پنجاب پولیس: ’ضرورت وردی بدلنے کی نہیں رویہ بدلنے کی ہے‘

- مصنف, شہزاد ملک
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام
پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں ایک مرتبہ پھر پولیس کی وردی میں تبدیلی کی خبریں گرم ہیں جسے عوام کی نظر میں پولیس کے محکمے کے تشخص میں بہتری لانے کی ایک اور کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
اب موجودہ زیتونی رنگ کی وردی کی جگہ مستقبل میں ایف آئی اے کے اہلکاروں کی وردی سے ملتی جلتی ہلکے نیلے رنگ کی قمیض اور گہرے نیلے رنگ کی پتلون لے لے گی۔
پنجاب پولیس کی موجودہ وردی بھی زیادہ پرانی نہیں اور دو برس قبل پاکستان مسلم لیگ نواز کے گذشتہ دورِ حکومت میں صوبے میں 60 برس سے زیادہ عرصے سے رائج خاکی پتلون اور سیاہ قمیض پر مشتمل یونیفارم کو زیتونی رنگ کی وردی سے تبدیل کر دیا گیا۔
یکم اپریل سنہ 2017 کو پنجاب پولیس کی وردی تبدیل کرنے کا مرحلہ وار آغاز ہوا تھا اور صوبے کے 36 اضلاع میں اس منصوبے پر عملدرآمد ایک سال میں مکمل ہوا۔
مزید پڑھیے
مقصد اس وقت بھی یہی تھا کہ عوام کی نظر میں پولیس کے تشخص کو بہتر بنایا جائے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اب عوام کے خیال میں پولیس کا تشخص کتنا بدلا اس بارے میں شہری محمد تنویر کا کہنا تھا کہ جب تک پولیس اہلکار خود قانون کا احترام نہیں کرتے اس وقت تک یونیفارم کے رنگ تبدیل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں پر اس محکمے کے اہلکار سنگین مقدمات میں ملوث رہے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اگر پولیس میں اتنا بگاڑ ہے تو پھر معاشرے میں اس محکمے کے تشخص کو بہتر بنانے کے لیے وردی کا رنگ تبدیل کرنے کی کوشش بےسود ہو گی۔

ادھر لاہور کے رہائشی محمد ذیشان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس کی کالی قمیض اور خاکی پتلون والی وردی میں ایک رعب و دبدبہ تھا اور جرائم پیشہ عناصر پر بھی اسی وردی کا خوف تھا۔
اُنھوں نے کہا کہ پنجاب پولیس کے حکام کی طرف سے وردی کا رنگ تبدیل کرنے سے اب جرائم پیشہ عناصر کے ذہنوں سے پولیس کا خوف آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔
پنجاب پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ پولیس کو عوام دوست بنانے کے لیے یونیفارم کا رنگ تبدیل کیا گیا۔
تاہم لاہور اور فیصل آباد میں مزدوروں یا خواتین کے احتجاجی ریلیوں کو ختم کرنے کا معاملہ ہو یا پھر ساہیوال میں مبینہ دہشت گردوں کی آڑ میں خواتین سمیت پانچ افراد کی ہلاکت کا واقعہ، پولیس کی عوام دوستی کہیں دکھائی نہیں دیتی۔
پنجاب پولیس کے سابق سربراہ امجد جاوید سلیمی اس بات سے اتفاق نہیں کرتے اور ان کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں پنجاب پولیس کے اہلکاروں کی مجموعی تعداد کا دس سے پندرہ فیصد حصہ اندرون اور بیرون ممالک تربیت حاصل کر رہے تھے تاکہ ان کی استعداد کار کو بڑھایا جا سکے۔
اُنھوں نے کہا کہ پنجاب بھر کے تھانوں کے ایس ایچ او صاحبان کے کمرے میں کلوز سرکٹ کیمرے لگائے گئے تاکہ پولیس افسران کے عوام کے ساتھ رویے کی نگرانی کی جا سکے۔

امن وامان کی صورت حال پر نظر رکھنے والے لاہور کے کرائم رپورٹر احمد فراز کے مطابق پنجاب پولیس میں سخت مزاج پولیس افسروں کی موجودگی بھی پنجاب پولیس کو عوام دوست پولیس نہیں بنا سکی۔
ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے محکمے میں بگاڑ اس قدر زیادہ ہے کہ صرف وردیوں کے رنگ تبدیل کرنے سے پنجاب پولیس کا رویہ ٹھیک نہیں ہو سکتا۔
انھوں نے کہا کہ ’جہاں پولیس درخواست گزار کو گاہک سمجھنا شروع کر دے تو وہاں بہتری کے آثار کم اور بگاڑ کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔‘
پنجاب پولیس کے سربراہ عارف نواز نے صوبے بھر کے 710 تھانوں کے حوالات میں سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کے احکامات جاری کیے ہیں تاکہ دوران حراست ملزمان کی ہلاکتوں کے واقعات کو روکا جا سکے۔
سینئر صحافی شکیل انجم کہتے ہیں کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی بجائے ان مبینہ خفیہ سیلز کو ختم کرنے کی ضرورت ہے جہاں پر پولیس افسران ملزموں کو تفتیش کے لیے لے جاتے ہیں اور یہ معاملہ پولیس کے اعلیٰ افسران کے نوٹس میں بھی ہے۔
اُنھوں نے کہا کہ اگر پنجاب پولیس کے سربراہ یہ بھی نہیں کرسکتے تو کم از کم ایسے پولیس اہلکاروں کے ضمیر کو بیدار کرنے کی ہی کوشش کریں اور ایسا کرنے سے قومی خزانے پر کوئی بوجھ بھی نہیں۔










