سی ٹی ڈی نے جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو گرفتار کر لیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے محکمۂ انسدادِ دہشتگردی نے کالعدم تنظیم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو گرفتار کر لیا ہے۔
جماعت الدعوۃ کے ترجمان کے مطابق انھیں بدھ کے روز لاہور سے گوجرانوالہ جاتے ہوئے حراست میں لیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کے شہزاد ملک کو بتایا کہ حافظ سعید کو کامونکی ٹول پلازہ کے قریب سے گرفتار کیا گیا اور اب اُنھیں کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔
سی ٹی ڈی پنجاب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انھیں گوجرانوالہ میں محکمۂ انسدادِ دہشت گردی میں درج مقدمے میں گرفتاری کے بعد جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجا گیا ہے۔
ترجمان کے مطابق حافظ سعید اس مقدمے میں ہی ضمانت قبل از گرفتاری کے لیے گوجرانوالہ جا رہے تھے کہ راستے میں گرفتار کر لیے گئے۔
حافظ سعید پر دہشت گردوں کی مدد کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے الزامات ہیں اور جماعت الدعوۃ کے سربراہ اور ان کے ساتھیوں سمیت لشکرِ طیبہ اور جماعت الدعوۃ کی ذیلی تنظیم فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے 13 رہنماؤں کے خلاف رواں ماہ کی تین تاریخ کو 23 مقدمات درج کیے گئے تھے۔
سی ٹی ڈی حکام کا کہنا تھا کہ ان تنظیموں کے خلاف تحقیقات کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔
حافظ سعید کی گرفتاری اس دن عمل میں آئی ہے جب ہیگ میں عالمی عدالتِ انصاف مبینہ انڈین جاسوس کلبھوشن جادھو کے مقدمے کا فیصلہ سنانے والی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے
جماعت الدعوۃ کے ترجمان احمد ندیم نے بی بی سی کو بتایا کہ حافظ سعید نے لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے لاہور میں درج ہونے والے مقدمات میں تین اگست تک ضمانت قبل از گرفتاری کروا رکھی تھی۔
احمد ندیم کے مطابق حکومت کی طرف سے ان کی جماعت کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں بھی ایک پٹیشن دائر کی گئی تھی جس پر سی ٹی ڈی کے محکمے کو 30 جولائی کو جواب جمع کروانے کے بارے میں حکم دیا گیا تھا۔
جماعت الدعوۃ کو پاکستانی حکام نے رواں برس مارچ میں ہی کالعدم قرار دیا تھا جبکہ ماضی میں اس جماعت اور اس کے سربراہ حافظ سعید کے حوالے سے عالمی سطح پر پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ 'ان کے خلاف پاکستان کی عدالتوں میں کوئی مقدمات نہیں یا ان کے دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت موجود نہیں ہیں۔'
حافظ سعید اور دیگر کے خلاف الزامات کیا ہیں؟
پنجاب کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جماعت الدعوۃ، لشکرِ طیبہ اور فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن کے معاملات میں بڑے پیمانے پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق 'ان تنظیموں نے دہشت گردی کے لیے اکٹھے کیے جانے والے فنڈز سے اثاثے بنائے اور پھر ان اثاثوں کو استعمال کرتے ہوئے دہشت گردی کے لیے مزید فنڈز جمع کیے۔'
سی ٹی ڈی کا مؤقف تھا کہ ان تنظیموں نے یہ اثاثہ جات مختلف غیر سرکاری تنظیموں یا فلاحی اداروں کے نام سے بنائے اور چلائے۔ ایسے فلاحی اداروں میں دعوت الارشاد ٹرسٹ، معاذ بن جبل ٹرسٹ، الانفال ٹرسٹ، الحمد ٹرسٹ اور المدینہ فاؤنڈیشن ٹرسٹ شامل ہیں۔
محکمہ انسدادِ دہشتگردی کے مطابق حافظ سعید اور دیگر 12 افراد 'انسدادِ دہشت گردی کے قانون 1997 کے تحت دہشت گردی کے لیے پیسے جمع کرنے اور منی لانڈرنگ کے مرتکب ٹھہرے ہیں اور ان کے خلاف انسدادِ دہشتگردی کی عدالت میں مقدمات چلائے جائیں گے۔'
سنہ 2014 میں امریکہ نے جماعت الدعوۃ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرتے ہوئے مالیاتی پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکی حکام کی جانب سے حافظ سعید کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر ایک کروڑ ڈالر کے انعام کی پیش کش بھی کی گئی تھی۔
اس کے بعد پاکستان کے دفترِ خارجہ نے جنوری 2015 میں اعلان کیا تھا کہ جماعت الدعوۃ سمیت ان تمام دہشت گرد تنظیموں کے اثاثوں کو منجمد کیا جا چکا ہے جن پر اقوامِ متحدہ نے پابندی لگائی ہوئی ہے۔
حافظ سعید کے خلاف ماضی میں ہونے والی کارروائیاں
حافظ سعید کو ماضی میں بھی کئی مرتبہ مختلف دورانیوں کے لیے ان کے گھر پر نظربند کیا گیا ہے۔
سنہ 2017 میں 31 جنوری کو انھیں لاہور کے جوہر ٹاؤن میں واقع ان کے گھر میں خدشہ نقصِ امن کے تحت نظربند کیا گیا تھا۔
مبصرین کے مطابق پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور میں یہ کارروائی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی جانب سے بلیک لسٹ ہونے سے بچنے کے لیے کی گئی تھی۔
انھیں 10 ماہ کے بعد نومبر 2017 میں اس وقت رہا کیا گیا تھا جب لاہور ہائی کورٹ نے ان کی نظر بندی میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
اس سے قبل انھیں نومبر 2008 میں ہونے والے ممبئی حملوں کے بعد بھی دسمبر 2008 میں بھی نظربند کیا گیا تھا جب کہ ان کی جماعت کے دفاتر سربمہر کر دیے گئے تھے۔ انڈیا نے ان حملوں کے لیے حافظ سعید اور ان کی جماعت کو ہی ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔
تاہم اس وقت حکام کی جانب سے ان کارروائیوں کی بنیاد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ان کی تنظیم پر عائد کی گئی پابندی کو قرار دیا گیا تھا۔
حافظ سعید اس سے پہلے سنہ 2006 میں بھی نظربند رہے ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بھی حافظ سعید کی جماعت الدعوۃ کو نہ صرف کالعدم تنظیموں میں شامل کیا بلکہ فلاح انسانیت کو بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کے زیر انتظام چلنے والی ایمبولنس گاڑیوں اور ڈسپنسریوں کو بھی بند کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستانی حکومت کی طرف سے دہشت گردی تنظیموں کے خلاف موثر کارروائی کرنے اور ان کی فنڈنگ روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر مکمل اطمینان ظاہر نہیں کیا اور اس سال اکتوبر تک موثر اقدامات کرنے کا وقت دیا ہے۔











