کورونا وائرس: چین میں موجود پاکستانیوں کو وطن واپس نہ لانے پر سوشل میڈیا پر حکومت کے خلاف کڑی تنقید

،تصویر کا ذریعہ@RadioPakistan
پاکستان میں کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اٹھائے گئے حکومتی اقدامات پر وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ حکومت چین میں موجود پاکستانیوں کو واپس وطن نہ لانے کے فیصلے پر قائم ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر حکومت کے اس فیصلے پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔
ٹوئٹر پر پاکستانیوں کے ساتھ ساتھ انڈینز بھی پاکستانی شہریوں خصوصا طلبا کی مدد نے کرنے پر حکومت پاکستان کی مذمت کر رہے ہیں۔
اسی اثنا میں ترکی اور دیگر ممالک نے چین میں پھنسے اپنے شہریوں کو واپس بلا لیا ہے۔
سنیچر کو ڈاکٹر ظفر مرزا نے اسلام آباد میں میڈیا بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ چین میں پاکستانیوں کا بہتر خیال رکھا جا رہا ہے اور وائرس سے متاثر ہونے والے طلبہ کی صحت بھی بہتر ہو رہی ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے چین میں موجود چار پاکستانی طلبا میں کورونا وائرس کی تشخیص کے بارے بات کرتے ہوئے بتایا کہ 'وہ چار پاکستانی طلبا جن میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی اب ان کی صحت میں بہتری آ رہی ہے اس کی وجہ ان کی تشخیص ابتدائی مراحل میں ہونا ہے۔'
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خیال رہے کہ گزشتہ روز سینیٹ کے اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے حکومتی فیصلے کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے مسترد کیا تھا اور حکومت سے چین میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کا مطالبہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI
ڈاکٹر ظفرمرزا کا کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او کی تجاویز اور چینی حکومت کی جانب سے اس وائرس کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے اقدامات پر مکمل اعتماد ہونے کی وجہ سے ہم اپنے شہریوں کو ووہان نے واپس نہیں بلا رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چین پاکستانی طلبا کے لیے وہ سب کر رہا ہے جو کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ’یہ سوال کیا جاتا ہے کہ باقی ممالک اپنے عوام کو نکال رہے ہیں تو پاکستانیوں کو کیوں نہیں نکالا جارہا ہے، جس پر میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ صرف سات آٹھ ممالک نے اپنے لوگوں کا انخلا کیا یا اس کی درخواست دی۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ ووہان کے شہر میں اس وقت 120 ممالک کے شہری موجود ہیں اور وہ بھی چینی اقدامات کی حمایت کرتے ہیں۔
’لہٰذا ہم اس بات کا یقین کرنے کے بعد کہ پاکستانیوں کی بہتر دیکھ بھال ہو رہی ہے اور وائرس سے متاثرہ طلبہ کی صحت بہتر ہورہی ہے اس لیے اب بھی پاکستانیوں کو وطن واپس نہ لانے کے فیصلے پر قائم ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ گذشتہ روز ان کی پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ملاقات میں تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ 'ہمارا یہی فیصلہ ہے کہ ہم اپنے شہریوں کو نہیں نکالیں گے۔ چین کے وزیر خارجہ کے ساتھ بھی رابطہ ہوا ہے جس میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ پاکستانیوں کی فلاح و بہبود ترجیح اول ہے۔'
ملک میں کورونا وائرس کی تشخیص اور ممکنہ عدم پھیلاؤ پر بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر نے بتایا کہ 'آج شام تک کورونا وائرس کی تشخیصی میڈیکل کٹس پاکستان پہنچ جائیں گی جس کے بعد اگر ضرورت پڑی تو ہم خود وائرس کی تشخیص کرسکیں گے۔'
انھوں نے بتایا اس ضمن میں اسلام آباد کے قومی ادراہ صحت، پنجاب کے شہر لاہور کی شوکت خانم ہسپتال اور سندھ میں کراچی کے آغا خان ہسپتال میں مراکز قائم کیے جائیں گے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک میں کچھ افراد کو کورونا وائرس کے شبہ میں نگرانی میں رکھا گیا تھا تاہم ان میں وائرس نہیں پایا گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ آج سے ملک کے الیکٹرونک میڈیا پر کورونا وائرس سے بچاؤ، احتیاط اور دیگر حوالوں سے آگاہی مہم کا آغاز بھی کیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم کے معاون خصوصی ظفر مرزا نے بتایا کہ چین نے اعلان کیا ہے کہ کوئی بھی چینی باشندہ بیرون ملک سفر کرنے کا اہل نہیں ہوگا جب تک کہ وہ 14 دن تک کا وقت جو اس بیماری کا انکیوبیشن پریڈ ہے، صحت مندی کے ساتھ نہیں گزارتا اور اگر اس کے پاس اس کا سرٹیفیکٹ نہ ہوتا۔
ان کا کہنا ہے کہ 'میری چین کے سفیر سے تفصیلی ملاقات ہوئی ہے جس میں ہم نے اس پر بھی رضامندی ظاہر کر دی ہے کہ اسی طرح جتنے پاکستانی چین میں ہیں وہ بھی 14 دن تک چین نہیں چھوڑ سکیں گے۔ اس اقدام سے ہم نے پاکستان کو محفوظ کر لیا ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ یہ وائرس دنیا کے 27 ممالک تک پھیل چکا ہے اور انسان سے انسان میں منتقل ہوا ہے۔

،تصویر کا ذریعہSERVICES HOSPITAL LAHORE
معاون خصوصی نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے اس وائرس کو ہنگامی صورتحال قرار دیا ہے جس کے باعث پاکستان ذمہ داری کے ساتھ اپنے، اپنے عوام اور دنیا کے لوگوں کے لیے وہ اقدام کرنا چاہتا ہے جس کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔
معاون خصوصی نے کہا چینی حکومت بھرپور طریقے سے ایسے اقدامات کر رہی ہے جس سے ان کے اپنے عوام، دوسرے ممالک کے افراد اور باقی دنیا کے لوگ اس وائرس سے بچ سکیں اور ہمیں ان پر پورا اعتماد ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس سے ابھی تک 249 اموات واقع ہو چکی ہیں۔ کورونا وائرس دنیا کے 27 ممالک میں پھیل چکا ہے۔
سوشل میڈیا پر مذمت
سوشل میڈیا پر پاکستانیوں کی جانب سے حکومت کے اس فیصلہ پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔
ملالہ یوسف زئی کے والد نے ایک ٹویٹ میں پاکستانی حکومت کے فیصلے کی مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا ’کوئی بھی معزز ملک اپنے شہریوں کو ایسی سنگین صورتحال میں تنہا نہیں چھوڑتا۔ 200 سے زائد پاکستانی چار دن سے ارمقی کے ہوائی اڈے پر پھنسے ہیں۔‘
انھوں نے اس ٹویٹ کے ساتھ ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں چین میں موجود پاکستانی اپنی حالت زار بیان کر رہے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ویڈیو میں ایک پاکستانی کا کہنا ہے کہ جن لوگوں کے پاس پیسے ہیں وہ دوسرے ملکوں کی پروازیں لے کر پاکستان پہنچ چکے ہیں جبکہ ان جیسے لوگ براہِ راست فلائٹ کی وجہ سے پھنسے ہوئے ہیں اور ان کے اب پیسے بھی نہیں ہیں اور نہ جہاں وہ کام کرتے تھے وہاں واپس جا سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی جانی والے ایک دوسری ویڈیو دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پاکستانی طالب علم بتا رہا ہے کہ یونیورسٹی کے انڈین طلبا کو ایک گاڑی لینے آئی ہے اور بنگلہ دیشی طلبا بھی جا چکے ہیں تاہم ان سمیت دیگر پاکستانیوں کو وہاں سے نہیں نکالا جا رہا کیونکہ حکومت نے انہیں وہاں مرنے کے لے چھوڑ دیا ہے۔












