باجوڑ میں انسداد پولیو مہم کے سات اہلکار ’غفلت برتنے‘ پر برطرف

پولیو

،تصویر کا ذریعہAnkit sSivas

،تصویر کا کیپشنسنہ 2014 میں فاٹا سے پولیو کے 179 کیس رپورٹ ہوئے تھے
    • مصنف, سید انور شاہ
    • عہدہ, صحافی

خیبر پختونخواہ کے ضلع باجوڑ میں حکام کا کہنا ہے کہ گذشتہ دنوں تین بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق کے بعد محکمہ انسداد پولیو کے سات افسران کو ملازمت سے فارغ کردیا گیا ہے۔

ضلع باجوڑ کے ڈپٹی کمشنر محمد عثمان محسود نے بی بی سی کو بتایا کہ برخاست کیے جانے والے افراد میں عالمی ادارہ صحت کے افسران اور محکمۂ صحت باجوڑ کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ڈپٹی کمشنر محمد عثمان محسود نے بتایا کہ ان اہلکاروں کو اپنی ذمہ داریوں میں غفلت برتنے پر نوکری سے نکالا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر کے بقول ان اہلکاروں نے پہلے یہ ظاہر کیا تھا کہ متاثرہ گھر میں صرف تین بچے ہیں، لیکن جب پولیو کے کیس سامنے آئے تو معلوم ہوا کہ مذکورہ گھر میں بچوں کی تعداد بارہ تھی۔ محمد عثمان محسود کا کہنا تھا کہ ملازمین کے خلاف کارروائی کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ’یہ لوگ علاقے میں گئے ہی نہیں تھے‘۔

پولیو

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنڈپٹی کشمنر کے بقول قطرے پلانے سے انکاری والدین کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی (fhYl fv,v)

انہوں نے کہا کہ باجوڑ گذشتہ چھ برسوں سے پولیو فری علاقہ رہا ہے اور کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا۔ ان کے مطابق باجوڑ میں حکومتی رٹ قائم ہے اور کہیں بھی کوئی ’نو گو ایریا‘ نہیں ہے جبکہ محکمہ صحت کو ضلعی انتظامیہ اور سکیورٹی اہلکاروں کی مدد بھی حاصل ہے۔

ڈپٹی کمشنر نے واضح کیا کہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکاری والدین کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

پولیو پروگرام کے لیے وزیراعظم کے معاون یا فوکل پرسن بابر عطا نے بھی ایک ٹویٹ میں سات اعلیٰ عہدیداروں کی برطرفی کی تصدیق کی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’کیونکہ کچھ افسران نے پولیو کے انکاری والدین کے متعلق تفصیلات ہم سے چھپائیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ باجوڑ کی ساری ٹیم ہی نااہل ہے۔‘

خیال رہے کہ اس سے پہلے بھی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور پشاور میں دو پولیو ٹیموں کو جعلی اعداد و شمار مرتب کرنے اور پولیو ویکسین ضائع کرتے ہوئے پکڑلیا گیا تھا جس کے بعد دونوں ٹیموں کے 29 افراد کو ملازمتوں سے برطرف کیا گیا تھا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

واضح رہے کہ پاکستان کے قبائلی اضلاع میں ماضی میں پاکستانی طالبان کی طرف سے پولیو کے قطرے پلانے والے اہلکاروں کو اور ان کی حفاظت پر مامور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے اور اب تک سینکڑوں ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

بتایا جاتا ہے کہ سنہ 2014 میں اس وقت کے فاٹا سے پولیو کے 179 کیس رپورٹ ہوئے تھے، تاہم سنہ 2015 میں 16 اور 2016 میں صرف دو واقعات رپورٹ ہوئے۔

اعداد وشمار کے مطابق 2014 میں پاکستان میں پولیو کے 306 واقعات ریکارڈ کیے گئے تھے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ تعداد کم ہو کر 2015 میں 35، 2016 میں 20، 2017 میں 8 جبکہ 2018 میں 3 ہو گئی اور یہ تینوں واقعات صوبہ بلوچستان کے ضلع دُکی میں سامنے آئے تھے۔