سموگ: ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق لاہور کے ’ہر شہری کی صحت کو خطرہ‘ ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے ایک غیرمعمولی بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی شہر لاہور کے ہر شہری کی صحت کو سموگ یا گرد آلود زہریلی دھند سے خطرہ لاحق ہے۔
جمعرات کی شب جاری کیے گئے ایک بیان میں ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس بیان کا مقصد تنظیم کے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے حامیوں کو لاہور کی آبادی کے لیے ایک مہم چلانے پر آمادہ کرنا ہے تاکہ شہر میں انتہائی نقصان دہ ہوا اور فضائی آلودگی کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی بڑھائی جا سکے۔
لاہور کی موجودہ آبادی ایک کروڑ سے زیادہ ہے اور یہ پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ لاہور میں سموگ کی وجہ سے ماضی میں بھی تعلیمی ادارے بند کیے گئے ہیں اور جمعے کو بھی شہر بھر میں اسی وجہ سے سکولوں اور کالجوں میں چھٹی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
جنوبی ایشیا کے لیے ایمنٹسی انٹرنیشنل کی نمائندہ رمل محی الدین کا کہنا ہے کہ ’یہ نقصان دہ فضا شہر میں موجود ہر کسی کی صحت کے لیے خطرہ ہے اور حکومت کی جانب سے لاہور کے سموگ سے نمٹنے کے لیے ناکافی اقدامات کی وجہ سے وہاں حقوقِ انسانی کی صورتحال کے بارے میں خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’یہ معاملہ اس قدر سنجیدہ ہے کہ ہم دنیا بھر میں اپنے اراکین سے استدعا کر رہے ہیں کہ وہ پاکستانی حکام سے کہیں کہ وہ اس بحران کی نوعیت کو سنگین مانیں اور لوگوں کی صحت اور جانیں بچانے کے لیے فوری اقدام کریں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لاہور میں امریکی سفارتخانے میں نصب فضا کے معیار کی نگرانی کرنے والے آلات سے حاصل کردہ اعدادوشمار کے مطابق اس ماہ میں متعدد بار لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس 580 تک پہنچ گیا تھا۔ اے کیو آئی کے مطابق 130 کی شرح حساس طبعیت کے مالک افراد کے لیے تاحال غیرصحتمندانہ ہے جبکہ 580 کی شرح تو ہر فرد کے لیے انتہائی خطرناک تصور کی جاتی ہے۔
اس ماہ میں ہر دو میں سے ایک دن لاہور کی فضا کا معیار خطرناک حد تک خراب ہوا ہے۔ اس سے قبل 29 اکتوبر کو بھی لاہور کی فضا آلودگی کے اعتبار سے دنیا میں بدترین تھی۔
واضح رہے کہ پاکستانی حکام اس سموگ کی وجہ سرحد پار انڈیا میں کسانوں کی جانب سے دھان کی فصل کی باقیات نذرِ آتش کرنے کو قرار دیتے رہے ہیں۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا فوری ایکشن کیا ہوتا ہے؟
ایمنسٹی انٹرنیشنل کا ’فوری ایکشن‘ ایک ایسا اقدام ہے جسے تنظیم نے ماضی میں کئی مرتبہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا سامنا کرنے والوں اور انسانی ضمیر کو ہلا دینے والے معاملات کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔
ماضی کے موضوعات میں پاکستانی مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی توہینِ مذہب کے سلسلے میں قید، گوتانامو بے کے قیدیوں کی رہائی، اور حقوقِ نسواں کے حوالے سے کام کرنے والا روسی پنک راک بینڈ پسی رائٹ کے خلاف کارروائی شامل ہیں۔
اسی حوالے سے مزید پڑھیے
عام طور پر سموگ کے باعث آنکھوں ناک اور گلے میں جلن کی شکایت کی جاتی ہے اور ساتھ ہی یہ سانس کی تکلیف میں مبتلا لوگوں کے لیے بھی انتہائی مضر سمجھی جاتی ہے۔
ائیر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی)کا مطلب کیا ہے؟
ایئر کوالٹی انڈیکس کا تعین فضا میں مختلف گیسوں اور پی ایم 2.5 (فضا میں موجود ذرات) کے تناسب کو جانچ کر کیا جاتا ہے۔ ایک خاص حد سے تجاوز کرنے پر یہ گیسیں ہوا کو آلودہ کر دیتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
جب اے کیو آئی صفر اور پچاس کے بیچ میں ہو تو اس کا مطلب ہے کہ ہوا کی کوالٹی اچھی ہے۔’
اے کیو آئی کا 51 سے 100 کے درمیان ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہوا کی کوالٹی درمیانے درجے کی ہے۔ تاہم 101 سے 150 تک کی ایئر کوالٹی سے سانس کی بیماریوں میں مبتلا اور حساس طبیعت افراد کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
ہوا کی کوالٹی اگر 151 سے 200 کے درمیان ہو تو وہ غیر صحت بخش ہو جاتی ہے جس سے عام لوگوں کی صحت کو بھی خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔
اگر اے کیو آئی 201 سے 300 کے درمیان ہو جائے تو فوراً صحت کی ایمرجنسی نافذ کر دینی چاہیے۔ جبکہ اگر اے کیو آئی 301 سے 500 کے بیچ ہو تو عام لوگوں کو صحت کے حوالے سے شدید نقصانات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
سموگ کیسے پھیلتی ہے؟
ماہرین کے مطابق پاکستان اور انڈیا کے شمال میں پہاڑی سلسلے واقع ہیں۔ یہ ایک دیوار کا کام کرتے ہیں۔ چاول کے منڈھ جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں فضا میں اٹھتا ہے، معلق رہتا ہے اور جب ادھر کی ہوا چلتی ہے تو یہ پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق جس قدر یہ زیادہ ہو گا، اتنا دور تک پاکستان کے اندر تک سفر کرے گا۔ اس طرح زیادہ شہر متاثر ہوں گے۔












