سموگ کے معاملے پر پنجاب حکومت کا انڈیا سے رابطہ

آلودگی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, ظفر سید
    • عہدہ, بی بی سی اردو، اسلام آباد

پاکستانی صوبہ پنجاب کی حکومت نے انڈین پنجاب کی ریاستی حکومت سے درخواست کی ہے کہ وہ سرحد کے اس پار فصلوں کی منڈھی جلانے پر پابندی لگائے۔

پنجاب حکومت نے ایک ٹویٹ میں کہا: 'ہم نے پنجاب (پاکستان) میں منڈھی جلانے پر پابندی عائد کر دی ہے، اور امید کرتے ہیں کہ کیپٹن امریندر بھی ایسا ہی کریں گے۔۔۔ ماحولیاتی خطرات ہمارے لوگوں اور علاقے کے لیے خطرے کا باعث ہیں۔ آئیے اس کا جلد از جلد مقابلہ کریں۔'

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

اس ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے دہلی کے وزیرِ اعلیٰ اروند کیجریوال نے ٹویٹ کیا کہ 'میں پنجاب اور ہریانہ کے وزرائے اعلیٰ کو خطوط لکھ کر درخواست کر رہا ہوں کہ فصلوں کی جلائی کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے اجلاس بلائیں۔'

یاد رہے کہ آج کل پاکستان کے صوبہ پنجاب کے میدانی علاقوں کے علاوہ انڈیا کے بہت سے علاقے بھی ’سموگ‘ یا دھویں ملی دھند کی لپیٹ میں ہیں، اور دہلی سمیت کئی شہروں میں آلودگی کا درجہ خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے۔

اس بارے میں یہ بھی پڑھیے:

ریاست ہریانہ اور پنجاب کے مشترکہ دارالحکومت چنڈی گڑھ میں فضائی آلودگی کی حد 375 تک پہنچ گئی ہے جو کہ اب کی بدترین ریکارڈ شدہ آلودگی ہے۔

دوسری جانب دنیا بھر میں آلودگی پر نظر رکھنے والے ادارے ایئرویژوئل کی ویب سائٹ کے مطابق اس وقت دہلی 402 پوائنٹس کے ساتھ دنیا کا سب سے آلودہ شہر ہے، جب کہ لاہور کا نمبر دوسرا ہے اور اس کے پوائنٹس 379 ہیں۔

انڈین پنجاب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈین پنجاب میں ایک کسان چاول کی منڈھی کو آگ لگا رہا ہے۔ عام خیال ہے کہ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا دھواں سموگ کا باعث ہے

400 وہ درجہ ہے جس کے بعد نظامِ تنفس متاثر ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی شرح مختلف ہے، چنانچہ اپر مال میں یہ شرح 427 ہے، جو انتہائی خطرناک کے زمرے میں آتی ہے۔

ماحولیات کے وکیل رافع احمد عالم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’پنجاب حکومت نے منڈھی کے جلانے پر پابندی تو عائد کر رکھی ہے لیکن اس پابندی پر عمل درآمد نہیں ہو رہا، اور اگر آپ موٹر وے پر جائیں تو اس کے آس پاس منڈھی جلتے دیکھ سکتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پنجاب حکومت نے منڈھی جلانے کے متبادل تو اپنی ویب سائٹ پر جاری کر دیے ہیں لیکن کسانوں کو ان پر عمل کرنے کے سلسلے میں کوئی سبسڈی نہیں دی۔

’دوسری طرف حالت یہ ہے کہ حیرت انگیز طور پر پورے پنجاب میں صرف چار ایئر کوالٹی میٹر ہیں، جو کہ پورے پنجاب تو درکنار صرف لاہور کے لیے ناکافی ہیں، جب کہ صوبے کے 36 ضلعے ہیں، اور ہر ضلعے میں چار پانچ ہونے چاہییں۔‘

رافع عالم نے کہا کہ ’تحقیق نہ ہونے کی وجہ سے ہمیں یہ تک معلوم نہیں ہے کہ یہ فضائی آلودگی کن اجزا پر مشتمل ہے۔ اگر ہم اس معاملے پر صرف ہندوستان کے ساتھ رابطہ کرتے ہیں اور اگلے سال پتہ چلا کہ یہ تو گاڑیوں کے دھویں کے باعث تو پھر معاملہ خراب ہو جائے گا۔'

انھوں نے کہا کہ ’پورے پنجاب کی صحت کا معاملہ ہے اور حالت یہ ہے کہ ہم صرف بارشوں کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ آئیں اور ہمیں سموگ سے نجات دلائیں۔‘

دہلی آلودگی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس وقت آلودگی کی درجہ بندی میں دہلی دنیا بھر میں سرِفہرست ہے