دلی کی سموگ: ایک خاموش قاتل جو نظر آتا ہے نہ نظر آنے دیتا ہے

- مصنف, سہیل حلیم
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی
دلی کی ہوا جب اچھی ہوتی ہے تو بھی بہت خراب ہوتی ہے۔ جب خراب ہوتی ہے تو بہت زیادہ خراب ہوتی ہے۔ پھر اسے سنگین کے زمرے میں ڈالا جاتا ہے۔
اور جب آجکل کی طرح ’سنگین‘ نہ ہو تو کوئی اس کا ذکر نہیں کرتا کیونکہ زہریلی ہوا ایک ’سائلنٹ کِلر‘ ہے، ایک ایسا خاموش قاتل جو نظر نہیں آتا اور جس کا کاٹا فوراً غش کھاکر نہیں گرجاتا، سکون سے مرتا ہے، بشرطیکہ تباہ شدہ پھیپڑوں کے ساتھ بھی انسان سکون سے مرسکتا ہو۔
شاید اسی لیے وزیر ماحولیات ہرش وردھن نے کہا ہے کہ گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے حالانکہ ’گیس چیمبر‘ دلی میں کل شام تک کئی مقامات پر ہوا ’محفوظ‘ کی حد سے بیس گنا زیادہ خراب ہے۔
جب یہ پانچ یا چھ گنا خراب ہوتی ہے تو لوگ چین کی سانس لیتے ہیں۔ سورج بھی نظر آتا ہے اور آسمان بھی لیکن وہ مہین ذرات پھر بھی ہوا میں موجود ہوتے ہیں جو انسانوں کو ان کے انجام تک پہنچانے میں مدد کرتے ہیں۔ بس نظر نہیں آتے۔
سموگ کے موضوع پر یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

ہوا کو صاف کرنے کے لیے دلی کی حکومت نے پیر سے ’آڈ ایون‘ فارمولہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنے رجسٹریشن نمبر کے حساب سے تاک نمبر والی گاڑیاں ایک دن جبکہ جُفت نمبر والی گاڑیاں دوسرے دن چلیں گی۔
لیکن دلی میں آلودگی کی نگرانی کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے یہ سکیم لاگو کرنے کی کوئی سفارش نہیں کی کیونکہ محکمہ موسمیات کے مطابق سنیچر سے ہوا ’سنگین‘ کے زمرے سے نکل کر ’بہت خراب‘ کے زمرے میں آجائے گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اب بہت خراب ہوا میں سانس لینے پر کسے اعتراض ہوسکتا ہے؟ اور کیوں؟ ایک دن مرنا تو ہے ہی، اور ایسا تو ہے نہیں کہ وہ دن آج ہی ہے۔
کہتے ہیں کہ ایک مریض جب کھانسی کی شکایت لیکر ڈاکٹر کے پاس پہنچا تو ڈاکٹر نے پوچھا کہ شراب اور سگریٹ پیتے ہو کیا؟ مریض نے حامی بھری تو ڈاکٹر نے کہا کہ دونوں ہی چھوڑنا ہوں گی ورنہ آہستہ آہستہ مر جاؤ گے۔
مریض نے جواب دیا: مجھے کوئی ایسی خاص جلدی بھی نہیں ہے!

زہریلی ہوا کے نقصان تو سب کو معلوم ہیں، اور اس کے لیے صرف پنجاب، ہریانہ اور مغربی اتر پردیش کے کسان ہی ذمہ دار نہیں ہیں۔ وہ اکتوبر کے آخری اور نومبر کے پہلے ہفتے میں ’پرالی‘ جلاتے ہیں، دھان کی سوکھی ہوئی جڑیں جو ان کے کسی کام کی نہیں ہوتیں، جنھیں کھیتوں سے صاف کرنے میں محنت بھی لگتی ہے اور پیسہ بھی، اور جلانے میں صرف ماچس کی ایک تیلی۔
لیکن انہیں روکنے کی ہمت بھی کسی میں نہیں۔ انہیں ناراض کرنے کا خطرہ کوئی حکومت مول نہیں لے سکتی۔ وہ حکومتیں بناتے اور بگاڑتے ہیں۔
گزشتہ برس کھیتوں سے یہ دھواں جب دلی پہنچا تو لوگ شہر چھوڑ کر بھاگنے لگے۔ پھر ہوا چل گئی، دھواں صاف ہوگیا اور، ہوا پھر سنگین سے بہت خراب کے زمرے میں پہنچ گئی اور سب پھر چین کی سانس لینے لگے۔
اسی طرح جیسے اب ہونا شروع ہوگیا ہے۔ تین دن کے بعد آج جمعے کو سورج نظر آرہا ہے، تھوڑی ہوا چلے گی تو آسمان کم سرمئی ہو جائے گا اور لوگ پھر اپنے کاموں میں لگ جائیں گے۔

یہ سب جانتے ہیں کہ پانچ دن کے ’آڈ ایون‘ سے ہوا کو صاف نہیں کیا جا سکتا، ایک بجلی گھر بند کرنا، شہر میں ٹرکوں کا داخلہ روکنا، تعمیراتی سرگرمیوں پر پابندی لگانا۔۔۔یہ سب عارضی شارٹ ٹرم اقدمات ہیں جو سنگین کو بہت خراب تک تو پہنچا سکتے ہیں لیکن اس سے آگے نہیں۔
ہوا کو صاف کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جس پر سیاسی نقصان اور فائدے کی پرواہ کیے بغیر عمل کیا جا سکے۔
لاکھوں کروڑوں لوگ زہریلی ہوا میں سانس لے رہے ہیں لیکن بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بلی عام حالات میں نظر نہیں آتی اور گھنٹی ہے نہیں۔
بہت خراب ہی نیا نارمل ہے!









