جسٹس (ر) جاوید اقبال نیب کے نئے سربراہ مقرر

،تصویر کا ذریعہAFP
حکومت اور حزب مخالف کی جماعتوں میں نیب کے سربراہ کے لیے جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے نام پر اتفاق کے بعد وزارتِ قانون نے ان کی تعیناتی کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق اتوار کی شب جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے تحت جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال چار برس کے لیے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔
اس سے قبل قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے چیئرمین نیب کی تعیناتی کے بارے میں میڈیا سے گفتگو میں بتایا تھاجبکہ اس بات کی تصدیق وزیر اعظم ہاؤس کے ذمہ داران نے بھی کی تھی۔
خیال رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اس وقت جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کے کمیشن کی سربراہی بھی کر رہے ہیں اور جبری طور پر لاپتہ افراد کے بارے میں کام کرنے والی تنظیمیں اس کمیشن کی کارکردگی پر متعدد بار تحفظات کا اظہار کرچکی ہیں۔
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کا نام نیب کے چیئرمین کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کی طرف سے جو تین نام دیے گئے تھے اس میں بھی شامل تھا جبکہ دیگر دو ناموں میں جسٹس ریٹائرڈ فقیر محمد کھوکھر اور سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد بھی شامل تھے۔
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال نیب کے دوسرے چیئرمین ہوں گے جن کا نام حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے دیا ہے۔
اس سے پہلے نیب کے موجودہ چیئرمین قمر زمان چوہدری کا نام بھی پاکستان پیپلز پارٹی نے دیا تھا جس پر حکومت نے اتفاق کیا تھا۔
حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے تین نام دیے تھے جن میں شعیب سڈل، جسٹس ریٹائرڈ فلک شیر اور خیبر پختونخوا کے سابق چیف سیکرٹری ارباب شہزاد شامل تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
حکمراں جماعت کی طرف سے نیب کے چیئرمین کے لیے جو تین نام دیے گئے تھے ان میں انٹیلیجنس بیورو کے سربراہ آفتاب سلطان کے علاوہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج چوہدری اعجاز بھی شامل تھے۔
نیب کے موجودہ چیئرمین قمر زمان چوہدری 10 اکتوبر کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہوجائیں گے جبکہ جاوید اقبال رواں ہفتے اپنے عہدے کا چارج لیں گے۔
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال فروری سنہ 2000 میں بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مقرر ہوئے جس کے دو ماہ کے بعد اُنھیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کردیا گیا۔
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اعلیٰ عدلیہ کے ان ججز میں شامل تھے جنھوں نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے پہلے عبوری آئینی حکمنامے کے تحت حلف اُٹھایا تھا۔
سابق فوجی آمر کے دور میں مارچ سنہ 2007 میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر ہونے کے بعد اُنھیں پاکستان کا قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا۔
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سپریم کورٹ کے اس بینچ کی سربراہی بھی کر رہے تھے جس نے سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو یونیفارم میں صدارتی انتخابات میں حصہ لینے سے متعلق درخواستوں کے بارے میں حکم دیا تاہم اس کے ساتھ یہ شرط بھی لگا دی کہ جب تک پرویز مشرف اپنی وردی نہیں اتاریں گے جس کا اُنھوں نے قوم سے خطاب کے دوران وعدہ کیا تھا، اس وقت تک الیکشن کمیشن ان انتخابات کا اعلان نہیں کرے گا۔
اس کے بعد تین نومبر سنہ2007 میں پرویز مشرف نے آرمی چیف کی حیثیت سے ملک میں ایمرجنسی لگا دی تھی۔
جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال اس سات رکنی بینچ کا حصہ تھے جس نے ایمرجنسی کے فوری بعد یہ حکم دیا تھا کہ انتظامیہ ان احکامات کو تسلیم نہ کرے اور نہ ہی کوئی جج عبوری آئینی حکمنامے پر حلف اُٹھائے۔ اس عداتی حکم نامے کے بعد جاوید اقبال سمیت دیگر ججز کو ان کے گھروں میں ہی نظر بند کردیا گیا تھا۔
جاوید اقبال ان ججز میں بھی شامل تھے جنھیں وکلا تحریک کے نتیجے میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے سنہ 2009 میں بحال کردیا تھا۔
سنہ2011 میں سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے ریٹائر ہونے کے بعد انھوں نے ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی امریکی فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے معاملے کی تحقیقات کے لیے بنائے گئے عدالتی کمیشن کی سربراہی بھی کی۔
ایبٹ آباد کمیشن کی رپورٹ اس وقت کی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کو پیش کردی گئی تھی جو ابھی تک منظر عام پر نہیں آسکی ہے۔









