پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ روکا جائے، حکومت کی عدالت سے استدعا

پرویز مشرف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپرویز مشرف کے وکیل کی جانب سے انھیں مزید مہلت دینے کی استدعا کی گئی جسے عدالت نے مسترد کر دیا
    • مصنف, اعظم خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں فیصلہ رکوانے کے لیے تحریک انصاف کی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ عبوری ریلیف کے طور پر خصوصی عدالت کا 19 نومبر کا فیصلہ معطل کیا جائے۔

خیال رہے کہ 19 نومبر کو پرویز مشرف کی مسلسل غیر حاضری کی وجہ بتاتے ہوئے سنگین غداری کیس سننے والی تین رکنی خصوصی عدالت نے اس ٹرائل کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ مقدمے کا فیصلہ اب 28 نومبر کو سنایا جائے گا۔

پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، جسٹس وقار احمد سیٹھ اس وقت خصوصی عدالت کے سربراہ ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں یہ درخواست وزارت داخلہ کی طرف سے دائر کی گئی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ خصوصی عدالت کو 28 نومبر کو فیصلہ سنانے سے روکا جائے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کا تین رکنی بینچ اس درخواست پر منگل کو سماعت کرے گا۔

وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ہم نے عدالت کو یہ نہیں کہا کہ مشرف کو معاف کردیں۔ ہم نے کہا ہے کہ ان کو مناسب وقت دیں تاکہ پراسیکیوشن ہو سکے۔‘

اس سوال پر کہ چھ سال بعد خصوصی عدالت کی تشکیل اور شریک ملزمان سے متعلق چیف جسٹس آصف کھوسہ کے فیصلے پر اب اعتراضات کیوں اٹھائے جا رہے ہیں، وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ’یہ فیصلہ اکیلا میرا نہیں ہے، اس میں اٹارنی جنرل اور دیگر بھی شریک ہیں‘۔

تحریک انصاف کی حکومت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے خط سے شروع ہونے والے سنگین غداری ٹرائل کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا دیا۔

یاد رہے کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 21 نومبر کو ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ اعلان کیا تھا کہ ’عدلیہ کے سامنے کوئی طاقتور نہیں ہے، عدلیہ نے دو وزرائے اعظم کو نااہل قرار دیا جبکہ ایک سابق آرمی چیف کا فیصلہ آ رہا ہے‘۔

چیف جسٹس جب تقریب سے خطاب کر رہے تھے تو اس سے دو دن قبل خصوصی عدالت نے سابق آرمی چیف پرویز مشرف کے مقدمے میں 28 نومبر کو فیصلہ سنانے کا اعلان کیا تھا۔

چیف جسٹس کی یہ تقریر وزیر اعظم عمران خان کی تقریر کے جواب میں تھی جس میں انھوں نے براہ راست جسٹس کھوسہ کو ملک میں یکساں نظام انصاف لاگو کرنے کا کہا تھا۔

مزید پڑھیے

اعجاز شاہ

،تصویر کا ذریعہNATIONAL ASSEMBLY OF PAKISTAN

،تصویر کا کیپشنگذشتہ 20 برس کے دوران کئی اہم واقعات میں بریگیڈیئر اعجازشاہ کا نام آتا رہا ہے

حکومت نے گذشتہ ہفتے پاکستان کے نئے چیف جسٹس کے تقرر کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا تھا۔ جسٹس کھوسہ اگلے ماہ 20 دسمبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں۔

حکومت ایسا کیوں کر رہی ہے؟

وزارت داخلہ نے اپنی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ سنگین غداری کیس میں شریک ملزمان کو ٹرائل میں شامل ہی نہیں کیا گیا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے ’سابق صدر پرویز مشرف سے قانون کے مطابق برتاؤ کیا جائے۔ کیس میں پرویز مشرف دفاع کے حق سے محروم کیا گیا۔ خصوصی عدالت کا فیصلہ آئیں کے آرٹیکل 4 اور 10اے کی خلاف ورزی ہے‘۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ ’سابق آرمی چیف پرویز مشرف کو صفائی کا موقع ملنے تک خصوصی عدالت کو فیصلہ دینے سے روکا جائے۔ نئی پراسیکیوشن ٹیم تعینات کرنے تک خصوصی عدالت کو کارروائی سے روکا جائے‘۔

درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کو پراسیکیوشن ٹیم تبدیل کرنے کا اختیار ہے۔ ’پراسیکیوشن ٹیم کو 23 اکتوبر کو ڈی نوٹی فائی کیا مگر 24 اکتوبر کو بغیر اختیار کے مقدمہ کی پیروی کی۔ پراسیکیوشن ٹیم نے تحریری دلائل بھی جمع کرائے جس کا اسے اختیار نہیں تھا۔‘

سنگین غداری کیس: خصوصی عدالت کی تشکیل پر اعتراض

تحریک انصاف کی حکومت نے خصوصی عدالت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ عدالت کی تشکیل درست ہے اور نہ ہی شکایت مجاز فرد کی جانب سے داخل کرائی گئی ہے۔

اس وقت وزیر داخلہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ اعجاز شاہ ہیں جو مشرف کے قریبی ساتھی رہ چکے ہیں۔ ان کی وزارت نے درخواست کہ ہے کہ ’اس معاملے کو بھی قانون کے مطابق حل کرنے کی ضرورت ہے۔‘

خصوصی عدالت کی تشکیل پر تحریک انصاف حکومت کی طرف سے پہلی بار اعتراض اٹھایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے ٹرائل کی باقاعدہ کارروائی سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور حکومت میں 20 دسمبر 2013 کو شروع ہوئی تھی۔

پراسیکیوشن ٹیم نے اپنی تمام شہادتیں اور دلائل 14 مئی 2014 کو مکمل کرلیے تھے۔

اس کے بعد مشرف کے وکلا کی جانب سے متعدد درخواستیں دی گئیں اور یہ ٹرائل عدالتی فائلوں میں ہی دب کر رہ گیا۔

نواز شریف کے دور حکومت میں بننے والی خصوصی عدالت کے سربراہ رہنے والے تین ججز بعد میں سپریم کورٹ کے ججز بن گئے۔

جس کی وجہ سے ہر بار اس عدالت کی نئے سرے سے تشکیل کی گئی۔

خصوصی عدالت کے موجودہ سربراہ کون ہیں؟

جسٹس طاہرہ صفدر چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کی حیثیت سے رٹائرڈ ہوئیں تو پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس وقار احمد سیٹھ خصوصی عدالت کے سربراہ بن گئے۔

جسٹس سیٹھ کا نام عالمی عدالت انصاف میں اس وقت سامنے آیا جب حکومت پاکستان نے اپنے زیر حراست مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کے مقدمے میں بتایا کہ پاکستان میں ججز فوجی عدالتوں کے فیصلوں پر نظر ثانی کرتے ہیں۔

جسٹس وقار سیٹھ

،تصویر کا ذریعہKP Judicial Academy

،تصویر کا کیپشنجسٹس وقار سیٹھ نے اس ٹرائل کا فیصلہ 28 نومبر تک کے لیے محفوظ کرلیا تھا

واضح رہے کہ جسٹس سیٹھ نے درجنوں ملٹری ٹرائلز کے علاوہ آرمی کے حراستی مراکز سے متعلق صدارتی آرڈیننس کو بھی کالعدم قرار دیا تھا۔

حراستی مراکز کا کیس اس وقت سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔

ٹرائل مشرف تک محدود رکھنا، چیف جسٹس آصف کھوسہ کا فیصلہ

سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں سب سے اہم موڑ اس وقت آیا تھا جب پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس مقدمے کے لیے قائم کی گئی خصوصی عدالت کو وفاقی حکومت کی شکایت کے عین مطابق ٹرائل صرف سابق آرمی چیف تک ہی محدود رکھنے کا حکم دیا تھا۔

اس سے قبل خصوصی عدالت نے ایک فیصلے کے ذریعے پرویز مشرف کے علاوہ تین نومبر 2007 کے وقت وزیر اعظم شوکت عزیز، چیف جسٹس کے عہدے پر براجمان ہونے والے جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور وزیر قانون زاہد حامد کو بھی اس ٹرائل میں شامل کرنے کا حکم دیا تھا۔

تحریک انصاف کی حکومت کے بعد پرویز مشرف ٹرائل کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی کوشش کی گئی، اس ٹرائل میں پراسیکیوشن ٹیم کو تحلیل کر دیا گیا اور وکلا بھی نامزد نہیں کیے گئے، تاہم چیف جسٹس آصف کھوسہ نے خصوصی عدالت کو اس ٹرائل کو منطقی انجام تک پہنچانے کے احکامات دیے۔

چیف جسٹس نے پرویز مشرف کے مقدمے سے متعلق ایک سماعت پر ریمارکس دیے تھے کہ برطانیہ میں مارشل لا کے نفاذ کی پاداش میں اولیور کرامویل کے جسد خاکی کو پھانسی کی علامتی سزا دی گئی تھی۔

خصوصی عدالت نے سابق صدر پرویز مشرف کو پیش ہونے کے متعدد مواقع دیے۔

تاہم اس عرصے کے دوران وہ خود پیش ہوئے نہ ہی عدالت کی دیگر آپشنز کو تسلیم کیا، جس پر جسٹس وقار سیٹھ نے اس ٹرائل کا فیصلہ 28 نومبر تک کے لیے محفوظ کرلیا تھا۔