پشاور بی آر ٹی منصوبہ کیس: سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے کی تحقیقات کرنے سے روک دیا

تصویر

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے وفاقی تحققیاتی ادارے یعنی ایف آئی اے کو حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کے زیرِ تعمیر منصوبے بس ریپڈ ٹرانزٹ یعنی بی آر ٹی کی تحقیقات سے روک دیا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سپریم کورٹ نے یہ حکم صوبائی حکومت کی طرف سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف دائر کی گئی اپیل پر دیا ہے۔

واضح رہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ کی سربراہی میں ہائی کورٹ کے ایک بینچ نے گزشتہ سال نومبر میں ایف آئی اے کو اس منصوبے کی تحقیقات کرنے کا حکم دیا تھا۔

مزید پڑھیے

اس اپیل کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنے حکم میں اس منصوبے میں آنے والی لاگت اور اس منصوبے کو شروع کرنے سے قبل جس لاگت کا تخمینہ لگایا گیا تھا اس کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔

سماعت میں جسٹس عمر عطا بندیال نے صوبائی حکومت کے وکیل سے استفسار کیا کہ بی آر ٹی منصوبے کی ابتدائی لاگت کتنی تھی اور اس منصوبے کی تکمیل کی ابتدائی تاریخ کیا بتائی گئی تھی۔

بینچ میں موجود جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے اس منصوبے کی تکمیل کے حوالے سے سوالات پوچھے تو صوبہ خیبر پختونخوا کی حکومت کے وکیل نے کہا کہ اس سال جولائی میں یہ منصوبہ مکمل کرلیا جائے گا۔ تاہم انھوں نے اس منصوبے پر اٹھنے والے اخراجات کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

تصویر
،تصویر کا کیپشناُنھوں نے کہا کہ درخواست گزاروں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ اس منصوبے کی تحقیقات کا حکم دیا جائے

اپنی اپیل کے حق میں دلائل دیتے ہوئے صوبائی حکومت کے وکیل کا کہنا تھا کہ پشاور ہائی کورٹ نے اس منصوبے کی تحقیقات کا حکم تو دے دیا لیکن یہ تحقیقات کیوں ہونی چاہیئیں اس کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔

اُنھوں نے دعویٰ کیا کہ پشاور ہائی کورٹ نے درخواست گزار کے حق میں وہ فیصلہ بھی دیا جس کے بارے میں درخواست میں استدعا بھی نہیں کی گئی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ درخواست گزاروں عدنان آفریدی اور افضل کریم کا معاملہ ان کے گھر کی تعمیر سے متعلق تھا جو کہ مبینہ طور پر بی آر ٹی منصوبے کی وجہ سے متاثر ہو رہا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ درخواست گزاروں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ اس منصوبے کی تحقیقات کا حکم دیا جائے۔

پشاور ہائی کورٹ کے حکم پر ایف آئی اے کی ایک پانچ رکنی ٹیم نے بی آر ٹی کے منصوبے پر تحقیقات کا آغاز کردیا تھا۔

،ویڈیو کیپشنبی آر ٹی

واضح رہے کہ اس سے قبل سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا ایک بینچ قومی احتساب بیورو کو بھی اس منصوبے کی تحقیقات کرنے سے روک چکا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اکتوبر سنہ 2017 میں بی آر ٹی منصوبے کا آغاز کیا تھا اور اس منصوبے کو چھ ماہ میں مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا تاہم ڈھائی سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکا اور اس منصوبے پر اٹھنے والی لاگت میں بھی اربوں روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔

اس منصوبے کی ابتدائی لاگت 50 ارب روپے کے قریب تھی تاہم اقتصادی ماہرین کے مطابق اب اس کی لاگت 70 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔