زچہ کی صحت کے لیے امریکہ بدترین امیر ملک

سیو دا چلڈرن نے اپنی رپورٹ میں ماؤں کی صحت، بچپن کی شرح اموات، تعلیم، معیشت اور حکومتی معاملات میں خواتین کی شرکت کے بارے میں ڈیٹا کا استعمال کیا ہے

،تصویر کا ذریعہThinkstock

،تصویر کا کیپشنسیو دا چلڈرن نے اپنی رپورٹ میں ماؤں کی صحت، بچپن کی شرح اموات، تعلیم، معیشت اور حکومتی معاملات میں خواتین کی شرکت کے بارے میں ڈیٹا کا استعمال کیا ہے

بچوں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی تنظیم سیو دا چلڈرن کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا کے دیگر امیر ممالک کے مقابلے میں امریکہ میں خواتین کا بچے کی پیدائش کے دوران مرنے کا زیادہ امکان ہے۔

سیو دا چلڈرن کی ’دنیا میں ماؤں کی حالتِ زار 2015 ‘ کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ایک امریکی خاتون کا حمل یا زچگی کے دوران مرنے کا امکان آسٹریا، پولینڈ یا بیلاروس کی خواتین کے مقابلے میں دس فیصد زیادہ ہے۔

آرگنائزیشن فار اکنامک کارپوریشن اینڈ ڈیویلپمنٹ (او ای سی ڈی) کے مطابق دنیا کے امیر ترین ممالک میں امریکہ کا چوتھا نمبر ہے تاہم سیو دا چلڈرن کی رپورٹ میں اس کا نمبر مجموعی طور پر 33 ویں نمبر پر ہے جو گذشتہ سال کے مقابلے میں دو درجے نیچے ہے۔

سیو دا چلڈرن نے اپنی رپورٹ میں ماؤں کی صحت، بچپن میں شرح اموات، تعلیم، معیشت اور حکومتی معاملات میں خواتین کی شرکت کے بارے میں ڈیٹا کا استعمال کیا ہے۔

بد ترین دارالحکومت

واشنگٹن ڈی سی کا شمار دنیا کے 25 امیر ترین ممالک کے دارالحکومتوں میں سے ایک میں ہوتا ہے تاہم وہاں سب سے زیادہ بچوں کی موت کا خطرہ ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنواشنگٹن ڈی سی کا شمار دنیا کے 25 امیر ترین ممالک کے دارالحکومتوں میں سے ایک میں ہوتا ہے تاہم وہاں سب سے زیادہ بچوں کی موت کا خطرہ ہے

واشنگٹن ڈی سی کا شمار دنیا کے 25 امیر ترین ممالک کے دارالحکومتوں میں سے ایک میں ہوتا ہے تاہم وہاں سب سے زیادہ بچوں کی موت کا خطرہ ہے۔

سیو دا چلڈرن کی رپورٹ کے مطابق ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں سنہ 2013 کے دوران 1,000 پیدا ہونے والے بچوں میں سے صرف 6.6 بچوں کی موت واقع ہوئی تاہم سٹاک ہوم اور ٹوکیو میں شرح اموات کے مقابلے میں یہ تعداد اب بھی تین گنا زیادہ ہے۔

بین الاقوامی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق امریکی دارالحکومت کے امیر ترین علاقوں کے مقابلے میں غریب ترین علاقوں میں رہنے والے بچوں کا اپنی پہلی سالگرہ سے پہلے مرنے کا امکان دس گنا زیادہ تھا۔

سیو دا چلڈرن نے آبادی میں تیزی سے اضافے کے طور پر دنیا کے بڑے شہروں میں امیر اور غریب کے درمیان صحت کی تقسیم پر زور دیا ہے۔

امیر اور غریب کے درمیان فرق

بین الاقوامی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کمپالا اور ادیس ابابا سمیت دیگر دارالحکومتوں میں ماں اور بچے کی شرح اموات کو کم کرنے کی کوششوں کی تعریف کی ہے

،تصویر کا ذریعہSave the Children

،تصویر کا کیپشنبین الاقوامی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کمپالا اور ادیس ابابا سمیت دیگر دارالحکومتوں میں ماں اور بچے کی شرح اموات کو کم کرنے کی کوششوں کی تعریف کی ہے

بین الاقوامی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں کمپالا اور ادیس ابابا سمیت دیگر دارالحکومتوں میں ماں اور بچے کی شرح اموات کو کم کرنے کی کوششوں کی تعریف کی ہے۔

زیادہ تر ممالک میں غریب شہری بچوں کا امیر بچوں کے مقابلے میں مرنےکا تین سے پانچ گنا زیادہ امکان پایا گیا۔

’شہری بچوں کی بقا کا یہ فرق‘ دیگر ممالک کے علاوہ، بنگلہ دیش، گھانا، بھارت، کینیا، نائجیریا، پیرو اور ویت نام میں خاص طور پر پایا گیا۔

سیو دا چلڈرن کی سی ای او یاسمین وائٹ بریڈ کا کہنا ہے کہ دنیا کے تیزی سے پھیلتے ہوئے شہروں میں پیدا ہونے والے بچوں کے لیے یہ ’امیروں کی بقا‘ ہے۔

بہترین اور بدترین

سیو دا چلڈرن کی رپورٹ کے مطابق بچوں کی کم شرح اموات کی درجہ بندی میں نورڈک ممالک کا غلبہ تھا اور پہلے پانچ ممالک میں ناروے، فِن لینڈ، آئس لینڈ، ڈنمارک اور سویڈن شامل ہیں۔

بین الاقوامی تنظیم کے مطابق اس درجہ بندی میں پہلے 30 میں سے 25 ملکوں کا تعلق یورپ سے ہے۔

سیو دا چلڈرن کے مطابق بچوں کی شرح اموات کے حوالے سے مالی، سینٹرل افریقہ رپبلک، ڈیموکریٹک رپبلک آف دی کانگو اور صومالیہ کا شمار بدترین ممالک میں ہوتا ہے۔