فواد چوہدری کس ’نیو ڈیل‘ کی بات کر رہے ہیں؟

فواد چوہدری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناب تک فواد چوہدری کے علاوہ کسی اور سیاستدان نے اداروں کو ایک ساتھ بٹھانے کے لیے ڈیل کا لفظ استعمال نہیں کیا ہے
    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈام کام، اسلام آباد

خصوصی عدالت کی طرف سے پاکستان کے سابق آرمی چیف اور صدر پرویز مشرف کو سزائے موت کا فیصلہ سنائے جانے کے چند لمحوں بعد پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر جہاں اداروں کو ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی تلقین کی وہیں انھوں نے ایک نئی ڈیل کی بھی بات کی۔

فواد چوہدری وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے بیانات کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔

ان کے اس بیان کے بارے میں جب ان سے بات کی گئی تو انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’نیو ڈیل‘ سے ان کی مراد یہ تھی کے جس طرح ماضی میں امریکہ میں معاشی بحران کے دوران ادارے ایک ساتھ بیٹھے تھے۔

اگر اس نیو ڈیل کی تاریخ دیکھی جائے تو اس میں امریکہ کے 32ویں صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کا نام سامنے آتا ہے جنھوں نے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے امریکہ میں آئینی قوانین متعارف کروائے۔

یہ بھی پڑھیے

نیو ڈیل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

فرینکلن ڈی روزویلٹ کی نیو ڈیل کیا تھی؟

فواد چوہدری نے جس امریکی نیو ڈیل کی طرف اشارہ کیا ہے اس کی کہانی کچھ مختلف ہے۔ گریٹ ڈپریشن کے تناظر میں امریکہ میں بےروزگاری انتہائی تیزی سے بڑھ رہی تھی اور امریکی صدر ایف ڈی آر نے امریکی معیشت کی بحالی کے لیے متعدد اقدامات کیے جن میں بینکاری کے نظام میں اصلاحات جیسے سٹاک ٹریڈنگ پر حکومتی نگرانی، نوجوانوں کو سرکاری نوکریاں دینا، سوشل سکیورٹی ایکٹ، کسانوں کے لیے مراعات وغیرہ شامل تھا۔

امریکی سپریم کورٹ نے ایسے کچھ اقدامات کو غیر آئینی قرار دیا کیونکہ امریکی آئین فری مارکیٹ کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کے جواب میں صدر نے عدالت کو ایسے فیصلے دینے سے روکنے کے لیے کوشش کی کہ امریکی سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ تاہم ان کے اس اقدام کو بطور ’کورٹ پِکنگ‘ دیکھا گیا اور شدید مخالفت کے بعد صدر کو یہ خیال ترک کرنا پڑا۔

لیکن امریکہ میں معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے متعارف کی گئی ڈیل پاکستان پر کیسے لاگو ہوسکتی ہے؟

اس بارے میں فواد چوہدری کا کہنا تھا ’ہمارے ملک میں اس پر عمل کیا جاسکتا ہے کیونکہ واحد حل یہی ہے۔ معیشت کا برا حال ہے، ادارے ایک دوسرے کی نہیں سننا چاہتے، الیکشن کمیشن میں ریفارمز کا معاملہ چل رہا ہے۔‘

فواد چوہدری کا کہنا ہے ’ایسی صورتحال میں پاکستان کے چاروں اداروں کو اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ اس وقت عدالتی نظام میں اصلاحات کا معاملہ چل رہا ہے جس میں عدلیہ کو فوج کے اوپر پے در پے فیصلے دینے سے اجتناب کرنا چاہیے اور فوج کو اپنا ایکسپوژر کم کرنے کی ضرورت ہے۔‘

عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ادارے ایک ساتھ بیٹھ تو جائیں گے، لیکن بات چیت کی سمت کیا ہوگی؟

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ اداروں کو ایک ساتھ بٹھانے کے لیے بات چیت کا راستہ اپنانے کا تذکرہ کیا گیا ہو۔

حال ہی میں سینئر سیاستدان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے ایک ساتھ بیٹھ کر بات چیت سے معاملات کو حل کرنے کی بات کی تھی تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کونسی جماعت اور ادارہ کیا چاہتا ہے۔ ا

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کی جماعت مسلم لیگ نواز نے بھی کئی بار ’سچ اور مفاہمتی کمیشن‘ بنانے کا تذکرہ کیا ہے۔

پاکستان تحریکِ انصاف کے سینئر رہنما بھی اسی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ لیکن اب تک فواد چوہدری کے علاوہ کسی اور سیاستدان نے اداروں کو ایک ساتھ بٹھانے کے لیے ڈیل کا لفظ استعمال نہیں کیا ہے۔

صحافی عارفہ نور کہتی ہیں ’ہر سیاستدان کی اپنی سوچ ہے کہ بات چیت کا طریقہ کیا ہونا چاہیے لیکن اب تک ہونے والی تمام باتوں میں عام نکتہ یہی ہے کہ سب اداروں کے درمیان ڈائیلاگ ضروری ہے اور ہونا چاہیے۔ کیونکہ ہم نے دیکھا ہے کہ جب ادارے آپس میں لڑتے ہیں تو ایک بے یقینی کی صورتحال پیدا ہوتی ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اگر سیاستدان بار بار کہہ بھی رہے ہیں تو شاید اس وقت واضح حل یہی ہے۔ ایک تجویز سننے میں آئی بھی تھی کہ نیشنل سکیورٹی کونسل ہے جہاں یہ ڈائیلاگ ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ کیسے اور کس طرح ہوگا، یہ ان کو آپس میں بیٹھ کر طے کرنا ہوگا۔‘

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کی موجودہ حکومت پر اکثر یہ تنقید کی جاتی ہے کہ بیشک وزیرِ اعظم عمران خان نے 2018 کے عام انتخابات جیتے ہوں لیکن ’ملک کی باگ دوڑ ان کے ہاتھ میں نہیں ہے‘۔

اس تنقید کو دیکھتے ہوئے تجزیہ کار اداروں کے ایک ساتھ بیٹھنے کو صرف ایک ادارے کی مرضی پر منحصر سمجھتے ہیں۔

صحافی اور تجزیہ کار محمد ضیا الدین کہتے ہیں ’لوگوں کی خواہش تو ہوسکتی ہے کہ کوئی ڈیل ہوجائے۔ لیکن یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک پاکستان کی سب سے بڑی اور طاقتور سیاسی جماعت، یعنی پاکستان کی فوج کو اس بات کا احساس نہ ہو جائے کہ ان کو اپنے آئینی دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرنا ہوگا۔ تب تک ڈیل کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اس وقت سیاستدان اور منتخب نمائندے یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان کی فوج اپنی حد میں رہتے ہوئے کام کرے اور اپنے مفاد کو ملک و قوم کے مفاد سے بالاتر نہ سمجھیں۔ اس خواہش کا اظہار کئی فورمز پر کیا جا چکا ہے۔‘

محمد ضیا الدین کہتے ہیں ’عدلیہ پر ماضی میں افواجِ پاکستان کے ساتھ مل کر سابق وزیر اعظم کو ہٹانے کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ اب لگتا تو یہی ہے کہ سبھی ادارے آئین کو ملک سے کم تر سمجھتے ہیں۔ اور یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان کا قیام برٹش کلونیل قوانین کے تحت ہوا تھا۔ کہنے کا مقصد ہے کہ آئین نے پاکستان کو بنایا ہے پاکستان نے آئین کو نہیں بنایا ہے۔ تو ان سب اداروں کو سب سے پہلے آئین کی پاسداری کرنے پڑے گی۔ جس کے بعد بات چیت کا عنصر آئے گا‘۔