کورونا وائرس: ایک پاکستانی ڈاکٹر نے سیلف آئسولیشن یا خود ساختہ تنہائی کیسے کاٹی؟

قرنطینہ
    • مصنف, کریم الاسلام
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

کورونا وائرس کی وبا نے جہاں ایک جانب پوری دنیا کو متاثر کیا ہے وہیں خود تنہائی یا سیلف آئسولیشن جیسی اصطلاحات بھی متعارف کرائی ہیں۔

لیکن کیا کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ سیلف آئسولیشن میں رہنے والے شخص کے شب و روز کیسے گزرتے ہیں اور یہ معمول کی زندگی سے کتنی مختلف ہوتی ہے؟

یہ جاننے کے لیے ہم نے حکومتِ سندھ سے منسلک کنسلٹنٹ جنرل سرجن ڈاکٹر عبداللہ اقبال سے رابطہ کیا۔

ڈاکٹر عبداللہ اُن ڈاکٹروں میں شامل تھے جنھوں نے کورونا کے مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ کیے اور سکھر اور حیدرآباد میں ساڑھے آٹھ سو زائد افراد کے نمونے اکھٹے کیے۔

وہ کراچی میں واقع اوجھا انسٹیٹیوٹ آف چیسٹ ڈیزیز میں بھی کورونا مریضوں سے ساتھ خدمات انجام دیتے رہے۔ ایک ساتھی ڈاکٹر کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد وہ سیلف آئسولیشن میں چلے گئے۔

سش
سش

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اکتیس سالہ ڈاکٹر عبداللہ اقبال نے بتایا کہ آسان الفاظ میں سیلف آئسولیشن دراصل گھر میں رہتے ہوئے گھر والوں سے دور رہنے کا نام ہے۔

چونکہ کورونا وائرس ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہو سکتا ہے لہذا اگر کسی کو شک ہے کہ اُس کا رابطہ کورونا سے متاثر کسی شخص سے رہا ہے یا اُس میں وائرس کی علامات ہیں تو ضروری ہے کہ وہ سیلف آئسولیشن یا خود تنہائی میں چلا جائے۔ اِس طرح وہ اپنے اردگرد موجود افراد کو کورونا وائرس کے ممکنہ خطرات سے بچا سکتا ہے۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

تنہائی کے دن

ڈاکٹر عبداللہ سیلف آئسولیشن میں گئے تو انھوں نے اپنے آپ کو گھر کی بالائی منزل پر اپنے بیڈروم میں محدود کر لیا اور اہلیہ اور بچے کو میکے بھیج دیا۔ انھوں نے مکان کی نچلی منزل میں رہائش پذیر اپنے والدین سے بھی رابطہ منقطع کر لیا۔

’ڈاکٹرز کی روٹین عام افراد سے الگ ہوتی ہے۔ وہ اکثر شفٹوں میں کام کرتے ہیں اور کبھی کبھی ویک اینڈ پر بھی ہسپتال میں ہوتے ہیں۔ جب تمام دن مریضوں کے درمیان گزارنے والے ڈاکٹر کو خود تنہائی میں جانا پڑا تو وقت کاٹنا عذاب ہو گیا۔ ایسا لگنے لگا کہ کچھ کرنے کو ہی نہیں ہے۔ ایک وقت تھا جب میں فرصت کے لمحات گزارنے کے نت نئے آئیڈیاز سوچا کرتا تھا لیکن جب وقت ملا تو اُس کا کوئی مصرف ہی سمجھ نہیں آیا۔‘

قرنطینہ

مارننگ واک

ڈاکٹر عبداللہ بتاتے ہیں سیلف آئسولیشن میں فرصت کے لمحات ملے تو اںھوں نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ اپنی مارننگ واک کا روٹین بحال کیا۔

’ہم سب جانتے ہیں کہ روزانہ ورزش صحت کے لیے کتنی مفید ہے۔ لیکن مجھے روزمرہ مصروفیات اور سستی کی وجہ سے اکثر ورزش کے لیے وقت نہیں ملتا تھا۔ سیلف آئسولیشن کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ مجھے ایکسرسائز کے ذریعے اپنی صحت کا خیال رکھنے کا موقع مل گیا۔ کمرے سے باہر نکلنا تو ممکن نہیں تھا لہذا میں نے اپنے بیڈروم میں ہی مارننگ واک شروع کر دی۔‘

ڈاکٹر عبداللہ کے مطابق سیلف آئسولیشن میں اُنھیں باقاعدگی سے نماز ادا کرنے کا موقع بھی ملا جس سے اُنھیں روحانی سکون حاصل ہوا۔

جو ملے کھا لو

ڈاکٹر عبداللہ کے بقول سیلف آئسولیشن کا مطلب مکمل تنہائی ہے۔ اِس کا سب سے تکلیف دہ تجربہ اُس وقت ہوا جب اُنھیں دن میں تین دفعہ اکیلے کھانا کھانا پڑا۔ وہ بتاتے ہیں کہ بچپن سے وہ اپنے اہلخانہ کے ساتھ اکھٹے کھانا کھاتے آئے ہیں تو یہ تجربہ کچھ عجیب سا لگا۔

قرنطینہ

’ایک مخصوص وقت پر گھر والے میرے کمرے کے باہر کھانا رکھ جاتے تھے جو میں اکیلے بیٹھ کر کھا لیا کرتا تھا۔ اِس طرح مجھے فرمائش کر کے والدہ سے من پسند کھانا بنوانے کا موقع نہیں مل سکا۔ گھر میں جو بھی پکا ہوتا تھا مجبوراً وہی کھانا پڑتا تھا۔‘

سیلف آئسولیشن جیل نہیں

ڈاکٹر عبداللہ کا کہنا ہے کہ بحیثیت ایک ڈاکٹر اُنھیں اندازہ ہے کہ سیلف آئسولیشن کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے کتنی ضروری ہے لیکن اکثر لوگ اِس کے نام سے ہی خوف کھاتے ہیں۔

’کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ سیلف آئسولیشن کا مطلب ہے کہ آپ کو پکڑ کر کمرے میں قید کر دیا جائے گا۔ یہ کوئی جیل نہیں ہے۔ یوں سمجھ لیں جیسے کچھ لوگ رمضان کے مہینے میں اعتکاف میں بیٹھتے ہیں اور باہر کی دنیا سے اپنا تعلق محدود کر لیتے ہیں، یہ بھی ایسا ہی ہے۔ لوگوں کو کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے میں اِس طریقہ کار کی اہمیت کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔‘

قرنطینہ

بیٹے کی یاد

ڈاکٹر عبداللہ اقبال کہتے ہیں کہ سیلف آئسولیشن میں انھیں اپنا چار ماہ کا بیٹا ربانی بہت یاد آیا۔

’میرا ایک ہی چھوٹا سا پیارا سا بیٹا ہے۔ چھوٹے بچے تو ہوتے ہی ایسے ہیں کہ آپ اُن سے دور نہیں رہ سکتے لیکن کیا کریں مجبوری تھی۔ ڈاکٹر نہ بھی ہو تو کون باپ چاہے گا کہ اُس کی وجہ سے اُس کی اولاد وائرس سے متاثر ہو۔ اِسی لیے دور رہنا پڑا۔‘

پرانے مشغلے

ڈاکٹر عبداللہ بتاتے ہیں کہ سیلف آئسولیشن میں وقت ملا تو انھیں اپنے پرانے مشغلے دوبارہ شروع کرنے کا موقع مل گیا۔

’میں چونکہ ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ شوقیہ ویب ڈیویلپر اور ولاگر بھی ہوں تو خود تنہائی کے دوران انٹرنیٹ پر میرا وقت اچھا گزرا۔ اِس دوران میں اپنا یوٹیوب چینل چلاتا رہا اور اُس کے لیے کانٹینٹ تیار کرتا رہا۔‘

عبداللہ اقبال نے مزید بتایا کہ خود تنہائی کے دوران وہ ٹی وی چینلز دیکھ کر اور کمپیوٹر پر ویڈیو گیمز کھیل کر دل بہلاتے رہے۔

قرنطینہ

مریض پیچھا نہیں چھوڑتے

ڈاکٹر عبداللہ اقبال بتاتے ہیں کہ اُن کا اپنے مریضوں کے ساتھ انتہائی قریبی تعلق ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مریض اُن سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں اور معمولی بیماریوں کے لیے فون پر ہی مشورہ کر لیتے ہیں۔ پہلے اکثر وقت کی کمی کی وجہ سے اُنھیں مریضوں پر مکمل توجہ دینے کا وقت نہیں مل پاتا تھا لیکن سیلف آئسولیشن کے دوران اُنھیں مریضوں کی تفصیلی رہنمائی کا موقع ملا۔

’اِس کے علاوہ مجھے میڈیکل کے شعبے سے منسلک کُتب بھی پڑھنے کا موقع ملا۔ مجھے تجسس تھا کہ کورونا وائرس پر دنیا پھر میں کیا ریسرچ کی جا رہی ہے اور بین الاقومی صحت کا منظرنامہ کس طرح تبدیل ہو رہا ہے۔ انٹرنیٹ کے ذریعے مجھے یہ سب جاننے کا موقع ملا۔‘

اپنا خیال رکھیں

ڈاکٹر عبداللہ اقبال کا کہنا ہے کہ سیلف آئسولیشن کے دوران سب سے مشکل مرحلہ ڈپریشن پر قابو پانا ہوتا ہے۔

’اہم بات یہ ہے کہ جو شخص سیلف آئسولیشن میں ہے وہ کورونا وائرس کی تباہ کاریوں کی خبروں سے دور رہے۔ میں خود تنہائی کے دوران ٹی وی نیوز کم دیکھتا تھا اور اپنے آپ کو مصروف رکھنے کی کوشش کرتا تھا۔ میں نے بذریعہ فون دوستوں اور رشتہ داروں سے رابطہ قائم رکھا تاکہ دل لگا رہے۔‘

ڈاکٹر عبداللہ اقبال کا مشورہ ہے کہ سیلف آئسولیشن کے دوران بیماری کی علامات پر کڑی نطر رکھی جائے۔ اگر ہلکا بخار یا گلا خراب ہو تو اُس کے لیے ادویات استعمال کی جائیں تاکہ مرض پر قابو پایا جا سکے۔

اُن کے مطابق ضروری ہے کہ متاثرہ شخص اپنی سانس پر نظر رکھے۔ اگر کسی بھی وقت سانس لینے میں دشواری پیش آئے تو ایسی صورت میں ڈاکٹر سے مشور کرنا چاہیے۔