چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی حکومتی وزرا کو گرفتاریوں کی پیش گوئیوں سے اجتناب کرنے کا مشورہ

،تصویر کا ذریعہPTV News
پاکستان میں احتساب کے قومی ادارے کے سربراہ نے کہا ہے کہ نیب سارے پاکستان کو ایک ہی نظر سے دیکھتا ہے اور پشاور کے بس ریپڈ ٹرانزٹ منصوبے اور مالم جبہ کی اراضی کے معاملے میں کارروائی میں عدالت کے حکم امتناع مانع ہیں۔
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے یہ بات پیر کو اسلام آباد میں انسدادِ بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔
ان کا کہنا تھا کہ ’روزانہ کہا جاتا ہے کہ نیب بی آر ٹی پر کوئی ایکشن کیوں نہیں لیتا۔ میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ بی آر ٹی اور مالم جبہ اراضی کیس میں ریفرنس تیار ہے تاہم عدالتی حکم کی وجہ سے بی آر ٹی منصوبے پر ایکشن نہیں لیا جا سکتا مگر حکمِ امتناع ختم ہوتے ہی ایکشن لیا جائے گا۔‘
خیال رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے بی آر ٹی کے معاملے پر گزشتہ برس سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر جسٹس ثاقب نثار نے حکمِ امتناع جاری کیا تھا۔ حال ہی میں پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے اس سلسلے میں ایف آئی اے کو 45 روز میں تحقیقات مکمل کرنے کے حکم کو بھی صوبائی حکومت سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا ارادہ ظاہر کر چکی ہے۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ یہ کہا جاتا ہے کہ نیب کا رخ صرف ایک صوبے کی طرف تاہم یہ بات درست نہیں بلکہ نیب سارے پاکستان کو ایک نظر سے دیکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ کہا جاتا ہے کہ ہواؤں کا رخ صرف ایک طرف ہے جس کی وجہ سے پچھلی دفعہ ان کو مجبوراً کہنا پڑا تھا کہ اب ہواؤں کا رخ بدل رہا ہے۔‘
انھوں نے کہ ’ایک طرف 30،35 سال جبکہ دوسری طرف صرف 12،14 ماہ کا عرصہ ہے تو پھر کچھ فرق تو رکھنا پڑے گا۔‘
وزرا پیشنگوئیوں سے اجتناب کریں
انھوں نے حکومتی وزرا سے بھی کہا کہ وہ ادارے کی جانب سے گرفتاریوں کے بارے میں پیشگوئیوں سے اجتناب کریں۔

چیئرمین نیب نے کہا کہ وزرا کی جانب سے مستقبل قریب میں نیب کی جانب سے گرفتاریوں کے بارے میں بیانات دیے جاتے ہیں اور ’میں وزرائے کرام سے گزارش کروں گا کہ وہ جتنے بھی قابل ہیں، جتنے بھی تجربہ کار ہیں، کم ازکم وہ ان پیشنگوئیوں سے احتراز کریں۔‘
خیال رہے کہ وفاقی کابینہ کے کچھ ارکان جن میں تحریکِ انصاف اور اس کی اتحادی جماعتوں کے رہنما بھی شامل ہیں، ماضی میں اس قسم کے بیانات دیتے رہے ہیں کہ نیب جلد ہی اپوزیشن کے اہم رہنماؤں کو حراست میں لینے والا ہے۔
اس بارے میں جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا کہنا تھا کہ ’وزرائے کرام کے بیانات آتے رہتے ہیں لیکن جب تک وہ ایسے جذباتی بیانات نہیں دیں گے تو ان کا ووٹ بینک کیسے محفوظ رہے گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات وہ پڑھ ضرور لیتے ہیں لیکن کوشش یہی ہوتی ہے کہ اتنا ذیادہ آدمی حساس نہ ہو کہ ان پر کوئی ایکشن لے۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ ’بڑی تواتر سے ایک پیشنگوئی کی جاتی ہے کہ دو ہفتے بعد فلاں بندہ گرفتار ہوجائے گا۔ اگر اتفاق سے وہ گرفتار ہو جاتا ہے تو وزارت سے زیادہ ان کی یہ بات پکی ہو جاتی ہے کہ وہ زبردست دانشور اور نجومی ہیں حالانکہ اس میں نہ کوئی دانشوری کی بات ہے اور نہ علم غیب کی۔ معروضی حالات آپ کے سامنے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
چیئرمین نے کہا کہ ’حکومت کو صرف اتنا سا کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ کبھی نیب میں، نیب کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کی ہے۔‘
’حکومت ریاست مدینہ کے لیے مربوط حکمت عملی بنائے‘
صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی اور سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی موجودگی میں چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نے تحریک انصاف کی حکومت کو مشورہ دیا کہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کے لیے ’ایک مربوط حکمتِ عملی بنائے کیونکہ لوگ اسلامی نظام کے لیے ترس رہے ہیں۔‘
چیئرمین نیب کا کہنا کہ حکومت کو ریاست مدینہ کا خواب دیکھنے کا کریڈٹ جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صرف دھرنوں اور تقریروں سے یہ خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو گا بلکہ اس کے لیے جدوجہد کرنی ہوگی، وزرا کو ثابت کرنا ہوگا کہ وہ مدینہ کی ریاست بنا رہے ہیں۔
چیئرمین نیب نے عمران خان حکومت کو مدینہ کی ریاست کے کامیابی کے گُر بتاتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے خود احتسابی، قانون کی حکمرانی اور ہر طرح کی تعصبیت کا خاتمہ ضروری ہے۔









