صبیحہ خانم: جو اپنی معصوم اداکاری سے پاکستانی سینما کی خاتون اول بن گئیں

فلم

،تصویر کا ذریعہFilm Do Ansoo

،تصویر کا کیپشن’دو آنسو‘ پاکستان کی پہلی فلم تھی جس نے سلور جوبلی منانے کا اعزاز حاصل کیا
    • مصنف, عقیل عباس جعفری
    • عہدہ, محقق و مورخ، کراچی

یہ 1930 کی دہائی کی بات ہے جب گجرات کی رومان پرور سرزمین پر ایک نئی داستان عشق نے جنم لیا۔ یہ سٹیج آرٹسٹ اقبال بیگم عرف بالو اور محمد علی کی داستان تھی۔

اقبال بیگم سٹیج کے متعدد ڈراموں میں اپنے فن کے جوہر دکھانے کے ساتھ ساتھ ’سسی پنوں‘ نامی مشہور فلم میں کام کر چکی تھیں کہ محمد علی نامی ایک کوچوان ان کی زندگی میں داخل ہوا۔

محمد علی نے اقبال بیگم کو اپنی چرب زبانی کے ذریعے اپنی محبت میں گرفتار کر لیا۔

اقبال بیگم کے والد کو جب اس صورتحال کا علم ہوا تو انھوں نے دونوں کے درمیان دیواریں کھڑی کر دیں۔ اقبال بیگم اور محمد علی کے درمیان ملاقاتوں پر پابندی لگی تو محمد علی نے حالِ دل سنانے کا ایک نیا طریقہ نکال لیا۔

یہ بھی پڑھیے

انھوں نے اقبال بیگم کے ہجر میں ماہیے کہنے شروع کر دیے۔ جب وہ سٹرک کنارے کھڑے ہو کر یہ ماہیے سناتے تو سننے والے بہت متاثر ہوتے۔ ماہیے کو اب پنجابی لوک گیتوں کا ایک حصہ قرار دیا جاتا ہے۔

مگر لوگوں کو علم نہیں کہ یہ ماہیا دراصل صبیحہ خانم کے والد محمد علی کی اختراع ہے۔ اسی وجہ سے محمد علی کا نام بھی محمد علی ماہیا پڑ گیا تھا۔ عشق جب حد سے گزر گیا تو اقبال بیگم کے والدین نے تنگ آ کر محمد علی سے اپنی بیٹی کی شادی کر دی۔ صبیحہ اسی شادی کی یادگار ہیں۔

صبیحہ خانم

،تصویر کا ذریعہInstagram/isarishkhan

،تصویر کا کیپشنصبیحہ خانم کی دونوں ابتدائی فلمیں ناکامی سے دوچار ہوئیں مگر یہ فلمیں ناظرین پر صبیحہ کی معصوم اور خوبصورت اداکاری کا نقش ضرور چھوڑ گئیں

صبیحہ ایک روایت کے مطابق 16 اکتوبر 1935 اور دوسری روایت کے مطابق 16 اکتوبر 1936 کو گجرات میں پیدا ہوئیں۔ والدین نے ان کا نام مختار بیگم رکھا مگر جب وہ چھ سال کی ہوئیں تو حالات سے غمزدہ اور بیمار اقبال بیگم عرف بالو عین جوانی میں انتقال کر گئیں۔

محمد علی ماہیا پہلے تو اپنی بیگم کی کمائی پر گزارہ کرتے رہے، پھر جب مختار بیگم 13، 14 برس کی ہوئیں تو وہ انھیں سٹیج یا فلم کی ہیروئن بنانے کے لیے لاہور کے رائل پارک کے چکر لگانے لگے۔

مشکل یہ تھی کہ مختار بیگم کا قد چھوٹا تھا اور محمد علی انھیں جس فلم ساز کے پاس لے کر جاتے وہ ان کے چھوٹے قد کی وجہ سے انھیں کام دینے سے انکار کر دیتے۔ ایسے میں سلطان کھوسٹ اور نفیس خلیلی نے مختار بیگم میں چھپی فنکارانہ صلاحیت کو پہچانا۔

سلطان کھوسٹ (عرفان کھوسٹ کے والد اور سرمد کھوسٹ کے دادا) نے مختار بیگم کو اداکاری کی تربیت دی اور نفیس خلیلی نے انھیں اپنے ایک ڈرامے ’بت شکن‘ میں کاسٹ کر لیا۔

اس ڈرامے کے لیے نفیس خلیلی ہی نے مختار بیگم کو صبیحہ کا نام دیا۔ یہ ڈرامہ سنہ 1949 میں ریجنٹ سینما میں سٹیج ہوا۔ اس کے دیکھنے والوں میں سعادت حسن منٹو کے بھانجے مسعود پرویز بھی شامل تھے جو ان دنوں سنتوش کمار اور رفیق غزنوی کی بیٹی شاہینہ کے ساتھ ایک فلم ’بیلی‘ بنانے کی تیاری کر رہے تھے۔

مسعود پرویز کو اس فلم کے لیے ایک سائیڈ ہیروئن کی ضرورت تھی چنانچہ انھوں نے ’بت شکن‘ کی صبیحہ کو اپنی فلم میں چانس دینے کا فیصلہ کیا۔

بیلی چار فروری 1950 کو نمائش پذیر ہوئی۔ فلم فلاپ ہو گئی، شاہینہ بھی اپنی تمام تر خوبصورتی کے باوجود کامیاب نہ ہو سکیں۔ ’بیلی‘ کی فلم بندی کے دوران ہی ہدایت کار شکور قادری نے اپنی فلم ’ہماری بستی‘ شروع کی، اس فلم کے ہیرو بھی سنتوش کمار تھے اور ہیروئن کا کردار نجمہ نے ادا کیا تھا۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہRadio Pakistan

شکور قادری نے اس فلم میں صبیحہ کو بھی ثانوی کردار دیا مگر ’بیلی‘ کی طرح ’ہماری بستی‘ بھی کامیاب نہ ہو سکی۔ صبیحہ کی دونوں ابتدائی فلمیں ناکامی سے دوچار ہوئیں مگر ناظرین پر صبیحہ کی معصوم اور خوبصورت اداکاری کا نقش چھوڑ گئیں۔

’ہماری بستی‘ کی نمائش کے فقط تین ہفتے بعد انور کمال پاشا کی فلم ’دو آنسو‘ نمائش پذیر ہوئی۔ اس فلم میں بھی صبیحہ نے سنتوش کمار کے مقابلے میں مرکزی کردار ادا کیا۔ یہ فلم کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔

یہ پاکستان کی پہلی فلم تھی جس نے سلور جوبلی (25 ہفتوں تک سینما میں لگے رہنے) منانے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس کے بعد صبیحہ کی چند فلمیں ناکام بھی ہوئیں مگر صبیحہ ناکام نہیں ہوئیں۔

ان کی اگلی کامیاب ہونے والی فلم ’غلام‘ تھی۔ اس فلم کے ہدایتکار بھی انور کمال پاشا تھے اور اس میں بھی صبیحہ کے مقابل سنتوش کمار نے مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ اسی زمانے میں صبیحہ نے سنتوش کمار کے علاوہ چند دوسرے اداکاروں کے مقابل بھی کام کیا۔

ان کی اگلی سپرہٹ فلموں میں ’گمنام‘ اور ’سسی‘ شامل تھیں جن کے ہیرو سدھیر تھے۔ سسی پاکستان کی پہلی فلم تھی جس نے گولڈن جوبلی( 50 ہفتوں تک سینما میں لگے رہنے) منانے کا اعزاز حاصل کیا تھا۔

پاکستان کی پہلی سلور جوبلی اور پہلی گولڈن جوبلی فلموں میں مرکزی کردار ادا کرنے کے بعد صبیحہ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

اس کے بعد تو تواتر کے ساتھ ان کی یادگار فلمیں ریلیز ہوتی چلی گئیں۔ جن میں رات کی بات، دلا بھٹی، حمیدہ، سرفروش، حاتم، داتا، آس پاس، عشق لیلی، وعدہ، سات لاکھ، شیخ چلی، دربار، مکھڑا، تاجی، ایاز، موسیقار، دامن اور سوال کے نام سرفہرست ہیں۔

اس کے بعد صبیحہ نے کریکٹر ایکٹر کردار ادا کرنے شروع کیے اور بیشمار بڑی بڑی فلموں میں اپنی اداکاری کی دھاک بٹھا دی۔ان فلموں میں شکوہ، کنیز، دیور بھابی، انجمن، پاک دامن اور ’اک گناہ اور سہی‘ وغیرہ شامل تھیں۔

صبیحہ کی اداکاری کا سلسلہ کئی دہائیوں تک جاری رہا۔ اعدادوشمار کے مطابق صبیحہ نے مجموعی طور پر 202 فلموں میں کام کیا۔ جن میں اردو فلموں کی ایک بڑی تعداد شامل تھی۔

صبیحہ خانم کا ذکر ہو اور ان کی ازدواجی زندگی کا ذکر نہ ہو یہ ناممکن ہے۔ قارئین کے لیے شاید یہ بات حیرت انگیز ہو کہ فلمی دنیا میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے بعد صبیحہ جس اداکار کے دام عشق میں گرفتار ہوئیں وہ سنتوش کمار نہیں بلکہ ان کے چھوٹے بھائی درین تھے۔

صبیحہ خانم

،تصویر کا ذریعہPakistan Chronicle

،تصویر کا کیپشنفلمی دنیا میں کامیابی کے جھنڈے گاڑنے کے بعد صبیحہ جس اداکار کے دام عشق میں گرفتار ہوئیں وہ سنتوش کمار نہیں بلکہ ان کے چھوٹے بھائی درین تھے

درین بھی صبیحہ سے شادی کرنے میں سنجیدہ تھے مگر اس شادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود سنتوش کمار بن گئے۔سنتوش کمار کا موقف تھا کہ وہ ایک شریف اور سنجیدہ گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور فلمی دنیا سے تعلق رکھنے والی کوئی لڑکی اس گھرانے کی بہو نہیں بن سکتی۔

درین اور صبیحہ نے بادل نخواستہ اس فیصلے کو قبول کیا مگر قدرت کا فیصلہ کچھ اور تھا اور چشمِ فلک نے دیکھا کہ وہ سنتوش کمار جو صبیحہ کی شادی اپنے چھوٹے بھائی سے کرنے پر تیار نہ تھے خود ان کی محبت میں گرفتار ہو گئے۔

سنتوش کمار پہلے سے شادی شدہ تھے مگر انھوں نے صبیحہ سے شادی کرنے کے سلسلے میں کسی رکاوٹ کو درمیان میں نہیں آنے دیا اور یکم اکتوبر 1958 کو ان کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئے۔

صبیحہ اور سنتوش کمار نے شادی کے بعد بھی الگ الگ اور ایک ساتھ فلموں میں کام کرنے کا سلسلہ جاری رکھا۔ ان دونوں نے 47 فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔ جن میں 30 کے قریب فلموں میں وہ روایتی جوڑی یا مرکزی کرداروں میں تھے۔جبکہ دیگر فلموں میں وہ ینگ ٹو اولڈ جیسے معاون کرداروں میں نظر آئے۔

11 جون 1982 کو سنتوش کمار دنیا سے رخصت ہو گئے جس کے بعد بھی فلم اور ٹیلی ویژن پر صبیحہ کی اداکاری کا سلسلہ جاری رہا۔ ان کے مشہور ٹی وی ڈراموں میں ’احساس‘ اور 'دشت' کے نام شامل ہیں۔

انھوں نے پاکستان ٹیلی ویژن پر اپنی گائیکی کا جادو بھی جگایا، ان کے دو ملی نغمے ’جُگ جُگ جیوے میرا پیارا وطن‘ اور ’سوہنی دھرتی اللہ رکھے‘ بے حد مقبول ہوئے۔

صبیحہ خانم نے اپنی شاندار کارکردگی پر پانچ نگار ایوارڈ بھی حاصل کیے۔ انھیں نگار ایوارڈ سات لاکھ، شکوہ، دیور بھابی میں بہترین اداکارہ، سنگدل میں بہترین معاون ادکارہ اور اک گناہ اور سہی میں خصوصی اداکاری کے شعبے میں دیے گئے تھے۔

صبیحہ خانم نور جہاں کے بعد فلمی صنعت کی پہلی اداکارہ تھیں جنھیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی سے نوازا گیا تھا۔

صبیحہ خانم زندگی کے آخری ایام میں اپنے بچوں کے پاس امریکہ منتقل ہو گئی تھیں جہاں 13 جون 2020 کو ان کا انتقال ہو گیا۔

یہ مضمون پہلے مرتبہ 14 جون 2020 کو شائع کیا گیا تھا۔