فضا میں زہریلی سموگ تو سڑکوں پر تحریک لبیک کا راج۔۔۔

سموگ میں احتجاج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنتحریکِ لبیک کے کارکنوں کا قافلہ موٹر وے پر
    • مصنف, عمر دراز ننگیانہ
    • عہدہ, بی بی سی اردو لاہور

پاکستان میں دھوئیں اور دھند کے ملاپ کا سیزن شروع ہونے کے ساتھ ہی سڑکوں پر مذہبی جماعتوں کا احتجاج جاری ہے جس میں سوشل میڈیا پر بات کی جا رہی ہے کہ ٹریفک کم ہونے سے سموگ کا زور کم ہو گا یا جلاؤ گھیراؤ سے یہ مزید زور پکڑے گی۔

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں مسلسل پانچویں برس ’سموگ‘ کا موسم لوٹ رہا ہے۔

دھوئیں اور دھند کا یہ زہریلا امتزاج شہر کی فضا میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں اس میں شدت آئے گی۔

لیکن لاہور میں آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف تحریک لبیک کا احتجاج جاری ہے اور اس پر بینظیر شاہ نے ٹویٹ کی کہ پنجاب اسمبلی کے باہر لبیک احتجاج کر رہی ہے اور انھوں نے پہیہ جام کی کال دی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ سموگ ان کے ساتھ ہو۔۔۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

اس پر لوگوں نے لوگوں نے سموگ کے مسئلے کو تحریک لبیک سے ملاتے ہوئے ٹویٹ کرنا شروع کی جس میں شہریار علی شاہ نے ٹویٹ کی کاش کہ سموگ ان کے اندر ہو۔۔۔۔

سوشل میڈیا پر بحث تو جاری ہے لیکن لاہور میں سموگ کے بارے میں بات کرتے ہیں جہاں فضائی آلودگی کے اس موسم میں شہر کی فضا میں سانس لینا دشوار ہوتا ہے۔

صوبہ پنجاب کی حکومت سموگ سے بچنے کے لیے جتن کرتی رہی ہے مگر تاحال کامیاب نہیں ہو پائی۔ حالیہ برس سموگ سے حفاظتی اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کا دعوٰی کیا گیا تھا۔

،ویڈیو کیپشنآلودگی سے بچنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟

اس بارے میں مزید پڑھیے

پنجاب کے ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ نے دسمبر تک روایتی اینٹوں کے بھٹوں پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔ صرف زگ زیگ ٹیکنالوجی پر بنے بھٹوں کو چلنے کی اجازت ہے۔

ادارے کے ترجمان نسیم الرحمٰن نے بی بی سی کو بتایا کہ دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں اور فیکٹریوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جا رہی ہے۔ تو ان تمام اقدامات کے بعد سموگ کہاں سے آ گئی؟

نسیم الرحمٰن کہتے ہیں کہ’اب کے بار یہ انڈیا سے آ رہی ہے۔‘ وہ انڈیا میں بڑے پیمانے پر دھان کی فصل کے منڈھ جلائے جانے کے عمل کو قصور وار ٹھہراتے ہیں۔ مگر وہ دھواں پاکستان کیسے آتا ہے۔ پاکستان میں بھی تو مڈھی جلائی جاتی ہے۔ کیا وہ آلودگی کا ذریعہ نہیں؟

سموگ انڈیا سے کیسے آتی ہے؟

ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ پنجاب کے ترجمان نسیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ لاہور میں اس بار پھر سموگ نظر آنا ایک قدرتی عمل ہے۔

سموگ

،تصویر کا ذریعہAFP

اس کی وجہ ان کے مطابق یہ ہے کہ پاکستان میں تو آلودگی پھیلانے والے عناصر پر قابو کرنے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، تاہم جب تک انڈیا میں بھی ویسے ہی اقدامات نہیں کیے جاتے، ’سموگ پاکستان میں ضرور آئے گی۔‘

ماحولیاتی تحفظ کے ماہرین کے مطابق سموگ کے پیدا ہونے میں بڑا ہاتھ اس دھوئیں کا ہے جو چاول کی فصل کے منڈھ کو جلانے سے اٹھتا ہے۔

انڈیا میں جتنے رقبے پر یہ منڈھ جلایا جاتا ہے اس کا حصہ پاکستان کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہے۔ نسیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قومی خلائی ایجنسی سُپارکو کے نقشوں سے واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ اس دھوئیں کا بڑا حصہ انڈیا میں ہے۔

گزشتہ برس امریکی خلائی ادارے ناسا کے مصنوعی سیاروں سے لی گئی جاری کردہ تصاویر نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی۔

ماہرین کے مطابق پاکستان اور انڈیا کے شمال میں پہاڑی سلسلے واقع ہیں۔ یہ ایک دیوار کا کام کرتے ہیں۔ چاول کے منڈھ جلانے سے پیدا ہونے والا دھواں فضا میں اٹھتا ہے، معلق رہتا ہے اور جب ادھر کی ہوا چلتی ہے تو یہ پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے۔

جس قدر یہ زیادہ ہو گا، اتنا دور تک پاکستان کے اندر تک سفر کرے گا۔ اس طرح زیادہ شہر متاثر ہوں گے۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

نسیم الرحمٰن کے مطابق پاکستان اندورنی سطح پر فضائی آلودگی پر قابو پانے سے سموگ کی شدت کو کم کر سکتا ہے۔ مگر کیا انڈیا سے آنے والے اس دھوئیں کو روکنے کی کوئی صورت نہیں؟

تو کیا پاکستان انڈیا کے رحم و کرم پر رہے گا؟

ماحولیات کے ماہرین اور وکلا کے مطابق بین الاقوامی قوانین کسی ملک کی جانب سے کسی دوسرے ملک کی حدود میں آلودگی پھیلانے پر قانونی چارہ جوئی کا حق دیتے ہیں۔

ماحولیات کے وکیل رافع عالم نے بی بی سی سے ایک گزشتہ انٹرویو میں بتایا تھا کہ "اگر ایک ملک اپنی آلودگی دوسرے ملک میں پھیلا رہا ہو تو اس پر بین الاقوامی طور پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔"

سموگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس میں اس کو جرمانہ بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ شواہد پیش کیے جائیں۔ وہ کہاں سے آئیں گے؟

اس کے لیے ضروری ہے کہ فضائی آلودگی کے ذرائع معلوم ہوں۔ فضائی آلودگی کو ناپنے والے میٹر کے ذریعے نا صرف آلودگی کی مقدار کا اندازہ بلکہ ذرائع کا پتہ بھی لگایا جا سکتا ہے۔

نسیم الرحمٰن نے بی بی سی کو بتایا کہ لاہور میں کئی مقامات کے علاوہ ایسے میٹر گوجرانوالہ، ملتان اور فیصل آباد میں بھی نصب ہیں۔ تاہم ان سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار تاحال سامنے نہیں لائے گئے۔

ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ پنجاب کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے پاکستان کی وزارتِ خارجہ سے درخواست کی ہے کہ وہ انڈین حکومت سے بات کریں۔ "ان سے بات چیت ہو بھی رہی ہے کیونکہ انڈیا کے اپنے لیے بھی یہ بڑا مسئلہ ہے۔

پاکستان خود کیا کر رہا ہے؟

نسیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ سموگ سے بچاؤ کے لیے اندرونی سطح پر چار اقدامات انتہائی ضروری ہیں، یعنی روایتی اینٹوں کے بھٹوں پر پابندی، فیکٹریوں میں باقاعدہ فلٹریشن کے آلات، گاڑیوں کے دھوئیں پر قابو پانا اور دھان کی مڈھی جلانے کے عمل کی روک تھام۔

ان میں پہلے تین پر عملدرآمد کروایا جا رہا ہے، تاہم چوتھے اقدام میں نتائج کے حصول میں وقت لگے گا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

زگ زیگ بھٹے

سموگ

،تصویر کا ذریعہAFP

نسیم الرحمٰن کا کہنا تھا کہ بھٹے کی نیپال میں استعمال ہونے والی زگ زیگ ٹیکنالوجی پاکستان میں متعارف کروا دی گئی ہے۔ روایتی بھٹے کو ہی زِگ زیگ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی بھٹہ مالکان کے تعاون سے نئی ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔

"روایتی بھٹے کے مقابلے میں زگ زیگ بھٹے میں ایندھن یعنی کوئلے کی کھپت میں 30 فیصد تک کمی ہوتی ہے جبکہ اس سے پیدا ہونے والی آلودگی میں 70 فیصد کمی آتی ہے۔"

ان کا کہنا تھا سموگ کا موسم گزر جانے کے بعد بھی صرف ان بھٹوں کو چلنے کی اجازت دی جائے گی جو زگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل ہو جائیں گے۔

پاکستان میں قریباٌ 20 ہزار کے لگ بھٹے موجود ہیں۔ انہیں فضائی آلودگی کا بڑا ذریعہ تصور کیا جاتا ہے۔

دھان کی مڈھی تلف کرنے کی مشینیں

دھان کی فصل

،تصویر کا ذریعہAFP

ادارہ برائے ماحولیاتی تحفظ کے ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ زراعت پنجاب کو ہدایات دی گئیں ہیں کہ دفعہ 144 کے تحت چاول کی مڈھی جلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ حکومت دیگر آپشنز پر بھی غور کر رہی ہے۔

ان میں کسانوں کو روٹاویٹر یا مشینوں کی فراہمی بھی شامل ہے جن کے ذریعے چاول کی مڈھی کو جلائے بغیر تلف کیا جا سکے گا۔ تاہم اس میں وقت لگ سکتا ہے۔

"اس میں مالی مسائل اور دیگر امور بھی دیکھنے ہوتے ہیں تو اس میں وقت لگے گا۔" تاہم نسیم الرحمٰن نے امید ظاہر کی کہ حکومت کے اقدامات کی بدولت "اس سال سموگ کی شدت کم ہو گی۔" ابھی بحرحال آغاز ہے۔