’لاپتہ افراد کے 10 برس سے جاری احتجاجی کیمپ کی اجازت لیں ورنہ غیر قانونی تصور ہو گا‘

- مصنف, محمد کاظم
- عہدہ, بی بی سی، اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دفعہ 144 کا نفاذ تو کوئی نئی بات نہیں لیکن اس مرتبہ اس کی لپیٹ میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے دس برس سے قائم احتجاجی کیمپ بھی آ گیا ہے۔
کوئٹہ پولیس کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ کو ایک نوٹس جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ کیمپ لگانے کے لیے ڈسٹرکٹ مجسڑیٹ سے این او سی کا حصول لازمی ہے۔
بلوچستان سے لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا یہ کیمپ کوئٹہ پریس کلب کے قریب قائم ہے جس کا شمار حالیہ انسانی تاریخ کے طویل ترین احتجاجی کیمپوں میں ہوتا ہے۔
مزید پڑھیے
اس کیمپ میں مستقل علامتی بھوک ہڑتال پر بیٹھنے والے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ کو یہ نوٹس ایس ایچ او سول لائنز کی جانب سے دیا گیا ہے۔
نوٹس کے متن کے مطابق ’آپ نے عدالت روڈ پر پریس کلب کے سامنے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی کیمپ لگایا ہوا ہے جس میں دن بھر احتجاجی لوگوں کا ہجوم رہتا ہے۔‘
نوٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اب ضلعی انتظامیہ کی جانب سے دفعہ 144 نافذ کی گئی ہے جس کے تحت ہر قسم کے ہجوم، جلسے جلوس ،ریلی اور سڑک بند کرنے پر سخت قسم کی پابندی عائد کی گئی ہے۔
مظاہرین سے کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات کے پیش نظر وہ نہ تو کسی قسم کی کوئی ریلی نکال سکتے ہیں، نہ سڑک بند کر سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی جلسہ جلوس کر سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ اس کیمپ کی مناسبت سے این او سی حاصل کیا جائے ورنہ یہ کیمپ غیر قانونی تصور کیا جائے گا اور خلاف ورزی کرنے کی صورت میں سخت سے سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔
اس طرح کے نوٹس پریس کلب کے باہر لگے چار دیگر احتجاجی کیمپوں کے منتظمین کو بھی دیے گئے ہیں جن میں بےروزگار انجینیئر، تین نئے میڈیکل کالجوں میں داخلے کے منتظر طلبا اور بےروزگار فارماسسٹس کے کیمپ بھی شامل ہیں۔
بی بی سی کے رابطہ کرنے پر لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کی تنظیم کے وائس چیئر مین ماما قدیر بلوچ نے بتایا کہ نوٹس ملنے کے بعد وہ این او سی لینے کے لیے تنظیم کے چیئرمین نصراللہ بلوچ کے ہمراہ ڈپٹی کمشنر کے دفتر گئے اور درخواست دی۔

تاہم ماما قدیر کا دعویٰ تھا کہ نہ ڈپٹی کمشنر نے ان سے بات کی اور نہ ہی ان کی درخواست وصول کی گئی۔
ماما قدیر نے بتایا کہ یہ کیمپ گذشتہ دس سال سے قائم ہے جس کے دوران متعدد بار دفعہ 144 نافذ ہوئی لیکن ماضی میں کبھی بھی ان کو ایسا نوٹس نہیں ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں کا کیمپ ہے جس میں ہر روز لوگوں کی ایک بڑی تعداد آتی ہے۔
انھوں نے بتایا کہ لوگوں نے اپنے پیاروں کے لیے جتنے بھی احتجاج کیے وہ تمام کے تمام پرامن تھے۔ اسی طرح انہوں نے کوئٹہ سے کراچی اور کراچی سے اسلام آباد تک تین ہزار کلومیٹر جو طویل پیدل لانگ مارچ کیا وہ بھی انتہائی پر امن تھا۔
ماما قدیر نے کہا کہ ان کا کیمپ بھی پر امن ہے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر کو این او سی کے لیے اطلاع دی ہے ۔وہ این او سی دے یا نہ دے وہ اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے کی طرح آکر اپنے کیمپ میں بیٹھپں گے اور اگر انتظامیہ انہیں گرفتار کر کے لے جاتی ہے تو لے جائے اس کے لیے وہ ذہنی طور پر تیار ہیں۔











