آصف زرداری کا نیویارک میں’اپارٹمنٹ‘، تحریک انصاف کا الیکشن کمیشن میں ریفرینس

آصف زرداری

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنالیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کا آصف علی زرداری کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرینس دائر کرنے کا فیصلہ آئین اور قانون سے مطابقت نہیں رکھتا

پاکستان تحریک انصاف نے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف علی زرداری کے خلاف الیکشن کمیشن میں نااہلی کا ریفرینس جمع کروا دیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ آصف زرداری کی کردار کشی کی آڑ میں عوام دشمن فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

آصف زرداری کی نیویارک میں جائیداد کا ذکر بدھ کو وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے ایک پریس کانفرنس میں کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ آصف زرداری کا نیویارک کے علاقے مین ہٹن ایک اپارٹمنٹ ہے جس کا انھوں نے اپنے انتخابی گوشواروں میں ذکر نہیں کیا۔

تحریکِ انصاف کی جانب سے یہ ریفرینس رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے سندھ الیکشن کمیشن میں جمع کروایا۔

اس بارے میں مزید پڑھیے

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ابتدائی طور پر صوبائی الیکشن کمشنر نے ریفرنس وصول کرنے سے انکار کیا اور کہا ہے کہ یہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا اور ریفرنس اسلام آباد میں چیف الیکشن کمیشن کے پاس دائر کیا جائے۔

اس پر تحریک انصاف کے وکلا کی ٹیم کا کہنا تھا کہ انھیں وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری نے یہیں جمع کرانے کو کہا ہے اور وہ قانون کے ماہر ہیں۔

پاکستان الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کا آصف علی زرداری کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کرنے کا فیصلہ آئین اور قانون سے مطابقت نہیں رکھتا، قانون کے مطابق یہ ریفرنس اسپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے دائر ہوتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ یہ ریفرنس کراچی میں دائر کیا جارہا ہے جبکہ چیف الیکشن کمشنر کا سیکریٹریٹ اسلام آباد میں ہے۔

قانون کے مطابق نااہلی کا ریفرنس اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس جمع ہوگا اور اسپیکر یہ ریفرنس آئین کے آرٹیکل 63 ایف کے تحت الیکش کمیشن کو بھیجے گا اور الیکشن کمیشن آرٹیکل 62 ایف کے تحت کارروائی کریگا اور اپنا فیصلہ سنانے کا مجاز ہے۔

کنور دلشاد کے مطابق الیکنش کمیشن سارا ریکارڈ چیک کرے گا فریقین کو نوٹس جاری ہوں گے، اس کے بعد اس پر دلائل دیئے جائیں ثبوت پیش ہوں گے، جن کی روشنی میں الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا اور اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل کی جاسکتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ نااہلی کا ریفرنس جمع ہونے کے 30 روز میں اسپیکر نے الیکشن کمیشن کو بھیجنا ہے اور الیکشن کمیشن نے 90 روز کے اندر اپنا فیصلہ سنانا ہے۔

الیکشن کمیشن کے قانونی مشیر کا کہنا تھا کہ ریفرینس عدالتی پیٹیشن کی طرح مخاطب کیا جائے جس پر تحریکِ انصاف کے رہنما فردوس نقوی نے کہا کہ اگر سیکریٹری الیکشن کمیشن کو مخاطب کر کے درخواست دی جائے تو کیا وہ اسے وصول کر کے اسلام آباد بھیج دیں گے۔

بعد ازاں صوبائی الیکشن کمشنر نے یہ کہتے ہوئے ریفرنس وصول کر لیا کہ وہ ان کے اصرار پر یہ وصول کر رہے ہیں اور اسے اسلام آباد بھیجا جائے گا۔

ریفرینس دائر کرنے سے قبل بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے خرم شیر زمان نے کہا تھا کہ یہ ریفرینس آئین کے آرٹیکل 62 اے کے تحت دائر کیا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا آئین کی اس شق کے تحت آصف زرداری صادق اور امین نہیں رہے، لہٰذا وہ اب رکن اسمبلی بھی نہیں رہ سکتے۔

خرم شیر زمان نے دعویٰ کیا کہ نیویارک میں اپارٹمنٹ کی دستاویزات انھوں نے خود حاصل کی ہیں۔

بقول ان کے کسی بھی امریکی شہری کے پاس اگر مطلوبہ عمارت یا فلیٹ وغیرہ کی تفصیلات ہیں تو وہ اس کے مالک کا پتہ لگا سکتا ہے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے کسی ہمدرد کے ذریعے یہ تفصیلات حاصل کی ہیں جو ثبوتوں اور آصف زرداری کے ظاہر کردہ اثاثوں کی تفصیلات کے ساتھ الیکشن کمیشن میں جمع کرائی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیے

یاد رہے کہ اس سے قبل سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو بھی اس نوعیت کے الزامات کے تحت نااہل قرار دیا گیا تھا۔

ادھر پاکستان کے بعض مقامی نشریاتی اداروں کا کہنا ہے کہ اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کے گھر پر چھاپے کے دوران بھی اہم شخصیات کی املاک کی فائلیں بھی برآمد ہوئی ہیں۔

انور مجید سابق صدر آصف زرداری کے قریبی ساتھی ہیں اور ان دنوں منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں۔ ان الزامات کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی بھی بنائی گئی تھی جس نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کی سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے تحریک انصاف کی جانب سے ریفرنس دائر کیے جانے کے اعلان پر کہا ہے کہ آصف زرداری کی کردار کشی کی آڑ میں عوام دشمن فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ عمران خان کٹھ پتلی ہیں اور ان کے سرپرست بھی بے نقاب ہو رہے ہیں۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ کل بدھ کو ہی حکومت کی جانب سے بجلی مہنگی کی گئی اور کل ہی آصف زرداری کی پراپرٹی ملی۔

آصف علی زرداری کے خلاف ریفرینس آئین اور قانون کے مطابق؟

پاکستان الیکشن کمیشن کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کا آصف علی زرداری کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرینس دائر کرنے کا فیصلہ آئین اور قانون سے مطابقت نہیں رکھتا۔

ان کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق یہ ریفرینس سپیکر قومی اسمبلی کے ذریعے دائر ہوتا ہے۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ یہ ریفرینس کراچی میں دائر کیا جا رہا ہے جبکہ چیف الیکشن کمشنر کا سیکریٹریٹ اسلام آباد میں ہے۔

قانون کے مطابق نااہلی کا ریفرینس سپیکر قومی اسمبلی کے پاس جمع ہو گا اور سپیکر یہ ریفرینس آئین کے آرٹیکل 63 ایف کے تحت الیکشن کمیشن کو بھیجے گا اور الیکشن کمیشن آرٹیکل 62 ایف کے تحت کارروائی کرے گا اور اپنا فیصلہ سنانے کا مجاز ہے جس کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل بھی کی جا سکتی ہے۔

قانون کے مطابق نااہلی کا ریفرنس جمع ہونے کے 30 روز میں سپیکر اسے الیکشن کمیشن کو بھیجنے کا پابند ہے اور الیکشن کمیشن نے اس پر 90 روز کے اندر فیصلہ سنانا ہوتا ہے۔