بلاول بھٹو سوشل میڈیا پر پھر تنقید کی زد میں: بلاول اگر بےنظیر جیسے لگتے ہیں تو اس میں برائی کیا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, ثنا آصف
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان میں سوشل میڈیا پر گذشتہ روز سے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو کے مخالف ٹرینڈ گردش کر رہے ہیں جن میں بلاول کے بارے میں انتہائی نازیبا زبان استعمال کی گئی ہے۔
یہ سلسلہ تب شروع ہوا جب پاکستان کے وفاقی وزیرِ قانون فروغ نسیم کی جانب سے کراچی کے انتظامی معاملات میں بہتری لانے کے لیے 'آئین کی شق 149 کے نفاذ' کا اشارہ دیا گیا اور بلاول بھٹو نے اس پر ردعمل دیا۔
یہ پہلی بار نہیں کہ بلاول بھٹو کے بارے میں نامناسب اور نازیبا زبان استمعال کی گئی ہو۔ اس سے پہلے بھی ان کی شخصیت کو کئی بار رقیق اور اخلاقیات سے گری تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان پیپلز پارٹی کے چیئرمین کو ’بلاول بھٹو صاحبہ‘ کہہ کر مخاطب کر چکے ہیں جبکہ پاکستان کے وزیر برائے ریلوے اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید بلاول کو ’بلو رانی‘ کہہ چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
بلاول کے مخالفین جہاں ان کی اردو پر تنقید کرتے ہیں وہیں انھیں اکثر خواتین سے مشابہت دے کر بھی تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں، جس کی ایک بڑی وجہ شاید ان کی اپنی والدہ بے نظیر بھٹو سے مماثلت ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیکن سوال یہ ہے کہ اگر بلاول اپنی والدہ جیسے دکھائی دیتے ہیں تو اس میں بُرائی کیا ہے؟
کیا بلاول کے انداز بیان کو خواتین سے تشبیہ دینے کا مقصد انھیں نیچا یا کم تر دکھانا ہے یا خواتین کی تضحیک مقصود ہے؟
کیا ہمارے معاشرے میں کسی مرد کا عورت سے موازنہ کرنے کا مقصد اس کی مردانگی کو ٹھیس پہنچانا ہوتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہTwitter/@search_geek
صحافی محمل سرفراز نے اس معاملے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلاول کا انداز اپنی والدہ سے بہت زیادہ ملتا ہے اس کے علاوہ وہ اپنے نانا ذوالفقار بھٹو سے بھی بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے بلاول کے مخالفین ان سے خوف محسوس کرتے ہیں اور انھیں اس قسم کی تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔
ان کے مطابق عمران خان نے جان بوجھ کر بلاول کو ’صاحبہ‘ کہا کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی مرد کو عورت کہنا اس کی بے عزتی ہے۔
محمل کہتی ہیں کہ ہمارے معاشرے میں عورت کو مرد سے کم سمجھا جاتا ہے۔
’ہمارے معاشرے میں یہ بات طے کی جاتی ہے کہ مرد کیا کر سکتا ہیں اور عورت کیا کر سکتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ کہتی ہیں ’ہمارے ذہن میں یہ بات بٹھائی جاتی ہے کہ مرد اس رنگ کے کپڑے پہن سکتا ہے اور اس رنگ کے کپڑے نہیں پہن سکتا، لڑکی گڑیا سے کھیل سکتی ہے، لیکن لڑکا گڑیا سے نہیں کھیل سکتا اور جب خواتین معاشرے میں آگے آتی ہیں تو انھیں کہا جاتا ہے کہ تم مرد مت بنو۔‘
محمل کہتی ہیں کہ اس قسم کے رویے کو تبدیل کرنے کے لیے ہمیں اپنے گھروں سے ابتدا کرنا ہو گی اور بیٹے اور بیٹی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہو گا۔ وہ سمجھتی ہیں کہ حکومت کو میڈیا اور سوشل میڈیا پر باقاعدہ مہم شروع کرنے کی بھی ضرورت ہے لوگوں میں آگاہی پیدا کی جائے کہ مرد اور عورت برابر ہیں۔
ہم نے اس معاملے پر ماہر نفسیات ڈاکٹر ذوالفقار گیلانی سے بات کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ ہمارے معاشرے میں مردوں کو خواتین سے تشبیہ دینے اور ان کا مذاق اڑانے کے پیچھے آخر کیا سوچ کار فرما ہے۔
ڈاکٹر ذوالفقار نے بتایا: ’یہ ہمارے کلچر کا مسئلہ ہے کہ ہمیں جب کسی کی کوئی بات اچھی نہیں لگتی تو ہم اس کو برا بھلا کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ ایسا ہے، یا ویسا ہے وغیرہ۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انھوں نے کہا کہ کسی مرد کو عورت سے ملا کر بظاہر تو لگتا ہے کہ ہم اس مرد کو برا بھلا کہہ رہے ہیں لیکن دراصل ہم اس سے بھی عورت کو ہی برا بھلا کہتے ہیں کیونکہ ہمارے معاشرے میں عورت سے نفرت کا عنصر بہت زیادہ پایا جاتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ہمارے معاشرے میں مردانگی کو اعلیٰ تر سمجھا جاتا ہے اور جب کسی مرد کی مردانگی کو چیلنج کیا جاتا ہے تو اسے کم تر محسوس کرایا جاتا ہے جس سے لڑکوں اور لڑکیوں کی خود اعتمادی کو نقصان پہنچایا جاتا ہے۔
ڈاکٹر ذوالفقار کے مطابق بدقسمتی سے ہم نے یہ طے کر رکھا ہے کہ مرد اس طرح سے بولتے ہیں یا ان کی باڈی لینگوئج کیسی ہوتی ہے اور خواتین کی کیسی ہوتی ہے جس کی وجہ ہمارے معاشرے میں اس قسم کے رویے پائے جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایسے رویے کو تبدیل کرنے کے لیے انفرادی اور اجتمعاعی بنیادوں پر آگاہی کی ضرورت ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کے لیے حکومتی سطح پر مہم سازی اور تعلیمی اداروں میں اس حوالے سے معلومات نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔
انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کا ذاتی مشاہدہ ہے کہ اب پاکستان کے نوجوان طبقے میں کافی بہتری آ رہی ہے اور اس قسم کے تضحیک آمیز رویوں میں کمی آ رہی ہے۔










