عمران خان: میں امن کے نوبیل انعام کا حقدار نہیں

عمران خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنوزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں واضح کر دیا کہ وہ خود کو اس انعام کا حقدار نہیں سمجھتے

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ امن کے نوبیل انعام کے حقدار نہیں بلکہ یہ انعام اس فرد کو ملنا چاہیے جو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کرے۔

پاکستانی وزیراعظم کو اس انعام کے لیے نامزد کرنے کی مہم پاکستانی سوشل میڈیا پر شروع ہوئی تھی جس کے بعد پاکستان کی قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں اس سلسلے میں ایک قرارداد بھی جمع کروائی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

یہ معاملہ جمعرات کو وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اس انڈین پائلٹ ابھینندن ورتھمان کی رہائی کے اعلان کے بعد شروع ہوا تھا جسے پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں طیارے کی تباہی کے بعد حراست میں لیا گیا تھا۔

عمران خان نے انڈین پائلٹ کی رہائی کو ’امن کا پیغام‘ قرار دیا تھا جس کے بعد ان کے حامیوں نے #NobelPeacePrizeForImranKhan کا ٹرینڈ شروع کر دیا تھا۔

یہ معاملہ صرف ٹوئٹر ٹرینڈ تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ ایک مداح نے انھیں نوبل انعام دلوانے کے لیے آن لائن پٹیشن بھی شروع کر دی جس پر اب تک لاکھوں افراد دستخط کر چکے ہیں۔

عمران خان کی ٹویٹ کا عکس

،تصویر کا ذریعہTwitter

جمعے کو اس سلسلے میں وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ میں ایک قرارداد بھی جمع کروائی گئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ ’وزیراعظم عمران خان نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان اس کشیدگی میں کمی کے لیے دانشورانہ کردار ادا کیا ہے، جو انڈیا کی جنگی جنون رکھنے والی قیادت کے باعث پیدا ہو گئی تھی۔ لہٰذا انھیں امن کا نوبل انعام دیا جائے۔‘

تاہم پیر کی صبح وزیراعظم عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں واضح کر دیا کہ وہ خود کو اس انعام کا حقدار نہیں سمجھتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’نوبیل انعام کا مستحق وہ شخص ہو گا جو کشمیری عوام کی امنگوں کی روشنی میں تنازعۂ کشمیر کا حل تلاش کرے گا اور برصغیر میں امن و انسانی ترقی کی راہ ہموار کرے گا۔‘

ملالہ یوسف زئی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنملالہ یوسف زئی کو سنہ 2014 میں نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا

یاد رہے ملالہ یوسفزئی وہ پہلی پاکستانی ہیں جنھیں بچیوں کی تعلیم کے لیے جدوجہد کرنے پر ’امن کا نوبل انعام‘ دیا گیا تھا۔ ملالہ کو دسمبر 2014 میں اس اعزاز سے نوازا گیا۔

اگرچہ پاکستان کے نام ہونے والا امن کا یہ پہلا نوبل انعام ضرور تھا مگر اس سے تین دہائیاں پہلے ایک اور پاکستانی، ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی 1979 میں فزکس میں تحقیق پر نوبل انعام ملا تھا۔

پاکستانی سوشل میڈیا صارفین، سماجی کارکن عبدالستار ایدھی کو نوبل انعام دلوانے کے لیے بھی متعدد بار ایسی ہی پٹیشنز شروع کر چکے ہیں، جن میں انہیں اب تک کوئی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔