کورونا وائرس آگاہی مہم کے لیے پنجاب کے گورنر چوہدری سرور کی جانب سے ٹِک ٹاک سٹارز کی مدد حاصل کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث

،تصویر کا ذریعہ@ChMohammadSarwar
- مصنف, خالد کرامت
- عہدہ, بی بی سی اردو
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر چوہدری محمد سرور نے چند روز قبل کورونا وائرس سے متعلق آگہی بڑھانے کے لیے پاکستان کے چند کامیاب ٹک ٹاک سٹارز کو گورنر ہاؤس میں مدعو کیا تھا۔
اگرچہ سوشل میڈیا کو اس خبر کی شنید تھوڑی دیر سے ملی مگر جب ملی تو اس پر خوب تبصرے ہوئے۔ چند صارفین نے اس پر تنقید کی جبکہ دیگر نے اس حکومتی اقدام کی تعریف کی۔
گورنر ہاؤس میں مدعو کیے جانے والے ٹک ٹاک سٹارز میں ذوالقرنین سکندر اور کنول آفتاب جیسے بہت سے سٹارز کے نام شامل تھے جن کو اس پلیٹ فارم پر بہت بڑی تعداد میں لوگ فالو کرتے ہیں۔
بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ذوالقرنین سکندر نے اس پروگرام کے بارے میں بتایا کہ اس موقع پر گورنر پنجاب نے ہم سب سے کورونا وائرس سے متعلق آگہی بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے کہا۔
یہ بھی پڑھیے
گو کہ یہ میٹنگ چند روز پہلے ہوئی لیکن سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اس کے بارے میں گفتگو ہیش ٹیگ ٹک ٹاک کے تحت ٹرینڈ کرنے لگی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ثمرین گل نامی صارف نے ٹویٹ کی کہ ’بس یہ ہی دیکھنا باقی تھا۔ اب ٹک ٹاکرز کو کووڈ 19 کے بارے میں آگہی بڑھانے کے لیے بلایا جا رہا ہے۔ یہ ٹک ٹاکرز وہی لوگ ہیں جو کوورنا وائرس کے بارے میں مذاق کر رہے تھے۔ یوٹیوبرز کو کیوں نہیں مدعو کیا گیا؟ کسی ڈاکٹر یا نرس کو کیوں نہیں بلایا؟‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
علی شاہ نامی صارف نے لکھا کہ ’بہت سے لوگ آج بُرا محسوس کر رہے ہیں کہ کیا اب ٹِک ٹاکرز ہماری رہنمائی کریں گے۔ میرے پیارے ڈاکٹرز، انجینیئرز، پروفیسرز اور دیگر پڑھے لکھے افراد اس بات کا بُرا مت مانیے کہ اگر پاکستانی ٹک ٹاکرز تفریح کے ذریعے بڑے پیمانے پر آگاہی مہم چلا رہے ہیں۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
گورنر ہاؤس پنجاب میں ہونے والے اس پروگرام پر بہت سے لوگ مختلف نوعیت کے اعتراضات اٹھا رہے ہیں۔
فزا زہرہ راجپوت نے اس خبر کے بارے میں ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’اگر یہ لطیفہ ہے تو مجھے ہنسی نہیں آئی۔ اور اگر یہ سچ ہے تو پھر میرے خیال میں مجھے اپنی تعلیم ترک کر کے ٹک ٹاک انسٹال کرنا چاہیے۔ اس میں تعجب کی بات نہیں ہو گی کہ جلد ہی ہم پاکستان انڈیا سرحد پر پب جی پلیئرز کو دیکھیں گے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
ذوالقرنین سکندر جن کے ٹک ٹاک پر 59 لاکھ فالورز ہیں اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس پروگرام میں شامل افراد سے گورنر پنجاب نے کہا تھا کہ وہ چاہے ہنس کے لوگوں کو معلومات دیں یا رو کر مقصد یہ ہے کہ لوگوں میں آگہی بڑھے۔
ذوالقرنین سکندر کہتے ہیں کہ اس مہم میں ان کے ساتھ ڈاکٹر، نرس، انجینیئر سب شامل ہو سکتے ہیں اور اس کا مقصد لوگوں کی زندگیاں بچانا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ اُن کا اپنا تعلق ایک گاؤں سے ہے اور ’ملک کے بیشتر شہری خاص کر دیہات میں رہنے والا ہر شخص ڈاکٹرز کے پاس نہیں جاتا، کچھ لوگ حکیم کے پاس جانا پسند کرتے ہیں اور اسی لیے ہر ایک تک پیغام پہنچنا ضروری ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTikTok/ch.zulqarnain25
انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جب سے وبا شروع ہوئی ہے وہ اُس وقت سے اس بارے میں وڈیوز پوسٹ کر رہے ہیں۔
عید کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’میں نے تو اُس موقع پر بھی لوگوں کی بہتری کے لیے جو ویڈیو بنائی اُس میں گھر میں رہ کر خوشیاں منانے کو کہا‘۔ ذوالقرنین کی ٹک ٹاک پر یہ وڈیو 17 لاکھ مرتبہ دیکھی جا چکی ہے۔
کیا ٹک ٹاک آگاہی پھیلانے کا ذریعہ ہو سکتا ہے؟
اس بارے میں ڈیجیٹل رائٹس گروپ ’بولو بھی‘ کے ڈائریکٹر اسامہ خلجی نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ٹک ٹاک پاکستان میں تیزی سے مقبول ہو رہا ہے اور سال کے شروع میں ملک میں اس کے 26 ملین صارفین تھے جس میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نسبت اس پر موجود انفلوئنسرز معاشرے کے مختلف طبقوں سے ہیں جبکہ ٹوئٹر اور انسٹاگرام پر اس کے مقابلے میں ایک مخصوص طبقہ آتا ہے۔‘
اسامہ خلجی کے نزدیک یہ ’بہت اچھا قدم ہے اور اس سے ایک بڑی تعداد میں اُن افراد تک بھی پیغام پہنچایا جا سکتا ہے جہاں تک یہ پیغام پہنچنے کی ضرورت ہے‘۔
جہاں ٹوئٹر پر ٹک ٹاک سٹارز کو گورنر ہاؤس بلانے پر تنقید ہوئی وہیں بہت سے لوگ اعتراض کرنے والوں سے اتفاق نہیں کرتے۔
ایک ٹوئٹر صارف نہ لکھا کہ ’مجھے سمجھ نہیں آتا کہ تم لوگ ہر ایک پر اپنی رائے کیوں تھونپتے ہو اور لوگوں کے ساتھ ایسا رویہ روا رکھتے ہو جیسے وہ کم سمجھ ہیں۔ جتنے فالورز ٹِک ٹاک سٹارز کے ہوتے ہیں اتنے ڈاکٹرز یا انجینیئرز کے نہیں ہوتے۔ تو اس میں کیا بُرا ہے کہ اگر ان کو بلایا گیا ہے کہ آگہی پھیلائیں۔ عجیب جج بنے بیٹھے ہو سب۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4
سلیم مہر نامی صارف نے لکھا کہ ’ہر کوئی ٹک ٹاکرز کو پنجاب کے گورنر کی جانب سے بلائے جانے پر ٹرول کر رہا بجائے ان کی حمایت کرنے کے۔ اگر کچھ کر نہیں سکتے تو دوسروں سے جلتے کیوں ہو۔‘
ماہرین کو اس طرح کی مہم میں کیوں نہیں استعمال کیا جا رہا؟
اسامہ خلجی اس بارے میں کہتے ہیں کہ اگر ایک ڈاکٹر یا کسی ماہر کی ایک وڈیو ہو تو شاید وہ زیادہ نہ دیکھی جائے لیکن اگر انفلوئنسرز وہی معلومات پوسٹ کریں گے تو وہ زیادہ لوگوں تک پہنچ سکتی ہیں بشرطیکہ کے وہ ماہرین کی دی گئی مستند معلومات پر مبنی وڈیو بنائیں۔
اس بارے میں ٹِک ٹاکر ذوالقرنین سکندر کا کہنا ہے کہ ٹک ٹاک پر دوسرے پلیٹ فارمز کی نسبت مقبول اکاؤنٹس کے فالورز بڑی تعداد میں ہیں اور وہ اس مہم میں اپنا کردار نبھا سکتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس پروگرام میں شامل ہوئے تھے اور وہاں انھیں ماہرین کی جانب سے معلومات دی گئیں تھیں جنھیں وہ اپنے پیغامات میں استعمال کر کے عام لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔













