سپریم کورٹ کا آصف علی زداری، فریال تالپور سمیت سات افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کرنے کا حکم

،تصویر کا ذریعہAFP
سپریم کورٹ نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں پاکستان کے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور سمیت سات افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ یعنی ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیا ہے۔
سپریم کورٹ نے ان افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم چند روز قبل آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی حسین لوائی کے خلاف درج ہونے والے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں ہونے والی ابتدائی تفتیش کی بنا پر دیا ہے۔
دیگر افراد میں نصیر عبداللہ، آصف علی زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید اور مصطفیٰ ذوالقرنین شامل ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور ان کی بہن صوبہ سندھ سے رواں ماہ ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
اس سے قبل وزارت داخلہ نے منی لانڈرنگ کے مقدمے میں پاکستان کے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور سمیت سات افراد کے نام ’سٹاپ لسٹ‘ میں ڈالے تھے۔
حسین لوائی کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ ایف آئی اے نے درج کیا ہے اور ایف آئی اے کے سربراہ بشیر میمن نے اس مقدمے کی تفتیش میں ہونے والی پیش رفت کے بارے میں پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں قائم سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کو آگاہ کیا تھا۔

سٹاپ لسٹ کیا ہے؟
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سیکرٹری داخلہ کے پاس یہ صوابدیدی اختیار ہے کہ وہ کسی بھی شخص کا نام ایک ماہ کے لیے سٹاپ لسٹ میں ڈال سکتے ہیں لیکن اس اقدام کی کوئی قانونی حثیت نہیں ہے۔
اس کے علاوہ پاکستان میں پروویژنل آئیڈینٹیفیکیشن لسٹ (عارضی شناختی فہرست) بھی متعارف کروائی گئی ہے جس کے تحت ایف آئی اے کے حکام کے پاس بھی اختیار ہے کہ وہ کسی بھی شخص کا نام اس لسٹ میں شامل کرسکتے ہیں۔
اس اقدام کا مقصد کسی بھی ایسے شخص کو بیرون ملک جانے سے روکنا ہے جو کسی بھی مقدمے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مطلوب ہو۔ تاہم اس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل نہ کیا گیا ہو۔
وزارت داخلہ کے پاس کسی بھی شخص کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا بھی اختیار ہے تاہم اس پر وقت کی حد مقرر نہیں ہے اور کسی بھی شخص کا نام کسی بھی وقت نکالا جاسکتا ہے۔
ٹریفک حادثے میں ملوث امریکی سفارت کار اور عمران خان کے قریبی ساتھی زلفی بخاری کے نام بھی بلیک لسٹ سے نکالنا اس کی واضح مثالیں ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے ایف آئی اے کے سربراہ بشیر میمن کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے لیے درخواست بھی دے رکھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ بشیر میمن کے بھائی کراچی کے ایک حلقے سے عام انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں اس لیے اُنھیں اس عہدے سے ہٹایا جائے۔
سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے وفاقی حکومت کو واضح ہدایات دی ہیں کہ ڈی جی ایف آئی اے کو عدالت عظمیٰ کو بتائے بغیر اُنھیں کسی دوسری جگہ ٹرانسفر نہ کیا جائے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
بشیر میمن سپریم کورٹ کے حکم پر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف اور دیگر سیاست دانوں میں فوج کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی کی طرف سے رقوم تقسیم کرنے کے بارے میں دائر مقدمے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔










