سکیورٹی خدشات کے باعث قبائلی اضلاع میں انتخابات ملتوی کرنے کی درخواست

سابق قبائلی علاقہ جات کے عوام

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنضم شدہ اضلاع میں انتخابات کے انعقاد کی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں
    • مصنف, رفعت اللہ اورکزئی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کی حکومت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو ایک خط لکھا ہے جس میں سکیورٹی خدشات کے باعث قبائلی اضلاع میں دو جولائی کو ہونے والے انتخابات 20 دنوں تک ملتوی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے تاحال انہیں ایسی کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے، تاہم خیبر پختونحوا کی حکومت کے ترجمان اور صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے ضم شدہ اضلاع میں انتخابات ملتوی کرانے کے ضمن میں الیکشن کمیشن کو لکھے جانے والے خط کی تصدیق کی ہے۔

محکمۂ داخلہ و قبائلی امور خیبر پختونخوا کی طرف سے تین جون کو لکھے گئے اس خط میں کہا گیا ہے کہ نئے ضم شدہ اضلاع میں انتخابات کو سبوتاژ کرنے کے خطرات موجود ہیں اور سرحد پار افغانستان سے بھی دہشتگردی کی کارروائیوں کو رد نہیں کیا جاسکتا، لہذا ایسی صورتحال میں ضم شدہ اضلاع میں پرامن انتخابات ممکن نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

خط میں انتخابات ملتوی کرانے کی درخواست کی پانچ وجوہات بتائی گئی ہیں۔ ان میں سرحد پار سے دہشت گردی کے خطرات، سیاسی رہنماؤں کو ممکنہ طورپر حملوں میں نشانہ بنانا، شمالی وزیرستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ، ضم شدہ اضلاع کی لیوی فورس کا غیر تربیت یافتہ ہونا اور ان کی کمانڈ ڈپٹی کمشنرز سے ضلعی پولیس افسروں کو دینے کے عمل کے ساتھ ساتھ انضمام کے عمل میں پیچیدگیاں شامل ہیں۔

خط

،تصویر کا ذریعہKPK Govt

خط میں درخواست کی گئی ہے کہ مذکورہ وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے ضم شدہ اضلاع میں انتخابات کو فوری طور پر 20 دنوں کے لیے ملتوی کیا جائے تا کہ وہاں پرامن انتخابات کے انعقاد کے لیے فُول پروف انتظامات کیے جا سکیں۔

دریں اثناء صوبائی وزیر اطلاعات شوکت علی یوسفزئی نے ذرائع ابلاغ کو جاری کردہ ایک وڈیو پیغام میں کہا ہے کہ چونکہ شمالی وزیرستان میں عمومی طورپر آپریشن کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے، لہذ ایسے حالات میں ان علاقوں میں پرامن انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے۔

تاہم دوسری طرف پشاور میں صوبائی الیکشن کمیشن کے ترجمان سہیل خان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے لکھا گیا خط تاحال انہیں موصول نہیں ہوا ہے۔ ترجمان کا کہنا تہا کہ اس بارے میں الیکشن کمیشن قانون کے مطابق فیصلہ کرے گا۔

یاد رہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے الیکشن کمیشن کو خط ایسے وقت لکھا گیا ہے جب ضم شدہ اضلاع میں انتخابات کے انعقاد کی تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی طرف سے امیدواروں کو ٹکٹ بھی جاری کردیے گئے ہیں۔

علی وزیر اور محسن

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنپشتون تحفظ موومنٹ کا ترمیمی بِل قومی اسمبلی بھاری اکثریت سے منظور کر چکی ہے

قبائلی علاقوں پر نظر رکھنے والے سینیئر صحافی اور اینکر پرسن سلیم صحافی کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کی طرف سے جو خط لکھا گیا ہے اس میں سکیورٹی خدشات بڑی وجہ قرار دی گئی ہے حالانکہ زمینی حقائق اس سے بالکل مختلف نظر آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ 2013 اور2018 کے عام انتخابات جن بدترین حالات میں ہوئے ان سے موجود حالات سو درجے بہتر ہیں اور پھر اس کی کیا گارنٹی ہے کہ بیس دنوں کے بعد وہاں حالات یکدم بہتر ہوجائیں گے۔

سلیم صافی کے بقول شمالی وزیرستان کے علاوہ باقی کسی قبائلی ضلع میں ایسے حالات نہیں ہیں کہ وہاں الیکشن ملتوی کرنے کا کوئی جواز بن سکے لیکن اس کے باوجود التواء کی درخواست تمام علاقوں کے لیے دی گئی ہے۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ضم شدہ اضلاع میں حکمران جماعت کی پوزیشن بہتر نہیں ہے، اس وجہ سے سکیورٹی خدشات کا شوشا چھوڑا جارہا ہے۔

یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 25ویں آئینی ترمیم کے بعد ضم ہونے والے قبائلی اضلاع میں پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی کے انتخابات دو جولائی کو منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا۔ الیکشن کمیشن کے اعلان کے مطابق یہ انتخابات سات قبائلی اضلاع اور ایف آر ریجن سے صوبائی اسمبلی کی 16 نشستوں پر منعقد ہونا تھے۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ پشتون تحفظ موومنٹ کے رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ کی طرف سے ضم شدہ اضلاع کے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کے لیے ایک آئینی ترمیمی بل قومی اسمبلی سے بھاری اکثریت سے منظور ہونے کے بعد مزید کارروائی کےلیے ایوان بالا بھیج دیا گیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بل ایوان بالا سے منظورہو جاتا ہے تو اس صورت میں ضم شدہ اضلاع میں نئے سرے سے حلقہ بندیاں کی جائیں گی اور ایسی صورت میں وہاں صوبائی اسمبلی کے انتخابات مزید تاخیر کا شکار ہو سکتے ہیں۔ تاہم ابھی تک یہ بل ایوان بالا میں ایجنڈے پر نہیں آیا ہے۔