نواز شریف: کیا آصف زرداری اتنے بھولے تھے جو میرے بہکاوے میں آگئے

نواز شریف

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسابق وزیر اعظم نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم سمیت سندھ میں نیب کی دیگر کارروائیاں وفاقی حکومت کے کہنے پر نہیں کی گئی تھیں

سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیا آصف زرداری اتنے بھولے تھے جو میرے بہکاوے میں آگئے؟

انھوں نے یہ بات آصف علی زرداری کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہی۔

انھوں نے کہا کہ انھوں نے آصف زرداری کو اینٹ سے اینٹ بجانے کے بیان پر ناپسندیدگی کا پیغام بھیجا تھا اور زرداری کے ساتھ اگلے روز ہونے والی طے شدہ ملاقات بھی منسوخ کر دی تھی۔

’اس لیے سابق صدر کا یہ کہنا درست نہیں ہے کہ انھوں نے یہ بیان میرے کہنے پر دیا تھا۔ آصف زرداری کیا اتنے بھولے اور معصوم تھے کہ میرے ورغلانے پر بیان دے دیا؟ اگر ایسا ہی تھا تو انھوں نے تین سال تک خاموشی کیوں اختیار کیے رکھی؟'

واضح رہے کہ حال ہی میں آصف زرداری نے نواز شریف کو ان کی سوچ سے زیادہ دھوکے باز اور موقع پرست قرار دیا تھا۔

تاہم ایک روز بعد پیپلز پارٹی کے ترجمان نے کہا کہ آصف زرداری نے نواز شریف سے متعلق ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

انھوں نے سوال کیا کہ آصف زرداری نے یہ تو بتا دیا کہ وہ ماضی میں میرے اشاروں پر چل رہے تھے اب یہ بھی بتا دیں کہ آج وہ کس کے اشاروں پر کٹھ پتلی بنے ہیں۔'

نواز اور زرداری

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنحال ہی میں آصف زرداری نے نواز شریف کو ان کی سوچ سے زیادہ دھوکے باز اور موقع پرست قرار دیا تھا تاہم پی پی پی کے ترجمان نے کہا تھا کہ آصف زرداری نے نواز شریف سے متعلق ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا

نواز شریف نے کہا کہ 'آصف زرداری پہلے اگر میری زبان بول رہے تھے تو آج بہادری دکھا کر بتائیں کہ اب کس کی زبان بول رہے ہیں، بہتر ہوگا کہ آصف زرداری ذاتی الزام تراشیوں کا دفتر نہ کھولیں اور اپنی توجہ انتخابات پر مرکوز رکھتے ہوئے نوشتہ دیوار پڑھنے کی کوشش کریں۔'

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ڈاکٹر عاصم سمیت سندھ میں نیب کی دیگر کاررروائیاں وفاقی حکومت کہ کہنے پر نہیں بلکہ اس وقت کے ڈی جی رینجرز سندھ کے کہنے پر کی گئی تھیں، جن سے ان کا یا وفاقی حکومت کا کوئی تعلق نہیں تھا۔

میاں نواز شریف نے کہ اب پاکستان کے عوام اپنے ووٹ کی عزت چاہتے ہیں، عوام پس پردہ سازشوں اور تماشوں سے عاجز آ چکے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی دیہی سندھ تک سکڑ چکی ہے۔