نواز شریف جیل سے ہسپتال منتقل:’ابھی اینجیو گرافی کا فیصلہ نہیں ہوا‘

نواز شریف

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنڈاکٹرز کے مطابق نواز شریف کے خون کے ٹیسٹ کا رزلٹ ابھی نارمل لیول سے کچھ زیادہ آیا ہے تاہم فی الحال اسے دوائیوں سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے اگر آگے بھی رزلٹ خراب آیا تو پھر اینجیوگرافی کی جائے گی

اسلام آباد کے پمز ہسپتال میں زیر علاج سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ڈاکٹرز کی ٹیم میں شامل ایک معالج کے مطابق ابھی ان کی اینجیوگرافی کرنے کا فیصلہ نہیں کیا گیا اور دوائیوں کے ذریعے ہی ان کی طبیعت بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

خیال رہے کہ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں سزا کاٹنے والے سابق وزیر اعظم کی طبیعت خراب ہو گئی جس کے بعد نواز شریف اپنے ذاتی کارڈیالوجسٹ کے مشورے پر اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

بی بی سی کی نامہ نگار حمیرا کنول سے گفتگو میں ہسپتال ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف کی رات بہتر گزری ہے اور ابھی ان کا معمول کا معائنہ کیا جائے گا۔

متعقلہ ڈاکٹر کے مطابق ’ان کے خون کے ٹیسٹ کا رزلٹ ابھی نارمل لیول سے کچھ زیادہ آیا ہے تاہم فی الحال اسے دوائیوں سے کنٹرول کیا جا سکتا ہے اگر آگے بھی رزلٹ خراب آیا تو پھر اینجیوگرافی کی جائے گی۔‘

انھوں نے مزید بتایا کہ ’یہ ایک عام کیس نہیں ہے ایک غیر معمولی کیس ہے، سیاسی اور انٹیلیجنس انوالمنٹ ہے۔ ہو سکتا ہے انھیں ایک ہفتے دس دن یا اس سے بھی زیادہ عرصے کے لیے ہسپتال میں رکھا جائے۔ عموماً میں عام طور پر کوئی اس طرح کا مریض آتا ہے تو اگر اینجیوگرافی نہ کرنی ہو تو پانچ دن بعد مریض کو ڈسچارج کر دیا جاتا ہے۔‘

ہسپتال ذرائع کے مطابق ہسپتال کا سیکنڈ فلور سیل ہے جہاں نواز شریف موجود ہیں۔ دیگر فلورز میں سکیورٹی کلیئرنس کے بعد عام افراد اور مریضوں کو اندر جانے کی اجازی دی جا رہی ہے۔

کمشنر اسلام آباد نے پمز ہسپتال کے سیکنڈ فلور کو سب جیل قرار دیے جانے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ وہی کارڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ ہے جسے نواز شریف کی حکومت کے دروران فواد حسن فواد نے بند کرنے کی کوشش کی تھی تاہم سپریم کورٹ نے سو موٹو نوٹس لے کر اس فیصلے کو روکا گیا تھا۔

گذشتہ روز پمز کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ نواز شریف کو کارڈیولوجی کے پرائیوٹ وارڈ میں صدرِ پاکستان کے لیے مخصوص کمرہ دیا گیا ہے۔

یہ ہسپتال کا کمرہ عام پرائیوٹ رومز کی طرح نہیں ہے بلکہ اسے ہسپتال میں 'صدارتی کمرہ' کہا جا سکتا ہے۔ اس بڑے کمرے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے ساتھ کئی دوسرے کمرے ہیں جہاں ممکنہ طور سکیورٹی عملہ قیام کرے گا۔

پمز کے کارڈیالوجی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ڈاکٹر نعیم ملک جیل میں نواز شریف کا معائنہ کیا تھا اور تجویز دی کہ نواز شریف کے خون میں کلوٹنگ ہو رہی ہے جو کہ تشویشناک بات ہے۔ نواز شریف کے دونوں بازوں میں درد بھی ہے۔

جس کے بعد آئی جی جیل خانہ جات نے ڈاکٹروں کی تجویز کے بعد نواز شریف کو ہسپتال منتقل کرنے کی اجازت مانگی۔

تاہم نواز شریف نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال منتقل ہونے سے انکار کرتے ہوئے ذاتی کاڑڈیالوجسٹ سے معائنہ کروانے پر اصرار کیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے بھی جیل میں نواز شریف کی طبیعیت خراب ہوئی تھی اور طبی ٹیم نے اُن کا معائنہ کیا تھا۔ نواز شریف کے دل کی دھڑکن میں توازن نہیں تھا اور خون میں یوریا کی مقدار بھی بڑھ گئی تھی۔

یاد رہے کہ چند سال قبل نواز شریف کی لندن میں ہارٹ سرجری ہوئی تھی۔

جیل

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشننواز شریف ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت سے ملنے والی دس برس قید کی سزا اڈیالہ جیل میں کاٹ رہے ہیں

دوسری جانب پنجاب کے نگراں وزیر داخلہ شوکت جاوید نے بتایا کہ نواز شریف کی جانب سے ذاتی معلاج سے معائنہ کرانے کی درخواست پر لاہور سے ان کے ذاتی کارڈیالوجسٹ کو اڈیالہ جیل بلوایا گیا۔ نواز شریف کے ذاتی کارڈیالوجسٹ نے ان کا معائنہ کیا اور مشورہ دیا کہ وہ پمز ہسپتال منتقل ہو جائیں۔

بی بی سی اردو کے رضا ہمدانی سے بات کرتے ہوئے شوکت جاوید نے کہا ’ذاتی معالج کے مشورے پر نواز شریف اسلام آباد میں پمز ہسپتال منتقل ہونے پر راضی ہو گئے ہیں اور کچھ دیر بعد ان کو پمز منتقل کر دیا جائے گا۔‘

ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا مریم نواز نے بھی اپنے والد سے ملاقات کی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’اتوار کا روز جیل میں سزا کاٹنے والے رشتہ دار کی ملاقات کے لیے مختص ہوتا ہے۔ اور میاں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کی آج ملاقات بھی ہوئی۔‘

انھوں نے کہا کہ حکومت سابق وزیر اعظم نواز شریف کو فوری طور پر پمز مننتقل کرنا چاہتی ہے۔

شوکت جاوید نے کہا کہ ’نواز شریف کی ای سی جی ٹھیک نہیں آئی ہے اور اُن کی صحت کے معاملے میں کوئی خطرہ مول نہیں لیا جا سکتا۔ تاہم نواز شریف نے کہا کہ وہ پہلے اپنے ذاتی کارڈیالوجسٹ سے معائنہ کرائیں گے اور پھر فیصلہ کریں گے۔‘

یاد رہے کہ ایون فیلڈ ریفرنس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو دس سال قید اور مریم نواز کو سات قید کی سزا سنائی تھی اور پاکستان واپس پہنچنے کے بعد انھیں لاہور ایئر پورٹ سے گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کیا گیا تھا۔