آمنہ جنجوعہ: ’ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں لاپتہ افراد کے لیے ایک سیل قائم ہے‘

فوٹو

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنمیجر جنرل آصف غفور اور آمنہ جنجوعہ
    • مصنف, سحر بلوچ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

’میں نے پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف کو بے شمار خط لکھے ہیں۔ چودہ برسوں میں یہ پہلا خط ہے جس کے نتیجے میں مجھے ایک روز پہلے فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں بلایا گیا۔‘

یہ کہنا ہے سماجی کارکن آمنہ مسعود جنجوعہ کا جنہوں نے ایک روز پہلے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور سے ملاقات کی اور ساتھ میں جبری طور پر گمشدہ کیے گیے افراد کے بارے میں بھی بتایا۔

ان کا کہنا تھا کہ فوج کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے ان کو بتایا کہ فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹرز میں مسنگ پرسنز کے لیے باقاعدہ ایک سیل قائم کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیئے

،ویڈیو کیپشنلاپتہ افراد کے لواحقین کا احتجاجی کیمپ

آج اسی حوالے سے انھوں نے اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس بھی کی جس میں انھوں نے جبری طور پر گمشدہ کیے گیے افراد کے لواحقین کی طرف سے آئندہ کے لائحہ عمل پر بات کی۔

پریس کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ ’جتنے بھی جبری طور پر گمشدہ افراد کے لواحقین ہیں ان سے میری استدعا ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقے اور صوبے سے گمشدہ افراد کی فہرست ہمیں دیں تاکہ ہم اس کو آگے بڑھائیں۔ ہم کوئی تفریق نہیں کریں گے۔‘

پریس کانفرنس
،تصویر کا کیپشنآمنہ جنجوعہ نے کہا کہ لوگ انھیں گمشدہ افراد کی فہرست بھیجیں

ساتھ ہی ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور سے ملاقات کے بارے میں انھوں نے کہا کہ ’انھوں نے وعدہ کیا ہے کہ وہ میرے شوہر کے بارے میں معلومات فراہم کریں گے۔‘

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آمنہ مسعود جنجوعہ نے بتایا کہ انھوں نے رواں سال مئی میں ڈی جی آئی ایس پی آر کو خط بھی لکھا تھا۔

انکا کہنا تھا کہ ’اب تک جو بھی چیف آف آرمی سٹاف بنا ہے یا فوج میں نئے عہدے پر فائز ہوا ہے میں نے ان سب کو مبارکباد کے ایک خط کے ساتھ اپنے خاوند کے کیس کے بارے میں بھی بتایا ہے۔‘

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنبلوچستان اور سندھ کے صوبوں میں بھی ایک بڑی تعداد میں جبری طور پر لوگ گمشدہ کیے گیے ہیں

آمنہ مسعود جنجوعہ سنہ 2005 سے ملک میں جبری طور پر گمشدہ کیے گئے افراد کی بازیابی کے لیے اپنی تنظیم ڈیفینس آف ہیومن رائٹس کے تحت مہم چلا رہی ہیں۔ اس مہم کا محرک خود آمنہ کے شوہر مسعود جنجوعہ کی 14 برس قبل گمشدگی بنی تھی۔

یہ کئی سالوں میں شاید پہلی بار ہوا ہے کہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل نے جبری گمشدگیوں کے بارے میں کسی سماجی کارکن سے ملاقات کی ہو۔

اس سے پہلے انھوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھی جبری طور پر گمشدہ کیے گیے افراد کے حوالے سے لکھا تھا۔

جبری طور پر گمشدہ افراد کی ایک بہت بڑی تعداد کا تعلق پاکستان کے صوبے خیبر پحتونخواہ، بلوچستان اور سندھ سے ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

بلوچستان اور سندھ سے گمشدہ کیے گیے افراد کے لواحقین کبھی کراچی اور کبھی کوئٹہ کے پریس کلبوں کے باہر احتجاجی کیمپوں میں اپنے گھر والوں کی تصاویر لیے بیٹھے نظر آتے ہیں۔

حال ہی میں بلوچستان کے کچھ علاقوں سے آٹھ افراد اپنے گھر پہنچے ہیں۔ لوٹنے والے ان افراد کا تعلق خضدار، آواران، اور تُربت سے بتایا جا رہا ہے۔

آمنہ مسعود جنجوعہ نے کہا کہ ’یہ ایک بہت بڑی پیش رفت ہے۔اور مجھے اندازہ ہے کہ یونیورسل پیریوڈک ریویو میں پاکستان ملک میں انسانی حقوق کے حوالے سے اور بالخصوص جبری گمشدگیوں کے حوالے سے جوابدہ ہو گا‘۔

یونیورسل پیریوڈک ریویو اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق پر بنی ایک کونسل کا نام ہے جس میں 193 ممالک کے انسانی حقوق کے ریکارڈ کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ یہ ریویو اب 2021 میں کیا جائے گا۔

آمنہ مسعود جنجوعہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی ملاقات کو پچھلے ماہ ہونے والے ایک اور واقعے سے جوڑا جا رہا ہے۔

پچھلے ماہ جبری طور پر گمشدہ ہونے والے افراد کی بازیابی کے لیے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر نے پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کو ایک خط لکھا تھا۔ خط میں ہائی کمشنر نے پاکستانی وزیرِ خارجہ کو پاکستان میں بڑھتی ہوئی جبری گمشدگیوں کے مسئلے کو حل کرنے کو کہا اور ساتھ یاد دہانی بھی کرائی کہ پہلے بھی ان معاملات کو حل کرنے کے لیے پاکستان کو کہا جاتا رہا ہے۔