اکثر والدین کی بچوں کو مدارس بھیجنے کی وجہ مذہب

،ویڈیو کیپشنتازہ تحقیق کے مطابق 43 فیصد والدین آج بھی اپنے بچوں کو مدارس میں تعلیم کے لیے بھیجتے ہیں۔

پاکستان میں ایک تازہ تحقیق کے مطابق 43 فیصد والدین آج بھی مذہبی بنیاد پر اپنے بچوں کو مدارس میں تعلیم کے لیے بھیجتے ہیں جبکہ مالی صورتحال کی وجہ سے ایسا کرنے والوں کی تعداد 35 فیصد ہے۔

اسلام آباد میں اس تحقیق پر مبنی ایک کتاب ’دی رول آف مدرسہ‘ شائع ہوئی ہے جس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ایک خاندان میں بچوں کی تعداد اور اس خاندان کی معاشی صورتحال اہم پہلو ہیں جن کی وجہ سے لوگ ان مدارس کا رخ کرتے یا نہیں کرتے ہیں۔

نامہ نگار ہارون رشید نے بتایا کہ پاکستان میں دینی تعلیم دینے والے ان مدارس کی درست تعداد تو شاید ہی کسی کو معلوم ہو لیکن اس کتاب میں دیے گئے ایک اندازے کے مطابق سند جاری کرنے والے باظابطہ مدارس کی تعداد 32 ہزار سے زائد ہے جن میں دو کروڑ سے زائد طلبہ زیر تعلم ہیں۔

مزید پڑھیے

اس تحقیق کے لیے پاکستان بھر سے 558 ایسے خاندانوں کے ساتھ انٹرویوز کیے گیے ہیں جن کا کم از کم ایک بچہ مدرسے میں زیر تعلیم ہے۔

ماہرین کے مطابق اسلام میں بعد از مرگ زندگی کا تاثر بہت مضبوط ہے اور اکثر والدین اپنے بچوں کے لیے مدارس کا انتخاب اسی وجہ سے کرتے ہیں کہ انہیں بعد میں اس کا فائدہ ہوگا۔ دوسری بڑی وجہ معمول کے سکولوں میں مغربی تعلیم کا مثبت نہ ہونے کا تاثر بھی ہے۔

تحقیق سے یہ بات واضح ہو کر سامنے آئی ہے کہ عموماً غریب خاندانوں کے بچے ہی مدرسوں میں تعلیم حاصل کرتے ہیں کیونکہ سروے کے دوران پتہ چلا کہ ایسے خاندانوں کی اوسط آمدن محض 23 ہزار روپے ماہانہ ہے۔

ملک کے 14 بڑے شہروں میں کیے گئے اس جائزے کے مطابق ان خاندانوں کو سکول اور مدرسے دونوں تک رسائی حاصل تھی لیکن ان میں سے 52 فیصد نے مدرسے جبکہ 47 فیصد نے سکول کو ترجیح دی۔ 43 فیصد نے کہا کہ وہ مذہب کی وجہ سے اپنے بچے مدرسے میں داخل کرواتے ہیں جبکہ 35 اس کی وجہ معاشی صورتحال بتاتے ہیں۔

سروے کے مطابق خاندان میں بچوں کی بڑی تعداد ان کے مدرسے میں جانے کا امکان بڑھا دیتے ہیں جبکہ معاشی صورتحال میں بہتری ان کے مدرسے میں پڑھنے کا امکان کم کر دیتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ملک میں یکساں نظام تعلیم ہی معاشی، دینی اور نسلی بنیادوں پر تفریق سے نئی نسل کو بچا سکتا ہے۔

کراچی میں جامع بنوریہ کے مہتمم مفتی محمد نعیم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لوگ اپنے بچے مدارس کی تعلیم اور ڈسپلن کی وجہ سے بھیجتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مدارس سکولوں اور یونیورسٹیوں سے زیادہ پرامن ہیں۔

مدرسہ

،تصویر کا ذریعہAFP

کتاب میں درج تحقیق کے مطابق مدارس کی آمدن کے دو بڑے ذرائع ہیں۔ ان میں سے ایک اندرون اور دوسرا بیرون ملک سے ملنے والی رقوم ہیں۔

ملک کے اندر انھیں رقوم زکوٰۃ، عشر اور خمس جیسے ذرائع سے ملتی ہیں جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی ان ہی مدوں میں رقوم مدراس کو بھیجتے ہیں۔ تاہم تحقیق کے مطابق بیرون ملک سے ملنے والی رقوم اندرون ملک سے کم ہوتی ہیں۔ کئی اسلامی ممالک یہ رقوم براہ راست مدارس کو ارسال کرتے ہیں۔ زیادہ تر مدارس کے مالی امور نہ تو مناسب دستاویزی شکل میں ہیں اور نہ ہی ان کا کوئی آڈٹ ہوتا ہے۔

تاہم جامعہ بنوریہ کے مہتمم مفتی محم نعیم کہتے ہیں کہ ان کے پانچ ہزار طلبہ پر مشتمل اس مدرسے کو ایک پیسہ بھی بیرون ملک سے نہیں ملا۔ ’اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے تو میں مجرم بننے کے لیے تیار ہوں۔‘

تحقیق کے مطابق ایران ایک ایسا ملک ہے جو رقم کے اعتبار سے سب سے زیادہ اہل تشیح مدارس کی معاونت کرتا ہے۔

تحقیق میں مدارس کو ملنے والی فنڈنگ کو شفاف بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ مدارس کے ساتھ اعتماد سازی کے لیے ان کے ساتھ تعاون اور ان کی مالی معاونت کرے۔ خیبر پختونخوا میں تاہم ایسا کرنے پر وہاں کی صوبائی حکومت پر ماضی میں شہری حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی۔

مفتی نعیم کہتے ہیں کہ خود حکومت مدارس کو مرکزی دھارے میں لانے کی خواہاں نہیں۔ ’تین سال سے ہم نے بنوریہ یونیورسٹی کے لیے تمام تر دستاویزات جمع کروائی ہوئی ہیں لیکن کوئی جواب نہیں ملا ہے۔‘