پرویز مشرف پاکستان واپس نہیں آئے، سپریم کورٹ نے نااہلی پر نظرثانی کی درخواست رد کردی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کی سپریم کورٹ نے عدالت میں پیش نہ ہونے پر سابق فوجی صدر پرویز مشرف کی نااہلی کو بدستور برقرار رکھتے ہوئے اُن کے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرنے کا عبوری حکم نامہ واپس لے لیا ہے۔
یاد رہے کہ پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے پرویز مشرف کو نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے انتخابات میں حصہ لینے پر تاحیات پابندی لگائی گئی تھی اور اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی درخواست دائر کی گئی تھی۔
اسی بارے میں مزید خبریں
جمعرات کو چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے لاہور رجسٹری میں درخواست کی سماعت کی۔
بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق چیف جسٹس نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ پتہ کر کے بتائیں کہ پرویز مشرف واپس آ رہے ہیں کہ نہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جس کے بعد پرویز مشرف کے وکیل قمر افضل نے عدالت کو بتایا کہ اُن کے موکل واپس آنا چاہتے تھے لیکن موجودہ حالات اور عید کی چھٹیوں کی وجہ سے وہ پاکستان واپس نہیں آ سکتے۔‘
انھوں نے عدالت سے پرویز مشرف کو مزید مہلت دینے کی استدعا کی، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کو پیش ہونے کے لیے جو حتمی مہلت دی تھی وہ جمعرات کی دوپہر دو بجے ختم ہو رہی ہے۔
مشرف کے وکیل کی جانب سے ان کے موکل کی جمعرات کو پاکستان آمد کی تصدیق نہ کیے جانے کے بعد عدالت نے نظرِ ثانی کی درخواست کا فیصلہ سناتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کو برقرار رکھنے کا حکم دیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
ساتھ ہی ساتھ سپریم کورٹ نے وہ عبوری حکم بھی واپس لے لیا جس میں 2018 کے انتخابات کے لیے پرویز مشرف کو کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کی اجازت دی گئی تھی۔
بدھ کو عدالت نے کہا تھا کہ اگر پرویز مشرف وطن واپس نہ آئے تو عام انتخابات میں حصہ لینے کے لیے ان کے کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال نہیں ہونے دی جائے گی۔
اس کے بعد بدھ کی شب آل پاکستان مسلم لیگ نے مشرف کی واپسی کا اعلان پارٹی کے ٹوئٹر آکاؤنٹ پر کیا تاہم پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق تاحال پرویز مشرف کا پاسپورٹ بحال نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ نواز نے آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اپنی حکومت کے آخری روز سابق فوجی صدر کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔
سپریم کورٹ نے نگران حکومت کو پرویز مشرف کی دستاویزات بحال کرنے کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔
خصوصی عدالت کا نیا بینچ
دوسری طرف صدر مملکت نے ملزم پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے کی سماعت کے لیے ایک نیا تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے۔
اب اس خصوصی عدالت کی سربراہی لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس یاور علی کریں گے۔ اس خصوصی بینچ کے دیگر دو ارکان میں بلوچستان ہائی کورٹ کی جسٹس طاہرہ صفدر اور سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر شامل ہیں۔
یہ خصوصی بینچ عید کی چھٹیوں کے بعد عدالتی کارروائی کا آغاز کرے گا۔ اس سے پہلے بینچ کے سربراہ جسٹس یحییٰ آفریدی بعض وجوہات کی بنا پر بینچ سے الگ ہو گئے تھے۔









