#CoronaVirus: پاکستان میں کورونا وائرس کے دو نئے کیسز کی تصدیق، متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد چار ہو گئی

کورونا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان کے وزیرِ مملکت برائے صحت ظفر مرزا نے ملک میں کورونا وائرس کے مزید دو کیسز کی موجودگی کی تصدیق کی ہے جس کے بعد پاکستان میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد چار ہو گئی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے کہا کہ ’میں پاکستان میں کورونا وائرس کے مزید دو نئے کیسز کی تصدیق کر سکتا ہوں۔ ایک (کیس) سندھ میں جبکہ دوسرا فیڈرل ایریاز میں سامنے آیا ہے۔ ان دونوں مریضوں کو کلینیکل پروٹوکول کے مطابق رکھا جا رہا ہے۔۔۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

اس سے قبل 26 فروری کو پاکستان میں صحت حکام نے ملک میں کورونا وائرس سے متاثرہ دو مریضوں کی موجودگی کی تشخیص کی تھی۔

وزیر مملکت برائے صحت ظفر مرزا کے مطابق ابتدا میں سامنے والے دونوں مریض کورونا وائرس کی تشخیص سے 14 دن قبل ایران کا سفر کر چکے تھے۔ تاہم سامنے آنے والے نئے کیسز کے حوالے سے ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ ان اشخاص کو کورونا وائرس کہاں سے لگا یہ پتا لگائے جانے کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ظفر مرزا پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں یہ وائرس ایران کے ذریعے آیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ابتدا میں سامنے والے دو مریضوں میں سے ایک مکمل صحت مند ہونے کے قریب ہے اور اسے جلد ہی ہسپتال سے گھر منتقل کر دیا جائے گا۔

پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں تازہ اعداد و شمار کے مطابق کووِڈ-19 سے متاثر ہونے والے اب تک 85 ہزار تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں سے 79 ہزار صرف چین میں ہیں۔

ایران میں اب تک مریضوں کی کل تعداد چھ سو کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ سرکاری طور پر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 43 بتائی جا رہی ہے۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

چین کے علاوہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ کورونا وائرس کے مریض جنوبی کوریا میں پائے گئے ہیں جہاں صرف ہفتے کے روز 800 سے زیادہ کیسز سامنے آئے ہیں اور اب کل تعداد 3000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

چین میں اس وائرس سے ہلاک افراد کی تعداد 2500 سے زیادہ ہو گئی ہے۔

ایران سے واپس آنے والے 780 پاکستانی

نمائندہ بی بی سی محمد کاظم کے مطابق صوبہ بلوچستان کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبے کے سرحدی شہر تفتان میں گذشتہ دو روز کے دوران ایران سے آنے والے افراد کی مجموعی تعداد 780 ہو گئی ہے، جن میں بڑی تعداد زائرین کی ہے۔

چیف سیکریٹری بلوچستان فضیل اصغر نے وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز کے حکام کو ویڈیو لنک کے ذریعے صورتحال پر آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ایران سے آنے والے ان افراد کو سات روز کے لیے کوارٹین سینٹر میں رکھا جائے گا۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسسٹنٹ کمشنر تفتان نجیب قمبرانی کا کہنا تھا کہ اس سے قبل تفتان میں جن 250 زائرین کو کوارنٹین سینٹر میں رکھا گیا تھا ان کو کلیئرینس کے بعد اپنے اپنے گھروں میں جانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔

ایران میں کورونا وائرس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کے بعد بلوچستان کے ایران سے متصل سرحدی علاقوں میں ایمرجنسی نافذ کی گئی تھی تاہم اب افغانستان میں وائرس کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد بلوچستان کے افغانستان سے متصل اضلاع میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

کورونا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

چیف سیکریٹری نے اجلاس کو بتایا کہ صوبائی حکومت وائرس کی روک تھام میں سنجیدہ ہے اور افغانستان سے متصل چمن بارڈر پر روزانہ 20 ہزار سے زیادہ لوگوں کی آمدورفت ہوتی ہے۔

خدشات کے پیشِ نظر وفاقی حکومت نے افغانستان کے ساتھ چمن بارڈر کو ابتدائی طور پر سات یوم کے لیے بند کرنے کے احکامات بھی جاری کیے ہیں۔ اس حوالے سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن کے مطابق یہ اقدام کورونا وائرس کی روک تھام کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے اور اس کا اطلاق دو مارچ سے ہو گا۔

بلوچستان کے حساس اضلاع میں تھرمل گنز اور 231 ایمبولینس بھی موجود ہیں۔

پاکستان میں کورونا سے بچاؤ کے حفاظتی اقدامات

اس سے قبل پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ پاکستان کی حکومت ایران میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم ایران کی حکومت سے مکمل رابطے میں ہیں اور سرحدی علاقوں میں سکریننگ مزید سخت کر دی گئی ہے۔‘

دفتر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے پر بلوچستان اور اسلام آباد میں اعلی سطح پر منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور ’چین اور ایران میں موجود پاکستانی شہریوں کے حق میں مفید ترین فیصلہ کیا جائے گا۔‘

پاکستان بھر کے مختلف ایئرپورٹس اور بارڈر کراسنگز پر تربیت یافتہ طبی عملہ تعینات ہے اور انھیں تھرمل گن اور تھرمل سکینر فراہم کر دیے گئے ہیں۔

امریکہ میں کورونا وائرس سے پہلی ہلاکت

دوسری جانب امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں کورونا وائرس کے باعث ہونے والی پہلی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

صدر ٹرمپ کے مطابق ہلاک ہونے والی خاتون کی عمر لگ بھگ 60 برس تھی اور وہ طبی طور پر ’ہائی رسک‘ پر تھیں۔ ان خاتون کا تعلق امریکہ کی شمال مغربی ریاست واشنگٹن سے تھا۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ملک میں کورونا کے مزید کیسز موجود ہوں تاہم اس حوالے سے امریکہ مکمل طور پر تیار ہے۔

امریکہ میں حکام کا کہنا ہے کہ وہ اس وبا کے پسِ منظر میں ایران پر عائد کردہ سفری پابندیوں کو مزید سخت کریں گے۔ حکام نے شہریوں کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اٹلی اور جنوبی کوریا میں وائرس سے متاثرہ علاقوں کا سفر نہ کریں۔