مفتی محمد نعیم کا انتقال: وہ عالم جن کا ہمیشہ ’سافٹ امیج‘ رہا

mufti naeem

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنمفتی نعیم 7 جلدوں پر مشتمل تفسیر روح القرآن، شرح مقامات، نماز مدلل اور دیگر کتب کے مصنف تھے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی کراچی

پاکستان کے نامور عالم دین اور جامعہ بنوریہ العالمیہ کراچی کے مہتم مفتی محمد نعیم ہفتے کے روز انتقال کر گئے ۔ ان کی عمر 62 برس تھی اور وہ گذشتہ کچھ عرصے سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔

جامعہ بنوریہ العالمیہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ سنیچر کی شام مفتی نعیم کی طبیعت اچانک خراب ہونے پر انھیں ہسپتال منتقل کیا جارہا تھا کہ وہ راستے میں ہی انتقال کر گئے۔

مفتی نعیم کے آباؤ اجداد کا تعلق پارسی مذہب سے تھا جو بھارتی گجرات کے علاقے سورت میں آباد تھے۔ مفتی نعیم کے دادا نے اسلام قبول کیا اور اُس وقت ان کے والد قاری عبد الحلیم کی عمر چار برس تھی۔

قاری عبد الحلیم تقسیم ہند سے قبل ہی پاکستان آ گئے تھے۔

سنہ 1958 میں مفتی محمد نعیم کی کراچی میں پیدائش ہوئی۔ انھوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی اور اعلیٰ تعلیم کے لیے جامعہ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن گئے جہاں سے وہ 1979 میں فارغ التحصیل ہوئے۔

تعلیم مکمل ہونے کے بعد 16 سال تک انھوں نے جامعہ بنوریہ میں بطور استاد خدمات انجام دیں۔ بعد میں ان کے والد قاری عبدالحلیم جامعہ بنوریہ عالمیہ کا قیام عمل میں لائے جس کے وہ آخری وقت تک مہتمم تھے۔

کراچی سائٹ ایریا میں 12 ایکڑ پر مشتمل اس مدرسے کا شمار پاکستان کے بڑے مدارس میں ہوتا ہے جہاں طلبہ اور طالبات مذہب کی ابتدائی تعلیم سے لے کر عالم یا عالمہ بننے تک کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔

اس مدرسے میں تعلیم کے حصول کے لیے آنے والے طلبہ کا تعلق امریکہ، برطانیہ، چین سمیت افریقی ممالک سے ہے۔ یہاں طلبہ اور طالبات کی رہائش کا بھی بندوست ہے۔

مفتی محمد نعیم سات جلدوں پر مشتمل تفسیر روح القرآن، شرح مقامات، نماز مدلل اور دیگر کتب کے مصنف تھے اور وہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس شوریٰ کے متحرک رکن تھے۔

مدارس کے نصاب سے لے کر ان کی رجسٹریشن کے معاملے پر جب بھی تحریک شروع ہوئی وہ اس کا ایک سرگرم حصہ رہے۔

مزید پڑھیے

لیکن وہ سیاسی میدان سے دور ہی رہتے تھے۔ جب جمعیت علما اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے حکومت کے خلاف آزادی مارچ کا اعلان کیا تو انھوں نے طلبہ کی شرکت کی مخالفت کی۔

ان کا کہنا تھا کہ طلبا کو سیاسی مقاصد اور مدارس کو دھرنا، احتجاج یا مارچ کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

پاکستان کے دیگر مدارس کے مہتمم کی نسبت وہ ’سافٹ امیج‘ رکھتے تھے۔ ان کے پاس غیر ملکی سفارت کار بھی آتے تھے اور ان کے مدرسے میں میڈیا کو بھی فلم، فوٹو گرافی اور طلبہ کے انٹرویوز کی اجازت ہوتی۔

مفتی نعیم خود بھی میڈیا سے بات کرنے میں نہیں کتراتے تھے۔

مذہبی معاملات کے علاوہ سیاسی و سماجی مسائل پر بھی وہ میڈیا کے ٹاک شوز میں اپنا موقف بیان کرتے۔

چین پاکستان اقتصادی راہدری کے منصوبے کے بعد انھوں نے چینی زبان کے شارٹ کورس کا بھی آغاز کیا۔ چین کے مسلمان طلبہ بھی ان کے پاس زیر تعلیم رہے، ان کے پاس کمپیوٹر سمیت جدید تعلیم بھی فراہم کی جاتی تھی۔

مفتی نعیم کے سوگواروں میں بیوہ، دو بیٹے مفتی محمد نعمان نعیم اور مفتی محمد فرحان اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔ ان کی تدفین بنوریہ عالمیہ میں ہوگی جہاں ان کے والد مدفون ہیں۔