی نماز جنازہ کے دوران لوگوں کی ایک بڑی تعداد اکٹھی ہوئی۔ ان کی تدفین نیو رضویہ میں مدرسے میں کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جنازے میں سماجی و سیاسی شعبوں سے منسلک افراد نے شرکت کی۔
علامہ طالب جوہری شاعر، ذاکر، مورخ اور فلسفی تھے۔ انھوں نے قرآن کی تفیسر سمیت شاعری اور مذہب پر کتابیں بھی تحریر کی تھیں۔ ان کے والد مشہور عالم دین علامہ مصطفیٰ خاں جوہر تھے۔

،تصویر کا ذریعہPTV
علامہ طالب کئی برسوں تک پی ٹی وی پر بطور ذاکر واقعہ کربلا کی یاد میں خصوصی مجالس ’شامِ غریباں‘ پڑھا کرتے تھے۔ وہ اپنے انداز خطابت کی وجہ سے پاکستان سمیت دیگر ممالک میں بھی کافی معروف تھے۔
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور دیگر سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے علامہ طالب جوہری کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
علامہ طالب جوہری کے ساتھ 'علم کا ایک باب ختم ہوا'
ادھر سوشل میڈیا پر بھی صارفین انھیں اپنے انداز میں یاد کر رہے ہیں۔
صحافی وجاہت کاظمی کا کہنا ہے کہ ’ یہ ایک افسوس ناک خبر ہے۔ وہ ایک عظیم سکالر تھے۔ میں انھیں بچپن سے دیکھتا اور سنتا آیا ہوں۔‘
ایک صارف نے ٹویٹ کیا کہ ’ہمارا تعلق سنی گھرانے سے ہے، لیکن یاد نہیں کہ پاکستان میں رہتے ہوئے شاید ہی کوئی ایسا دس محرم گزارا ہو جس میں علامہ طالب جوہری کی پڑھی گئی شام غریباں نہ سنی ہو۔ صرف ہمارا ہی گھر نہیں بلکہ ہمارا سارا خاندان علامہ طالب جوہری کے انداز بیاں کا قائل تھا۔ علم کا ایک باب ختم ہوا۔‘

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@A_Y_A_Z_Joiya
علی سلمان علوی کے مطابق علامہ طالب جوہری ’نفیس انسان ہونے کے ساتھ ساتھ خطابت کے ماہر تھے۔ وہ علم حاصل کرنے کا ذریعہ تھے۔‘
ملک میں انسانی حقوق کے کارکن کپل دیو نے کہا کہ ’میں ایک سندھی ہندو ہوں لیکن اس کے باوجود (ہر سال) محرم (کے جلوس) میں احترام کے ساتھ حصہ لیتا ہوں۔ میں پی ٹی وی پر (پروگرام) شامِ غریباں میں علامہ طالب جوہری کا خطاب دیکھا کرتا تھا۔‘
اسی طرح سنی مکتب فکر سے تعلق رکھنے والے کئی صارفین نے یہ تسلیم کیا کہ وہ صرف انھیں محرم میں سنا کرتے تھے۔ ’میرا خاندان سنی ہے لیکن ہم (علامہ جوہری) کو پی ٹی وی پر دیکھا کرتے تھے۔ انھوں نے امت کو متحد کرنے کی بہت کوشش کی۔‘
کالم نگار عاصمہ شرازی کہتی ہیں کہ ’آپ علم کا سمندر تھے اور مدینتہ العلم (ص) اور باب العلم (ع) کو آپ پر ناز۔ آپ دلیل، بیان کی علامت۔ شام غریباں آپ کے ساتھ منسوب سی ہو گئی تھی۔ بچپن سے اب تک ہر شیعہ سُنی گھر میں شام غریباں آپ کے بغیر ادھوری۔ کوئی اور طالب جوہری پھر نہیں آئیں گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
سیاسی رہنماؤں نے بھی ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔ وفاقی وزیر علی حیدر زیدی نے کہا کہ ’علامہ طالب جوہری جیسے صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ ایک علم کا ذخیرہ ہم سے جدا ہو گیا اور دنیا ایک بہترین مفسرِ قرآن سے محروم ہو گئی۔‘
حکمراں جماعت کے سینیٹر فیصل جاوید نے انتقال کرنے والے دونوں عالم دین مفتی نعیم اور علامہ جوہری کے لیے دعا پڑھی۔
کئی لوگوں کو آج بھی ان کا ادا کردہ جملہ ’تم نے گریہ کیا، مجلس تمام ہوئی اور اب تو دامن وقت میں گنجائش بھی نہیں‘ یاد ہے۔










