#PakistanAt100: عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق سیکڑوں پاکستانی بچے ’سٹنٹنگ‘ کی زد میں

،ویڈیو کیپشنعالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سٹنٹنگ کا شکار بچوں کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے
    • مصنف, ریاض سہیل
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ٹھٹہ

حاکم زادی سومرو کے ہاں چند روز قبل ہی بیٹے کی ولادت ہوئی ہے اس سے قبل ان کی چار بیٹیاں ہیں جن سب کی پیدائش گھر میں ہوئی ہے لیکن بیٹے کی پیدائش کے لیے انھیں حیدرآباد جانا پڑا کیونکہ بچہ کمزور تھا۔

ٹھٹہ سے چالیس کلومیٹر دور وہ علی محمد سومرو گاؤں میں رہتی ہیں۔ جس کے ایک طرف پہاڑ تو دوسری جانب کینجھر جھیل ہے، ان کے شوہر پہاڑ پر پتھر توڑنے کا کام کرتے ہیں جس سے انھیں یومیہ 400 روپے اجرت ملتی ہے۔

حاکم زادی کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نے بتایا تھا کہ اُن میں خون کی کمی ہے اس لیے بچہ کمزور پیدا ہو گا، انھیں کسی بڑے ہسپتال لے جائیں جس کے بعد وہ سول ہسپتال حیدرآباد گئیں تھی۔ ڈاکٹر نے زچگی سے قبل حاکم زادی کو سفید خون کی چار بوتل لگانے کا کہا لیکن ان کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے اس لیے وہ صرف دو ہی لگوا پائیں۔

سٹنٹنگ

مزید پڑھیے

حاکم زادی کا گھر مٹی سے بنے ہوئے کمرے اور چھپر پر مشتمل ہے، ان کے ہاتھ میں ابھی تک کینولا لگا ہوا ہے، ڈاکٹر نے انھیں بچے کو ہسپتال لے جانے کے لیے کہا تھا لیکن وہ کچھ پیسے جوڑنے کے بعد جائیں گی۔

سٹنٹنگ

حاکم زادی کے گھر سے دور مکلی میں قومی شاہراہ پر ضلعی ہسپتال ٹھٹہ میں نیوٹریشن بحالی سینٹر موجود ہے، جہاں پانچ سال سے کم عمر کے غدائی قلت کا شکار بچوں کو داخل کیا جاتا ہے۔ آجکل ہر ماہ تقریبا 70 ایسے بچے لائے جاتے ہیں جبکہ 2013 میں یہ تعداد تقریباً نصف تھی۔ حکومت نے غیرسرکاری ادارے میڈیکل ایمرجنسی، ریزیلینس فاؤنڈیشن کو اس ہسپتال کا انتظام دیا ہے۔

مسمات زلیخاں دو بچوں کے ہمراہ نیوٹریشن بحالی سینٹر میں آئیں تھیں جن میں ایک ڈیڑہ سال کا تو دوسرا تین سال کا تھا لیکن وزن اور جسامت میں دونوں ایک جتنے ہی تھے، ڈاکٹر سعدیہ عمثان نے بچوں کے معائنے کے بعد بتایا کہ تین سال کی عمر میں اس بچے کا وزن کم از کم بارہ سے پندرہ کلو ہونا چاہیے لیکن اس کا وزن ساڑھے پانچ کلو بھی نہیں ہے۔

’اگر کوئی بچہ غذائی قلت میں جارہا ہے اور یہ دورانیہ طویل ہوجاتا ہے وہ سٹنٹنگ میں چلا جاتا ہے، پہلے وہ سکڑتا ہے اس کے بعد اس کے پٹھے کمزور ہوجاتے ہیں اور اس کا قد بھی کم ہونا شروع ہوجاتا ہے ۔اس صورتحال میں اس کی صحتمند زندگی چلی جاتی ہے۔ وہ جی تو رہا ہے لیکن زندگی کے بغیر۔ اس کی زندگی نامکمل ہے وہ مسکراتا ہے اور نہ ہی عام بچوں کی طرح کھیل کھود سکتا ہے۔‘

سٹنٹنگ

زلیخاں کے نو بچے ہیں جبکہ دو انتقال کر گئے۔ ان میں سب سے بڑے بچے کی عمر اٹھارہ سال ہے جبکہ چھوٹا ڈیڑھ سال کا ہے، ان کا شوہر مزدوری کرتا تھا لیکن کمر میں درد کی شکایت کی وجہ سے اب کبھی کبھار کام پر جاتا ہے۔ ان کا بڑا بیٹا مزدوری کرتا ہے جس سے گیارہ افراد پر مشتمل خاندان کی کفالت ہوتی ہے۔

زلیخاں کا کہنا ہے کہ کبھی لسی تو کبھی چٹنی سے روٹی کھاتے ہیں زیادہ سے زیادہ سبزی یا دال بنالیتے ہیں گوشت یا مچھلی ان کی دسترس میں نہیں۔ ’میرا دودھ دو ڈھائی ماہ تک رہتا ہے جس کے بعد سوکھ جاتا ہے۔‘ اس لیے دونوں چھوٹے بچے کمزور ہیں۔

عالمی بینک نے ’پاکستان کے سو سال اور مستقبل کا خاکہ‘ کے عنوان سے رپورٹ میں حکومت پاکستان کو انسانی زندگیوں میں سرمایہ کاری کا مشورہ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اسٹنٹ بچوں ( اپنی عمر سے کم وزن اور قد والے بچوں) کی شرح کم ہوئی ہے جو اس وقت 38 فیصد ہے لیکن اس کے باوجود یہ دنیا میں اسٹنٹ بچوں کی سب سے زیادہ شرح ہے۔

’سٹنٹنگ سے لوگوں کی قابلیتوں پر ناقابل تلافی اثرات مرتب ہوتے ہیں، آج کی سٹنٹنگ پاکستان کے مستقبل کی افرادی قوت کو کئی دہایوں تک متاثر کرے گی۔‘

سٹنٹنگ

عالمی بینک کے شعبے ہیومن ڈولپمنٹ پروگرام کی اہلکار کرسٹینا سینتوس کا کہنا ہے کہ سٹنٹنگ صرف صحت اور نیوٹرشن کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ معاشی مسئلہ بھی ہے۔ کیونکہ اس کا تعلق پیداوار سے ہے۔ اگر کوئی بچہ اسٹنٹ ہے تو اس کے لیے سیکھنا، قابلیتوں کو قبول کرنا اور ایک ایسے ماحول میں نشونما پانا مشکل ہوجاتا ہے جہاں محدود ملازمتیں اور مواقع دستیاب ہوں۔

اس کے معاشی اثرات مرتب ہوتے ہیں پاکستان میں اس کے منفی اثرات کا تخمینہ جی ڈی پی کا دو سے تین فیصد ہے یعنی ہم پیداوار کا ایک بڑا حصہ گنوا رہے ہیں۔

عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا ہے کہ پاکستان جلد 72 سال کا ہوجائے گا۔ مستقبل کو مد نظر رکھتے ہوئے اسے کچھ اہم فیصلے لینا ہوں گے تاکہ پائیدار ترقی میں تیزی لاتے ہوئے وہ 2047 تک اپر مڈل کلاس ملک بن سکے، جیسے کوریا، ملائشیا اور چین کی معیشت کایہ پلٹ چکی ہے۔

اگر پاکستان میں ایسا کرنا ہے تو اسے انسانوں میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی، جیسے نیوٹریشن، تعلیم، ملازمتوں اور ہنرمندانہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا۔ ان سب میں نیوٹریشن سب سے اہم ہے۔

ضلع ٹھٹہ کی آبادی تقریبا دس لاکھ ہے، صرف ضلعی ہپستال میں ہر مہینے 550 زچگیاں ہوتیں ہیں جبکہ شہروں اور قصبوں میں کئی نجی میٹرنٹی ہوم ہیں۔ ضلعی ہسپتال میں شعبہ زچگی کی سربراہ ڈاکٹر شبانہ عباسی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس 14 سے 45 سال کی عمر کی خواتین زچگی کے لیے آتی ہیں، عام طور پر خواتین کے پانچ سے چھ بچے ہوتے ہیں جبکہ تین سے چار بچے ضائع بھی ہوچکے ہوتے ہیں۔ مسلسل زچگیوں کے باعث ان میں خون کم ہوجاتا ہے اور خوراک بھی ٹھیک نہیں ہوتی اس حد تک کہ کوئی لڑکی بیس پچیس کی بھی ہو تو وہ چالیس سال کی لگتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

عالمی بینک کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ماں اور بچے کی صحت، بچوں کی بہتر تعلیم اور خواتین کی شرکت مستقبل میں خوشحالی اور پائیدار ترقی کی طرف لے جائے گی۔

سٹنٹنگ

ڈاکٹر سعدیہ عثمان کہتی ہیں غذائی قلت کوئی ایسی بیماری نہیں جس کی ایک دو ہی وجوہات ہو اس کے کئی اسباب ہیں جن میں ایک غربت ہے، ماں کی کم خوراک اور بار بار زچگی، درست امیونائزئشن کا نہ ہونا، صفائی ستھرائی کی عدم دستیابی اور بیماریاں یہ ساری چیزیں مل کر غذائی قلت کی ایک تصویر پیش کرتے ہیں۔

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے عوام سے اپنے پہلے خطاب میں سٹنٹنگ کا واضح ذکر کیا اور اسے اپنی اولین ترجیحات میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا، تاہم موجودہ حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آئی۔