سموگ: ’انڈیا سے ہوا چلنا بند لیکن حکومت نے کیا کیا ہے؟ ‘

،تصویر کا ذریعہAP
- مصنف, بیورو رپورٹ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور ہائیکورٹ نے صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں سموگ اور فضائی آلودگی کے معاملے پر متعلقہ حکومتی اداروں سے جواب مانگ لیا ہے.
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے حکومتی اداروں کو جامع اور تفصیلی جواب پیش کیا جائے.
چیف جسٹس ہائیکورٹ نے سیکرٹری ماحولیات اور سیکرٹری صحت سے سموگ پر قابو پانے کے لیے اقدامات اور آگاہی مہم کا شق وار جواب دیا۔
پیر کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ پر مشتمل یک رکنی بنچ نے تحریک انصاف کے رہنما ولید اقبال کی درخواست پر سماعت کی جس میں سموگ اور فضائی آلودگی کے لیے موثر اقدامات کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔
کارروائی کے دوران درخواست گزار کے وکیل شیراز ذکا نے نشاندہی کی کہ سموگ اور فضائی آلودگی کی وجہ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں شہری متاثر ہو رہے ہیں تاہم حکومت نے کوئی اقدامات نہیں کیے۔
چیف جسٹس ہائیکورٹ کے حکم پر سیکرٹری صحت، سیکرٹری ماحولیات اور چیف میٹرولوجسٹ مختصر مہلت پر عدالت میں پیش ہوئے۔
سیکرٹری ماحولیات نے عدالت کو بتایا کہ انڈیا کی ریاست ہریانہ میں چاول کی فصل کے فضلے کو آگ لگائی گئی جس کا دھواں پاکستانی پنجاب میں دھند میں شامل ہوکر سموگ کی شکل اختیار کر گیا ہے.
چیف جسٹس ہائیکورٹ نے سیکرٹری ماحولیات کے بیان پر حیرت ظاہر کی اور کہا کہ انڈیا کی بات چھوڑیں، یہ بتائیں اس کے تدارک کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سیکرٹری ماحولیات نے بتایا کہ انڈیا کی جانب سے ہوائیں آرہی تھیں تاہم اب یہ سلسلہ رک گیا ہے جس سے صورتحال میں بہتری آئی ہے.
اس پر چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے باور کرایا کہ ہوا چلنے سے صورتحال بہتر ہوئی ہے، حکومت نے کیا کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے سموگ کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات نہ کرنے پر برہمی اظہار کیا اور کہا کہ عملی اقدامات کے بارے میں بتائیں کیونکہ ہوا میں باتیں کرنے سے کام نہیں چلے گا۔
سرکاری وکیل نے بتایا کہ عوام میں سموگ سے بچاو کے لیے آگاہی مہم چلائی گئی ہے. تاہم چیف جسٹس ہائیکورٹ کے استفسار پر سرکاری حکام اپنے موقف کی حمایت میں دستاویزی مواد پیش نہ کرسکے.
سماعت کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس منصور علی شاہ نے تشویش کا اظہار کیا کہ اس وقت پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلی سے خطرہ ہے لیکن اس جانب کوئی دھیان نہیں دیا جا رہا.
اس سے پہلے درخواست گزار کے وکیل شیزار ذکا ایڈووکیٹ نے بتایا کہ سموگ اور فضائی آلودگی نے ایک کروڑ شہری متاثر ہوئے ہیں. وکیل کے مطابق شہر میں بے ترتیب ترقیاتی منصوبے شروع کیا گیے ہیں اور اسی وجہ فضا میں مٹی شامل ہوگئی ہے.
درخواست گزار ولید اقبال کے وکیل نے افسوس ک اظہار کیا کہ حکومت لاہور میں سموگ اور فضائی آلودگی پر قابو پانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کر رہی.







